نئی دہلی (ایجنسی /ایف ای نیوز)تہاڑ جیل میں بند کانگریس کے سابق رکنِ پارلیمنٹ سجن کمار کا جمعرات کو 80 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق انہیں صفدرجنگ اسپتال لایا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ سجن کمار دسمبر 2018 سے جیل میں تھے۔ تقریباً 7 سال 8 ماہ جیل میں رہنے کے بعد ان کا انتقال ہوا۔ انہیں 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے متعلق دو مقدمات میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جبکہ فسادات سے ہی متعلق دو دیگر مقدمات میں انہیں بری یا ڈسچارج کردیا گیا تھا۔
31اکتوبر 1984: وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد یکم نومبر سے دہلی سمیت ملک کے کئی حصوں میں سکھ مخالف فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ دہلی میں تقریباً 2,700 جبکہ پورے ملک میں تقریباً 3,500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
مئی 2000: جی ٹی نانوتی کمیشن قائم کیا گیا۔ اس کی سفارش پر 24 اکتوبر 2005 کو سی بی آئی نے مقدمہ درج کیا۔ اس وقت سجن کمار رکنِ پارلیمنٹ تھے۔ انہیں فسادات بھڑکانے اور سکھوں کے قتل کے معاملے میں ملزم بنایا گیا۔
2010/2013: ٹرائل کورٹ نے سجن کمار سمیت کئی ملزمان کو طلب کیا۔ 2013 میں سجن کمار کو بری کیے جانے کے بعد سی بی آئی نے ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی۔17 دسمبر 2018: دہلی ہائی کورٹ نے پانچ سکھوں کے قتل کے معاملے میں سجن کمار کو عمر قید کی سزا سنائی۔
2005: فسادات کے 21 سال بعد اُس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے پارلیمنٹ میں معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ اس واقعے سے ان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔سجن کمار کے خلاف چار مقدمات20 اگست 2026 تک سجن کمار راج نگر اور سرسوتی وہار سے متعلق دو مقدمات میں مجرم قرار دیے جاچکے تھے اور انہیں عمر قید کی سزا ملی تھی، جبکہ فسادات سے متعلق دیگر دو مقدمات میں انہیں بری یا ڈسچارج کردیا گیا تھا۔
تہاڑ جیل میں بند کانگریس کے سابق رکنِ پارلیمنٹ سجن کمار کا انتقال














Leave a Reply