نئی دہلی (ایجنسی /ایف ای نیوز)جَنتر منتر پر پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کی کارروائی کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کی جانچ کے لیے سپریم کورٹ نے پانچ رکنی ہائی پاور کمیٹی تشکیل دی ہے۔ سپریم کورٹ نے جمعرات کو کمیٹی کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا۔کمیٹی کے چیئرمین سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس آر سبھاش ریڈی ہوں گے۔ کمیٹی میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس روی شنکر جھا، دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس شالندر کور، سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر رشی کمار شکلا اور میگھالیہ کے ریٹائرڈ ڈی جی پی ڈاکٹر ایل آر بشنوئی شامل ہیں۔سپریم کورٹ نے 18 اگست کو ہونے والی سماعت کے دوران پولیس کارروائی کی جانچ کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ مظاہرین نے پولیس پر پیلٹ گن استعمال کرنے اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی جیسے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔36 دن تک جاری رہا جَنتر منتر پر احتجاج ،نیٹ پیپر لیک اور امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کا جَنتر منتر پر احتجاج 36 دن تک جاری رہا تھا۔ یہ احتجاج 25 جولائی کو وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد ختم ہوا تھا۔ادھر 18 اگست کو سماعت کے دوران دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ 20 جولائی کو کیا گیا پارلیمنٹ مارچ غیر قانونی تھا اور اس کے لیے اجازت نہیں لی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق جَنتر منتر کے احتجاج میں کچھ ہسٹری شیٹرز بھی شامل ہوگئے تھے۔پولیس نے اپنے حلف نامے میں دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ مارچ کے دوران مظاہرین نے بیریکیڈ توڑ دیے اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ مارپیٹ کی۔ پولیس کے مطابق حالات کو قابو میں کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑا، تاہم مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال نہیں کی گئی۔دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر سچن شرما نے عدالت میں حلف نامہ داخل کرکے یہ معلومات دی تھیں۔ یہ حلف نامہ پولیس کی مبینہ زیادتی کی عدالت کی نگرانی میں جانچ کرانے کا مطالبہ کرنے والی درخواستوں کے جواب میں داخل کیا گیا تھا۔اب سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی پانچ رکنی کمیٹی 20 جولائی کے واقعے، پولیس کارروائی اور مظاہرین کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی جانچ کرے گی۔
جَنتر منتر پر پولیس کارروائی کی جانچ کیلئے سپریم کورٹ نے ہائی پاور کمیٹی تشکیل دی














Leave a Reply