نئی دہلی (ایجنسی/ایف اے نیوز): دہلی میں سوائن فلو (H1N1) کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے منگل کو ہنگامی جائزہ اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں محکمہ صحت، میونسپل کارپوریشن آف دہلی (MCD)، نئی دہلی میونسپل کونسل (NDMC) اور دہلی کینٹونمنٹ بورڈ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
دہلی کے وزیر صحت پنکج کمار سنگھ نے کہا کہ دارالحکومت میں صورتحال فی الحال قابو میں ہے اور اسپتالوں میں ڈاکٹروں، طبی عملے اور ضروری ادویات کی مناسب دستیابی ہے۔
وزیر صحت کے مطابق، رواں سال دہلی میں اب تک انفلوئنزا کے تقریباً 3,000 کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں 2,308 کیس H1N1 یعنی سوائن فلو کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریض اسپتال پہنچ رہے ہیں، لیکن ضروری علاج کے بعد انہیں گھر بھیجا جا رہا ہے، اس لیے لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دہلی کے اسپتالوں میں H1N1 کے مریضوں کے لیے آئسولیشن وارڈ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ اگر کسی مریض کو اسپتال میں بستر نہ ملنے کی شکایت سامنے آتی ہے تو متعلقہ اسپتال کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
وزیر صحت نے کہا کہ ڈاکٹروں، طبی عملے یا ادویات کی کوئی کمی نہیں ہے اور حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ اجلاس میں H1N1 کے موجودہ حالات کے ساتھ اسپتالوں کی تیاری اور مستقبل میں کیسز بڑھنے کی صورت میں کیے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
دریں اثنا، دہلی کے محکمہ تعلیم نے دارالحکومت کے تمام سرکاری، سرکاری امداد یافتہ اور تسلیم شدہ نجی اسکولوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اسکولوں کو طلبہ اور عملے کو ماسک پہننے، کھانستے یا چھینکتے وقت ناک اور منہ ڈھانپنے اور استعمال شدہ ٹشوز کو کوڑے دان میں ڈالنے کی ترغیب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ باقاعدگی سے ہاتھ دھونے، خاص طور پر کھانے سے پہلے اور کھانسنے یا چھینکنے کے بعد ہاتھ صاف کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
سانس سے متعلق علامات والے افراد سے مناسب فاصلہ رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ اسکولوں کو کلاس رومز، مشترکہ مقامات اور بار بار چھوئی جانے والی سطحوں کی باقاعدگی سے صفائی کرنے کے ساتھ طلبہ کو مناسب مقدار میں پانی پینے اور غذائیت سے بھرپور خوراک لینے کی ترغیب دینے کو کہا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم نے والدین کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے بچوں کو اینٹی بایوٹک دوا نہ دیں۔

















Leave a Reply