Advertisement

سپریم کورٹ نے کاکروچ جنتا پارٹی مظاہرے سے متعلق تمام ایف آئی آر منسوخ کردیں

نئی دہلی(ایجنسی /ایف ای نیوز) سپریم کورٹ نے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے مظاہرے سے متعلق ملک بھر میں درج تمام ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ مقدمات 20 سے 25 جولائی کے درمیان جنتر منتر پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد درج کیے گئے تھے۔عدالت نے واضح کیا کہ جن مظاہرین کا پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ ہے، ان کے خلاف فوجداری کارروائی جاری رہے گی۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے دیا۔عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر منسوخ کرنے کا فیصلہ صرف اس معاملے کے مخصوص حالات کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے، اس لیے اسے دوسرے مقدمات کے لیے نظیر نہیں سمجھا جائے گا۔عدالت کے فیصلے کے بعد CJP نے 5 ستمبر کو نکالا جانے والا اپنا مجوزہ مارچ واپس لے لیا۔ CJP کے ترجمان سورو داس نے عدالت میں تنظیم کی جانب سے کہا کہ حکومت کی یقین دہانی اور سپریم کورٹ کے حکم کے بعد مارچ منسوخ کیا جا رہا ہے۔جسٹس سوریہ کانت نے CJP کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے ایک مثبت ماحول پیدا ہوا ہے، جو نوجوانوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔یہ فیصلہ دہلی پولیس کی جانب سے دائر ایک عبوری درخواست پر سنایا گیا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ CJP کے احتجاج سے متعلق 13 ایف آئی آر پر مزید کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔CJP نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو طلبہ کی جیت قرار دیا۔ سورو داس نے کہا کہ حکومت سے بات چیت رک جانے کے بعد تنظیم کو خدشہ تھا کہ اس کے ساتھ وعدہ خلافی کی جا رہی ہے، اسی لیے 5 ستمبر کو مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔ انہوں نے عدالت کے فیصلے کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے