Advertisement

خاتون صحافیوں کیساتھ پولس بربریت شرمناک ، قصوروار اہلکاروں کو فوری معطل کیا جائے: ہدیٰ زریوالا

نئی دہلی (ایف ای نیوز ) دہلی میں پچھلے3ستمبر کو دو خاتون صحافیوں کے ساتھ د ہلی پولیس کی مبینہ بدسلوکی اور تھانے میں مار پیٹ کے معاملے پر صحافتی حلقوں میں سخت ناراضگی اور برہمی ہے ۔پولس کی ذمہ داریوں ، کام کے طور طریقوں نہ صرف سوال کھڑے ہو رہے ہیں بلکہ محکمہ پرسنگین الزامات لگائے جارہے ہیں ۔خاص کر صحافیوں کی مذہبی شناختجان کراضافی بدسلوکی کے رجحان کو محکمہ ،جمہوریت اورملک کی سالمیت کے خطرناک بتایا جارہا ہے ۔شاہین اور نفیسہ کے ساتھ ساکیت پولیس تھانے میں پولیس بربریت کو بین الاقوامی صحافی اور سیاسی تجزیہ کار  ہدیٰ زریوالا نےجمہوریت میں صحافت کا گلا گھونٹنے کے مترادف قرار دیا ہے ۔اپنے تاثرات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولس نے ابھی تک ملزم پولس اہلکاروںکے خلاف ایف آئی آر تک درج نہیں کی ہے ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاکی وردی والوں کی غنڈہ گردی کے پیچھے ان کے آقائوں کی پشت پناہی ضرورکار رفرما ہے ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سے نہتی دو خاتون صحافیوں کو تھانے میں بری طرح پیٹا گیا ان کا برا حشرکیا گیا وہ ہوش اڑا دینے والا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس سے بڑا غنڈآج کے وقت میں دلی میں کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’ اس معاملے پر جب ساکیت تھانے میں میڈیا پرسن ،اپوزیش کے نمائندوں،سوشل ایکٹوسٹ اور سماجی کارکنان نے سوال کیا ، ایف آئی آر درج  اور تھانے کے ایس ایچ او سے بات کرنی چاہی تو وہ تھانے میں موجود نہیں تھے ۔ تمام رات ہم لوگ تھانے میں بیٹھ کر ایس ایچ اوکے آنے کا انتظار کرتے رہے لیکن وہ غائب رہے۔ اگر ملک کے دار الحکومت کا یہ حال ہے تو دور دراز کے علاقوں اور چھوٹے موٹے شہروں میں کیا ہوتا ہوگا ؟کوئی جواب دے کہ ایس ایچ او ساکیت تھانہ، دم دبا کرکیوں بھاگ گئے‘‘۔ ہدیٰ زریوالا نے پولس کی اس بربریت کے لئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر اعظم مودی کوذمہ دار گردانتے ہو کہا کہ جس طرح سے نفیسہ خان اور شاہین کو باقاعدہ مذہبی شناختکی بنیاد کمرے میں بند کر کے،(یہ کہہ کر کہ’’ تو مسلمان ہے تو دو ڈنڈے اور مارونگی‘‘) لاتے گھو سے اورنہ جانے کیا کیا مارا گیا ، پولیس کی صریح غنڈہ گردی کوعیاں کرتا ہے۔ جس کی مکمل طرح سےسرپرستی اور پشت پناہی کی جارہی ہے ۔یہ شرمناک اور قابل مذمتہے ۔محترمہ ہدیٰ نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ عدالت اس معاملے پراز خود نوٹس لے اور قصور وار اہلکاروں کو معطل کر کے ان پر مقدمات لگائے،تاکہ آئندہ پھر کوئی صحافی پولیس کی غنڈہ گردی اور مذہبی نفرت و تعصب کا شکار نہ ہو۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے