Advertisement

سانحہ مسجد سہارنپور: تیر واحد سے لاتعداد شکار

سید اجمل حسین

سہارنپور کی صد سالہ قدیم مسجد کا راتوں رات انہدام ایک تیرسے لا تعداد شکار جیسی انوکھی مثال سمجھی جانا چاہئے۔ دراصل اس وقت سوشل میڈیا میں مرکز میں مودی ۔ شاہ کی حکمرانی اور اتر پردیش میں یوگی کی بے لگام حکومت کی الٹی گنتی کے آغاز اور کانگریس کی قیادت میں حکومت سازی اور راہل۔ اکھلیش کی مشترکہ حکمرانی کی گردان نے مرکزی و بی جے پی قیادت والی صوبائی حکومتوں میں قبل از وقت خوف و ہراس اور اندیشہ ہائے دور دراز کا ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ مودی اور بھاجپائی قیادت والی صوبائی اور مرکزی حکومت نے عدالتوں کے جبری تعاون سے ایسے اقدامات کرنے شروع کر دیے ہیں جن سے جہاں ایک طرف ووٹ صف بندی ہو جائے وہیں انتخابی بارشوں میں آرایس ایس چھتر سایہ میں ووٹوں کی تقسیم ایسی ہو کہ کٹر ہندو ووٹ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہو اور نام نہاد سیکولر ہندو اور بالخصوص مسلم ووٹ متحد نہ ہو سکے۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہو سکتا تھا کہ کسی مسلم اکثریت والے شہر میں کوئی معروف مدرسہ یا مسجد کو صفحہ ہستی سے مٹادیا جاتا۔ دارالعلوم دیوبند پر یلغار قبل از وقت ہوتی لیکن سہارنپور کی 100 سال سے زیادہ عمر والی مسجد ضرور نرم چارہ بن سکتی تھی۔ اس کے لیے راتوں رات منصوبہ بندی کی گئی اور بجرنگیوں کے ایک نہایت بے رحم و بے لگام گروہ کو یہ ٹاسک دیا گیا اور اس نے عدالتی کارروائی سے لے کر انتظامیہ کی کارروائی تک ایسی تیزی سے کام کیا کہ مودی – شاہ جوڑی اور یوگی حکومت میں خوشی کی لہر اور حزب اختلاف بالخصوص کانگریس اور سماجوادی میں بوکھلاہٹ پیدا ہوگئی کیونکہ مسجد منہدم کیے جانے کی ان دونوں پارٹیوں کی قیادت کھل کر مخالفت نہیں کر سکتی تھی، کیونکہ اس سے ان دونوں پارٹیوں کو ہندو ووٹ ہاتھ سے نکل جانے کا خطرہ تھا۔ مسلمانوں کو اس مسجد کے انہدام کے خلاف کسی پارٹی کا کھل کر یوگی اور مودی حکومت کو للکارنے کا انتظار تھا۔ ظاہر ہے اس کے لیے کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سے بہتر کون ہو سکتی تھی۔ کیونکہ اسد کے دھاڑتے ہی مسلمانوں میں ایک جوش پیدا ہو جاتا اور وہ اے آئی ایم آئی ایم سے زیادہ اسدالدین اویسی کے عاشق ہو جاتے اور عشق میں سب اندھ بھکت ہو جاتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اویسی یا ان کی مہمان پارٹی کو کچھ کھونا نہیں بلکہ جو مل جائے وہ انعام کی شکل میں وصول کرنا تھا۔ اور انہدام مسجد اسی منصوبہ یا خواب کی تعبیر تھا جو سچ ثابت ہوئی ۔ آج یو پی بھر میں اویسی کا ڈنکا بج رہا ہے۔
اس وقت حالات ایسے ہیں کہ مسلم جماعتوں تنظیموں اورخود ساختہ نام نہاد رہنماؤں نے اپنے اپنے پر تعیش دفاتر ور ہائش گاہوں پر پریس کانفرنس ، ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا کے توسط سے بس دل کی بھڑاس نکالنا اور مسلمانوں کو جتانا شروع کر رکھا ہے کہ ابھی ان کی غیرت و حمیت زندہ ہے اور وہ مساجد و مدارس کے انہدام کی پرزور مذمت کرتے رہیں گے لیکن اس سے آگے نہیں بڑھیں گے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ وہ اپنی بتائی گئی حد سے رتی بھر بھی پھلانگ کر ای ڈی، سی بی آئی و محکمہ انکم ٹیکس کو پیچھے لگوائیں اور بینک کھاتوں کو منجمد کرانے کا خطرہ مول لیں۔ اس لیے نہ تو عدالت کا رخ کریں گے اور نہ ہی بیان بازی بالفاظ دیگر مذمتی بیان جاری کرنے کی مقرر کردہ حد سے آگے بڑھیں گے۔
(مضمون نگار روزنام قومی آواز کے سابق چیف سب ایڈیٹر اور لندن کے نیوز پورٹل اردو تہذیب ڈاٹ کوم کے سابق ایڈیٹر ہیں )

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے