
عبدالغفارصدیقی
9897565066
نصاب تعلیم سے مراد وہ کتابیں ہیں جوعلم میں اضافہ کے لیے طلبہ کو پڑھائی جاتی ہیں۔ اس میں وہ تعلیمی و ثقافتی اور ہم نصابی سرگرمیاں بھی شامل ہیں جو طلبہ کی خوابیدہ صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں معاون ہوتی ہیں۔سرکاری تعلیمی اداروں میں حکومت سے منظور شدہ بورڈ ہی ان کتابوں اور سرگرمیوں کا تعین کرتے ہیں۔ پرائیویٹ اسکولوں اور مدارس کا نصاب تعلیم ان کی اپنی مجازکمیٹیاں طے کرتی ہیں۔سرکاری نصاب تعلیم سرکار کی پالیسی کے مطابق ہوتا ہے۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں جو کتابیں منتخب کی جاتی ہیں اس میں اس پہلو کا خیال تو کم رکھا جاتا ہے کہ بچہ اس سے کیا سیکھے گا؟اس کے عقائد و اخلاق پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟بلکہ زیادہ خیال اس بات کا رکھا جاتا ہے کہ اس سے اسکول کو کتنامالی فائدہ ہوگا؟کمیشن خوری کے نتیجہ میں بیشتر ادارے تعلیمی مواد پر توجہ ہی نہیں کرتے۔نتیجتاً اشاعتی اداروں کو بھی مواد تعلیم سے کوئی غرض نہیں رہی،وہ بھی ادھر ادھر سے مواد اکٹھا کرکے کتاب تیارکردیتے ہیں۔اس پر قیمتیں بھی اس طرح درج کی جاتی ہیں کہ اسکولوں اور دوکانداروں کو خاطر خواہ کمیشن دیا جاسکے۔ مدارس میں چونکہ مفت تعلیم کا رواج ہے اس لیے وہاں نصاب تعلیم متعین کرتے وقت ذمہ داران کے پیش نظر مالی منفعت نہیں ہوتی بلکہ وہ تعلیمی مواد کو دیکھ کرکتابیں منتخب کرتے ہیں۔البتہ زیادہ ترذ مہ داران مدارس شخصیت پرستی اور قدامت پرستی کا شکار ہیں اس لیے اپنے اسلاف کے ذریعہ متعین کردہ نصاب پڑھاتے ہیں۔جب کہ زمانہ ہر دن ترقی کررہا ہے،علم پروان چڑھ رہا ہے،سماج کی ضروریات تبدیل ہورہی ہیں مگر اہل مدارس وہی چار، پانچ سو سال پرانے نصاب تعلیم کے قائل اور اسی پر قائم ہیں۔زمانے کی تبدیلی اور موجودہ سماج کی ضروریات کے مطابق نصاب تعلیم میں تبدیلی کی ہمت نہیں کررہے ہیں۔ نصاب تعلیم ضرورت اور زمانے سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے فارغین مدارس جب عملی دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو ان کے سامنے بہت سی مشکلات کھڑی ہوجاتی ہیں۔ وہ سرکاری دفاتر میں اپنے کام کے لیے بھی دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں،جس سے ان کے اندر احساس کمتری پیدا ہوجاتا ہے۔مدرسوں میں آٹھ،دس سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی وہ بینک،ڈاک خانہ،دیگر سرکاری کاغذات پُر کرنے اورکسی سرکاری آفیسر سے بات کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔بلاشبہ وہ دینی موضوعات پر تقریریں کرسکتے ہیں،قرآن کو خوش الحانی سے پڑھ سکتے ہیں،فقہی مسائل بتاسکتے ہیں،لیکن ایسے سماج اور معاشرے میں جہاں مسلمان اقلیت میں رہتے ہوں،جہاں قدم قدم پر ان کو برادران وطن سے سابقہ پیش آتا ہووہ بے وقعت (Irrelevant) ہوکر رہ جاتے ہیں۔ضرورت ہے کہ اہل مدارس اپنے نصاب تعلیم کو اس قابل بنائیں کہ ان کے فارغین اپنی عملی زندگی میں باعزت اور موثرزندگی گزارسکیں۔



Leave a Reply