
عبدالغفارصدیقی۔9897565066
مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کی شکست اور اس کے بعد رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں نے ملک کے مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کو تشویش اور مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔ بہت سے لوگوں کو محسوس ہو رہا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ سیاست کا غلبہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور اس کے مقابلے میں سیکولر اور جمہوری قوتیں کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔گزشتہ چند برسوں کے دوران ماب لنچنگ کے واقعات، گاؤکشی کے الزامات، مدارس و مساجد کے انہدام، نفرت انگیز تقاریر،اعلیٰ مناصب پر براجمان لوگوں کی دھمکی آمیز زبان اور قانون کے نفاذ میں مبینہ امتیازی رویوں نے مسلمانوں کے ذہن و دل پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس پس منظر میں جب بھی کوئی ایسا سیاسی واقعہ پیش آتا ہے جو فرقہ وارانہ قوتوں کے مزید استحکام کا تاثر دیتا ہو تو مایوسی اور اضطراب کی فضا مزید گہری ہو جاتی ہے۔ مغربی بنگال کے حالیہ سیاسی حالات نے بھی اسی احساس کو تقویت دی ہے۔ اس مایوسی کا پہلا مظہریا نتیجہ خوف اور عدمِ تحفظ کا بڑھتا ہوا احساس ہے۔ معمولی واقعات بھی غیر معمولی خوف پیدا کر دیتے ہیں۔ بعض علاقوں میں مسلمان اپنے مذہبی تشخص کے اظہار میں بھی احتیاط برتنے لگے ہیں۔ یہ کیفیت کسی بھی زندہ قوم کے لیے تشویش کا باعث ہے۔مایوسی کا دوسرا مظہر بے عملی اور دست برداری ہے۔ جب کسی قوم کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کی کوششیں بے سود ہیں اور حالات کبھی تبدیل نہیں ہوں گے تو وہ جدوجہد کا راستہ چھوڑ دیتی ہے۔اس مایوسی کا ایک اظہار باہمی بداعتمادی کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے لگتے ہیں۔ سیاسی قیادت، مذہبی قیادت، سماجی تنظیموں اور دانشوروں پر تنقید کا سلسلہ بڑھ جاتا ہے۔ خود احتسابی کے بجائے الزام تراشی کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً قوم کی اجتماعی قوت منتشر ہو جاتی ہے۔سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض اوقات یہ مایوسی اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کے وعدوں کے بارے میں بھی کمزوری پیدا کر دیتی ہے۔
موجودہ مایوسی کے اسباب میں سب سے نمایاں سبب ملک کا بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ ہے۔ جمہوری نظام میں سیاسی قوت اور عوامی تائید کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ جب کسی مخصوص فکر یا جماعت کو مسلسل انتخابی کامیابیاں حاصل ہوں اور اس کے مقابلے میں دوسری سیاسی قوتیں کمزور ہوتی نظر آئیں تو فطری طور پر ان طبقات میں تشویش پیدا ہوتی ہے جو اپنے مفادات، حقوق یا مستقبل کو ان سیاسی تبدیلیوں سے وابستہ سمجھتے ہیں۔دراصل مسلمانوں نے طویل عرصے تک اپنے مسائل کے حل کے لیے بڑی حد تک سیاسی جماعتوں پر انحصار کیا۔ چنانچہ جب وہ جماعتیں کمزور ہوئیں یا عوامی اعتماد کھونے لگیں تو مسلمانوں کے ایک طبقے نے اسے اپنی قوت کے زوال سے تعبیر کیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی ملت کی طاقت صرف سیاسی جماعتوں سے وابستہ نہیں ہوتی۔ اس کی اصل قوت اس کے ایمان، کردار، تعلیم، معاشی استحکام، سماجی تنظیم اور عوامی خدمت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔اس مایوسی کو بڑھانے میں سیاسی قیادت کے بحران کا بھی دخل ہے۔ مسلم معاشرے کو ایسی قیادت کم میسر آ رہی ہے جو حالات کا صحیح تجزیہ کر سکے، قوم کو اعتماد دے سکے اور وقتی جذبات کے بجائے طویل المدت منصوبہ بندی کی طرف رہنمائی کرے۔ مایوسی کے اسباب میں ایک اہم سبب ملک کا بدلتا ہوا سماجی ماحول اور میڈیا کے ذریعے اس کی تشکیل ہے۔ کسی بھی معاشرے میں افراد کے خیالات اور احساسات صرف زمینی حقائق سے نہیں بنتے بلکہ ان حقائق کی جو تصویر ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے، وہ بھی ان کی ذہنی کیفیت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ آج کا دور ذرائع ابلاغ کا دور ہے۔ اخبار، ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم لوگوں کی سوچ، ترجیحات اور ردِّعمل کو بڑی حد تک متعین کرتے ہیں۔گزشتہ چند برسوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے مختلف واقعات، نفرت انگیز بیانات، ماب لنچنگ کے حادثات، مذہبی مقامات کے تنازعات اور مسلمانوں سے متعلق بعض متنازع خبروں کو جس انداز سے پیش کیا گیا، اس نے مسلمانوں کے اندر بے چینی اور اضطراب میں اضافہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس کیفیت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس پلیٹ فارم نے جہاں معلومات تک رسائی آسان بنائی ہے، وہیں افواہوں، ادھوری خبروں اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ کو بھی بے حد تیز کر دیا ہے۔ اب ایک واقعہ چند منٹوں میں پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ اکثر لوگ خبر کی تحقیق کے بجائے فوراً اس پر ردِّعمل ظاہر کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض اوقات ایک محدود یا مقامی واقعہ بھی اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ گویا پورا ملک اسی کیفیت میں مبتلا ہے۔ اس کا ایک نقصان یہ ہوا ہے کہ لوگوں نے اپنے گرد پیش آنے والے مثبت واقعات کو نظر انداز کرکے صرف منفی خبروں پر توجہ مرکوز کر لی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں ہندو مسلم یکجہتی کی مثالیں، انصاف پسند شہریوں کی آوازیں، عدالتوں کے بعض مثبت فیصلے، تعلیمی اور معاشی میدانوں میں مسلمانوں کی کامیابیاں اور سماجی خدمت کے بے شمار واقعات خبروں کا حصہ کم بنتے ہیں، جبکہ منفی اور سنسنی خیز واقعات زیادہ نمایاں کیے جاتے ہیں۔ اس عدم توازن کے نتیجے میں صورت حال کی ایک تاریک تصویر ذہنوں میں نقش ہو جاتی ہے۔
ملت کے اندر انتشار اور باہمی اختلافات بھی مایوسی کو بڑھاتے ہیں۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے میں ہوتا ہے، لیکن جب یہ اختلاف تعاون اور خیر خواہی کے بجائے باہمی بدگمانی اور الزام تراشی کی شکل اختیار کر لے تو اجتماعی قوت کمزور پڑ جاتی ہے۔ افسوس ہے کہ بعض اوقات معمولی مسائل پر بھی ہمارے درمیان ایسی کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے کہ بڑے اور اہم مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے اندرجذباتی ردِّعمل کی نفسیات بھی فروغ پاتی جا رہی ہے۔ ہم طویل المدت منصوبہ بندی کے بجائے وقتی واقعات کے زیر اثر فیصلے کرتے ہیں۔ ایک خبر آتی ہے تو ہم ضرورت سے زیادہ پرجوش ہو جاتے ہیں اور دوسری خبر آتی ہے تو شدید مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں مستقل مزاجی اور استقامت متاثر ہوتی ہے، حالانکہ بڑی تبدیلیاں جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل اور منظم جدوجہد سے آتی ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے بڑے طبقے میں دینی شعور اور ایمان کی حرارت کمزور پڑتی محسوس ہوتی ہے۔مسلمانوں نے اپنی حقیقی حیثیت اور منصبی ذمہ داری کو فراموش کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو محض ایک مذہبی اقلیت، ایک سیاسی گروہ یا ایک سماجی طبقے کی حیثیت سے دیکھنا شروع کر دیا ہے، حالانکہ اسلام مسلمانوں کو اس سے کہیں بلند مقام عطا کرتا ہے۔قرآن کے مطابق مسلمان محض ایک قوم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کے علمبردار ہیں۔ انہیں انسانیت کی رہنمائی کے لیے برپا کیا گیا ہے۔ ان کا اصل تعارف یہ نہیں کہ وہ تعداد میں کتنے ہیں یا ان کے پاس سیاسی اقتدار کتنا ہے، بلکہ ان کا اصل تعارف یہ ہے کہ وہ اللہ کے دین کے گواہ اور اس کے آخری پیغام کے امین ہیں۔ ان کے سپرد یہ ذمہ داری کی گئی ہے کہ وہ انسانوں تک حق کا پیغام پہنچائیں، خیر کی دعوت دیں، بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں۔جب مسلمان اپنی اس داعیانہ حیثیت کو بھلا دیتے ہیں تو ان کی نگاہیں اپنے منصب کے بجائے اپنے مسائل پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ دوسروں نے انہیں کیا دیا اور ان سے کیا چھین لیا، جبکہ ایک داعی کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ وہ انسانیت کو کیا دے سکتا ہے۔ پہلی سوچ مایوسی کو جنم دیتی ہے اور دوسری سوچ امید، عزم اور حرکت پیدا کرتی ہے۔
مسلمانوں اور دوسری اقوام کے درمیان بنیادی فرق یہی ہے کہ دوسری قومیں اپنی قومی، نسلی یا جغرافیائی شناخت کی بنیاد پر زندہ رہتی ہیں، جبکہ مسلمانوں کی زندگی کا مقصد ایک عظیم دعوتی مشن سے وابستہ ہے۔ ایک داعی کے لیے حالات کی سختی کوئی نئی چیز نہیں۔
اسلام مایوسی کو ایک منفی اور تباہ کن ذہنی کیفیت قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید کی پوری تعلیم امید، اعتماد اور حسنِ ظن سے عبارت ہے۔ ایک مسلمان مشکلات، مصائب اور آزمائشوں سے دوچار ہو سکتا ہے، لیکن وہ مایوسی کا شکار نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کا تعلق اس ذات سے ہے جس کے خزانوں میں کبھی کمی نہیں آتی اور جس کی قدرت کے سامنے کوئی رکاوٹ مستقل حیثیت نہیں رکھتی۔قرآن مجید میں حضرت یعقوب ؑاپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”اے میرے بیٹو! جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کی خبر لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ کی رحمت سے صرف کافر لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں۔“ (یوسف:87)اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”کہہ دیجیے: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔“(الزمر:53)اگر گناہوں میں ڈوبا ہوا انسان بھی اللہ کی رحمت سے مایوس ہونے کا حق نہیں رکھتا تو حق و انصاف کی جدوجہد کرنے والی ایک پوری امت کیسے مایوس ہو سکتی ہے؟ اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ آزمائشیں ناکامی کی علامت نہیں ہوتیں۔ بہت سی آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تربیت، تطہیر اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ انبیائے کرام ؑکی زندگیاں اس حقیقت کی روشن مثال ہیں۔ اس لیے کسی مشکل صورت حال کو دیکھ کر یہ سمجھ لینا کہ اب کامیابی کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں، اسلامی مزاج کے خلاف ہے۔اسلام کا مطلوب رویہ یہ ہے کہ بندہ حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے، اپنی کمزوریوں کی اصلاح کرے، جائز اسباب اختیار کرے، لیکن اپنے دل کو مایوسی سے محفوظ رکھے۔ کیونکہ مایوسی عمل کو مفلوج کرتی ہے، جبکہ امید انسان کو جدوجہد پر آمادہ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کا پیغام خوف نہیں بلکہ امید، شکست نہیں بلکہ استقامت، اور مایوسی نہیں بلکہ اعتماد و یقین ہے۔ مایوسی کا سب سے مؤثر علاج ایمان و یقین کی تجدید ہے۔ مایوسی دراصل دل کی ایک کیفیت ہے اور دل کی بیماری کا علاج بھی دل ہی کی اصلاح میں مضمر ہے۔ جب بندہ اپنے رب کی قدرت، حکمت اور رحمت پر کامل یقین رکھتا ہو تو بڑے سے بڑا طوفان بھی اس کے حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس جب اللہ تعالیٰ سے تعلق کمزور پڑ جائے تو معمولی مشکلات بھی ناقابلِ برداشت محسوس ہونے لگتی ہیں۔اس کے ساتھ مسلمانوں کو اپنے منصبی شعور کو بھی تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ محض ایک اقلیت نہیں بلکہ ایک دعوتی امت ہیں۔ ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے کارکن یا کسی نسلی گروہ کے فرد کی نہیں بلکہ اللہ کے دین کے داعی اور رسول اکرم ﷺ کے وارث کی ہے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کی ایک بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ بیرونی خطرات اور سیاسی مسائل پر مرکوز کر دیتے ہیں، جبکہ ان خرابیوں پر کم غور کرتے ہیں جو ان کے اپنے گھروں، خاندانوں اور معاشرے میں سرایت کر چکی ہیں۔ تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے ایک طبقے میں نشہ آور اشیا کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اسی طرح بے حیائی، اخلاقی بے راہ روی اور خاندانی نظام کی کمزوری کے آثار بھی نظر آتے ہیں۔ بعض مقامات پر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے رویوں میں ایسی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں جو خاندانوں کے لیے پریشانی کا سبب بن رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کے زوال کا آغاز باہر سے نہیں بلکہ اندر سے ہوتا ہے۔ جب اخلاق کمزور پڑ جائیں، کردار میں انحطاط پیدا ہو جائے اور دینی شعور ماند پڑ جائے تو بیرونی چیلنج زیادہ خطرناک محسوس ہونے لگتے ہیں۔اس لیے مسلمانوں کو اپنے اخلاق و کردار پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد اخلاق کی تکمیل تھا۔ ایک مسلمان کی زندگی ایسی ہونی چاہیے کہ اس کے پڑوسی، ساتھی اور ہم وطن اسے اپنے لیے رحمت اور خیر خواہی کا ذریعہ سمجھیں۔ دعوت کا سب سے مؤثر ذریعہ بلند اخلاق ہے۔ اگر ہمارے معاملات، کاروبار، وعدے، معاشرت اور باہمی تعلقات اسلامی تعلیمات کا آئینہ بن جائیں تو بہت سی غلط فہمیاں خود بخود دور ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ فضول رسم و رواج، اسراف اور لایعنی معاشرتی بوجھ سے نجات بھی ضروری ہے۔ شادی بیاہ، تقریبات اور دیگر مواقع پر بے جا اخراجات نے مسلمانوں کو معاشی اور سماجی دونوں اعتبار سے نقصان پہنچایا ہے۔ جو قوم اپنی توانائیاں غیر ضروری رسوم پر صرف کرے، وہ تعلیمی، فکری اور دعوتی میدان میں پیچھے رہ جاتی ہے۔ ان حالات میں مساجد کے ائمہ کی ذمہ داری غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ امام کا منصب محض دو رکعت نماز پڑھانے تک محدود نہیں ہے۔ وہ اپنے علاقے کا دینی رہنما، مربی اور مصلح بھی ہے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حلقہ اثر میں رہنے والے لوگوں کے حالات سے واقف ہو، ان کی دینی اور اخلاقی اصلاح کی فکر کرے۔ اگر مسجد آباد ہو لیکن اس کے اردگرد اخلاقی اور دینی زوال مسلسل بڑھتا رہے تو اس صورت حال پر ائمہ مساجد کوسنجیدگی سے غور کرناچاہئے،وہ اپنے منصب کے مطابق عند اللہ مسؤل ہیں۔ اسی طرح ملی اور دینی تنظیموں کی ذمہ داری بھی بہت بڑی ہے۔ قوم ان پر اعتماد کرتی ہے، انہیں اپنے وسائل اور عطیات فراہم کرتی ہے اور ان سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ ملت کی دینی، تعلیمی، اخلاقی اور سماجی ترقی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گی۔ ان اداروں کا اصل معیار یہ نہیں کہ ان کے دفاتر کتنے وسیع ہیں یا ان کی سرگرمیوں کی تعداد کتنی ہے، بلکہ اصل معیار یہ ہے کہ ان کی کوششوں سے معاشرے میں کتنی اصلاح پیدا ہو رہی ہے، نئی نسل کتنی دین سے وابستہ ہو رہی ہے، تعلیم کتنی فروغ پا رہی ہے اور اخلاقی انحطاط میں کس حد تک کمی آ رہی ہے۔ اس موقع پر اربابِ اقتدار اور ملک کی بااثر قوتوں کو بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کی فوج، معیشت یا ٹیکنالوجی ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے شہریوں کا باہمی اعتماد، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی بھی اس کی قوت کا بنیادی سرچشمہ ہوتے ہیں۔ اگر معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان بداعتمادی اور نفرت کی دیواریں بلند ہوتی جائیں تو اس کے منفی اثرات پورے ملک پر مرتب ہوتے ہیں۔ اگر سیاسی مفادات یا وقتی مقاصد کے لیے مذہبی تفریق کو ہوا دی جائے تو اس سے وقتی سیاسی فائدہ تو حاصل ہو سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس کا نقصان پورے ملک کو اٹھانا پڑتا ہے۔اس لیے حکومت، سیاسی جماعتوں، ذرائع ابلاغ، مذہبی رہنماؤں اور سماجی تنظیموں سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف، اعتدال اور باہمی احترام کے ماحول کو فروغ دیں۔ ملک کی ترقی اور استحکام اسی وقت ممکن ہے جب ہر شہری، خواہ اس کا مذہب یا پس منظر کچھ بھی ہو، اپنے آپ کو اس ملک کا برابر کا شریک اور محفوظ فرد محسوس کرے۔ مسلمانوں کو مایوسی سے بچنے اور تعمیری کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، انھیں اپنی داخلی کمزوریوں پر قابو پانا ہے،یہ تساہلی یا الزام تراشی کا وقت نہیں ہے۔یہ وقت خود احتسابی کا اور منصوبہ بند طریقہ سے کام کرنے کا ہے۔ہماری نوجوان نسل دین کی بنیادی تعلیمات سے روز بروز دور ہورہی ہے۔ایسا نہ ہو کہ ارتداد کا طوفان انھیں اڑا لے جائے اور ہمارے رہنما بیان دیتے رہ جائیں۔(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں)





Leave a Reply