Advertisement

طلبا کے ملک گیر احتجا ج کے بعد حکومت کو جھکنا پڑا ،دھرمیندر پردھان کااستعفی

نئی دہلی (سید مجاہد حسین /ایف ای نیوز )بالآخر کاکروچ جنتا پارٹی کے طویل احتجاج کے بعد مرکزی مودی حکومت کو جھکنا پڑا اور اپنے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لینا پڑا ۔آج دھرمیندر پردھان نے GEN Z کے شدید مطالبے پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔دہلی کے جنتر منتر پر پچھلے تقریبا 25دنوں سے طلبا کا احتجاج اور دھرنا جاری تھا ،جسمیں وہ دیگر مانگوں کے ساتھ دھرمیندر پردھان کے استعفے کی مانگ کررہے تھے ۔جمعہ کو دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں حکومت اور کاکروچ جنتا پارٹی کے بیچ ایک میٹنگ ہوئی تھی اور دھرنا ختم کرنے ے سلسلے میں دونو ں فریقوں کے درمیان بات ہوئی تھی ۔ لیکن دھمیندر پردھان کے استعفے پر تعطل برقرار تھا ۔ تاہم حکومت نے چوبیس گھنٹے کا وقت مانگا تھا ۔آج دونوں کے درمیان دوسرے اورتیسرے دورکی بات چیت ہوئی جس میں مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا ،جتیندر سنگھ سینئر منسٹر اور سوربھ داس موجود تھے ۔اسی میٹنگ کے درمیان خبر آئی کہ پردھان نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیج دیا ہے۔ دھرمیندر کے استعفے کے بعد سیاسی گلیاروں میں جہاں مختلف ردعمل سامنے آیا وہیں جنتر منتر پر جشن کا ماحول بن گیا اور طلبا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد، CJP کے سربراہ ابھیجیت ڈپکے نے کہا، "طلبہ اتحاد زندہ باد۔ جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔ ابھی جیت نے پردھان کے استعفے کے بعد یہ بھی کہا، "ہمارے پاس اب بھی دو اور مطالبات ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ہم کاکروچ ہیں، اتنی آسانی سے دور نہیں جائیں گے۔ اس دوران پارلینٹ میں اپوزیشن پارٹی کے لیڈر راہول گاندھی نے دھرمیندر پردھان کے استعفے پر ملک بھر کے طلباء کو مبارکباد دی۔ انہوں نے اسے ملک کے تعلیمی نظام کی اصلاح کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔”انہوں نے ہراس نوجوان اور طالب علم کو مبارکباد دی جو سڑکوں پر نکلے اور جمہوریت، آئین اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے ڈٹے رہے۔  اس درمیان ڈی ایم آر سی نے خب ی ہے کہ اس نے  میٹرو کے کچھ اسٹیشن کھول دئے ہیں ۔اطلاع دیتے ہوئے ڈی ایم آر سی نے کہا کہ راجیو چوک، منڈی ہاؤس اور سینٹرل سکریٹریٹ میٹرو اسٹیشن کھول دیے گئے ہیں۔
دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کجریوال نے استعفے کو جمہوریت کی جیت بتایا ۔انہوں نے ملک کے نوجوانوں کو مبارک باد دی اور کہا کہ ملک میں لوگوں کا جمہوریت سے اعتماد اٹھ گیا تھا اور لوگوں کو محسوس ہونے لگا تھا کہ حکومتیں سنتی ہی نہیں ہیں ۔عوام حکومتوں کے سامنے گڑگڑاتے اور چلاتے رہتے تھے ۔آج بالآخر طلبا کی اتنی بڑی کوشش رنگ لائی اور حکومت کے غرورکو طلبا کے آگے جھکنا پڑا
یہ عام اور جمہوریت کی بہت بڑی جیت ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو سمجھ لینا چاہئے کہ آپکو عوام کی بات سننا پڑے گی کیونکہ یہ جمہوریت ہےانہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہو ں کہ حکومت نیٹ امتحان کے سسٹم کو ٹھیک کرےگی اور ملک میں پیپر لیک ہونا بند ہوجائین گے ۔ قابل ذکر ہے کہ حکومت نے ایک دن قبل جمعہ کو سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال ختم کرائی تھی۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے