جمعیۃ علماء ہند کے تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمود اسعد مدنی نے خاندانی نظام کے تحفظ ، دینی تربیت اوراصلاحِ معاشرہ کے کام کو منظم تحریک بنانے پر زور دیا
مولانا مدنی نے کہا کہ معاشرے کی مضبوطی کا آغاز خاندان سے ہوتا ہے۔ اگر خاندان مستحکم ہوگا تو معاشرہ مضبوط ہوگا اور جب معاشرہ مضبوط ہوگا تو پوری ملت استحکام حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ طویل مدتی منصوبہ بندی کے تحت گھروں اور محلوں میں ایسا دینی ماحول پیدا کیا جانا چاہیے جہاں بچوں کی ابتدائی دینی تعلیم اور تربیت کا سلسلہ مضبوط ہو۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب مائیں، دادی اور نانیاں گھروں میں بچوں کو قرآن کریم اور قاعدہ پڑھایا کرتی تھیں، جس کے نتیجے میں دینی ماحول قدرتی طور پر پروان چڑھتا تھا۔ موجودہ دور کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اسی روایت کو نئے انداز میں زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاندان کو ٹوٹنے سے بچانا دراصل صرف ایک گھر کو بچانا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بچانا ہے۔ اگر اختلافات کے شکار میاں بیوی کے درمیان مصالحت کرا دی جائے تو یہ یقیناً ایک بڑی سماجی خدمت ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ نئی نسل کو دینی کمزوری، بے راہ روی اور اخلاقی انحطاط سے محفوظ رکھنے کا مقصد بھی شامل ہوجائے تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ کام ملت کی وحدت اور دینی شناخت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
مولانا مدنی نے اصلاحِ معاشرہ کے طریقۂ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی بڑا اور دیرپا کام وقتی سرگرمیوں کے ذریعے کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے منظم منصوبہ بندی، واضح ترجیحات، تربیت یافتہ کارکنان، مسلسل رابطہ اور مستقل مزاجی کے ساتھ جدوجہد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی شخص اخلاص کے ساتھ کسی دینی اور سماجی مقصد کو اپنا مشن بنا لیتا ہے اور پوری سنجیدگی کے ساتھ اس کے لیے محنت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کامیابی کے ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ایسے مواقع پر مخلص ساتھی اور معاونین بھی خود بخود میسر آجاتے ہیں جو اس مشن کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
انہوں نے صوبائی نظمائے اصلاحِ معاشرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کام کو پوری سنجیدگی اور جذبے کے ساتھ شروع کریں۔ اگر اخلاص اور مستقل مزاجی کے ساتھ میدان میں اترا جائے تو اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوگی اور اصلاحِ معاشرہ کا قافلہ خود بخود مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔














Leave a Reply