Advertisement

پٹنہ میں طلبہ کا احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ

نئی دہلی /پٹنہ(ایجنسی/ایف ای نیوز)امتحانات سے متعلق مطالبات کے حق میں پٹنہ کے گردنی باغ میں طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ مین امتحان کے ساتھ ابتدائی ٹیسٹ (PT) کو بھی شامل کیا جائے، منفی مارکنگ ختم کی جائے اور سرکاری ملازمتوں میں 100 فیصد ڈومیسائل پالیسی نافذ کی جائے۔ منگل کے روز آل بہار اسٹوڈنٹ یونین (ABSU) سے وابستہ طلبہ وزیرِ اعلیٰ کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کرنے نکلے۔ طلبہ کو روکنے کے لیے جے پ گولمبر کے قریب پولیس اور سی آر پی ایف کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے، تاہم مظاہرین رکاوٹیں توڑتے ہوئے ڈاک بنگلہ چوک تک پہنچ گئے۔ اس دوران طلبہ اور سی آر پی ایف اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ احتجاج کے دوران ایک طالب علم کے سر پر چوٹ آئی، جبکہ ایک طالبہ بے ہوش ہوگئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ پانی کی تیز دھار کے دوران بعض طلبہ شیمپو لگا کر نہاتے ہوئے بھی نظر آئے۔ پولیس کے مطابق بعض مظاہرین نے پتھراؤ کیا، جس کے نتیجے میں ٹاؤن ڈی ایس پی کامکھیا نارائن سنگھ زخمی ہوگئے۔ متعدد دیگر پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ حالات کشیدہ ہونے کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور بعض طلبہ کا تعاقب کرکے انہیں منتشر کیا۔ پولیس نے متعدد طلبہ کو حراست میں بھی لیا ہے۔ احتجاج کے دوران ایک بکتر بند گاڑی بھی موقع پر لائی گئی، جو عموماً نکسل متاثرہ علاقوں میں استعمال کی جاتی ہے۔ طلبہ 18 اگست سے پٹنہ کے گردنی باغ میں دھرنا دے رہے ہیں اور اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے