Advertisement

دہلی پولیس پر تھانے میں دو خاتون صحافیوں سے مبینہ مارپیٹ کےسنگین الزامات، پولیس نےدعوے مسترد کئے

صحافیوں کا الزام، سوال پوچھنے پر پولیس نے تھانے لے جا کر کی مارپیٹ،دہلی پولیس نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے وی آئی پی روٹ میں رکاوٹ کو حراست کی وجہ بتایا

نئی دہلی (ایف ای نیوز )جنوبی دہلی کے ساکیت علاقے میں دو خاتون صحافیوں کے ساتھ مبینہ مارپیٹ اور بدسلوکی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد دہلی پولیس اور صحافتی حلقوں کے درمیان تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ 4پی ایم نیوز نیٹ ورک سے وابستہ صحافی شاہین خان اور نفیسہ خان نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں ایک پروگرام کی کوریج کے دوران حراست میں لے کر ساکیت پولیس تھانے لے جایا گیا، جہاں پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد کیا۔یہ واقعہ 3 ستمبر کو ساکیت میں واقع میکس اسمارٹ سپر اسپیشلٹی اسپتال میں منعقدہ ایک افتتاحی تقریب کے دوران پیش آیا، جس میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا بھی موجود تھیں۔ دونوں صحافی تقریب کی کوریج کے لیے وہاں پہنچی تھیں۔شاہین خان اور نفیسہ خان کے مطابق وہ تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے دہلی میں خواتین کی حفاظت اور دیگر عوامی مسائل سے متعلق سوال پوچھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسی دوران پولیس اہلکاروں نے انہیں روک دیا اور بعد میں زبردستی ساکیت پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔شاہین خان نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈ یو میں الزام لگایا کہ پولیس اسٹیشن پہنچنے کے بعد انہیں ایک کمرے میں لے جایا گیا، جہاں مبینہ طور پر ان کے ساتھ لاٹھیوں اور تھپڑوں سے مارپیٹ کی گئی۔ ان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے ان کا نام اور برادری بھی پوچھی اور ’’خان‘‘ نام معلوم ہونے کے بعد مبینہ طور پر مزیدبدسلوکی کی۔ نفیسہ خان کے بارے میں بھی بتایا گیا کہ انہیں جسم کے مختلف حصوں میں چوٹیں آئیں اور انہیں چلنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔4پی ایم نیوز نیٹ ورک کی جانب سے جاری ویڈیوز میں دونوں خواتین کے جسم پر مبینہ چوٹوں اور نیل کے نشانات دکھائے گئے ہیں۔ ایک ویڈیو میں شاہین خان پولیس اسٹیشن میں اپنے بازو پر موجود نشانات دکھاتی نظر آتی ہیں، جبکہ دیگر مناظر میں نفیسہ خان کو شدید تکلیف میں اور دوسروں کے سہارے پولیس اسٹیشن سے باہر آتے ہوئے دیکھا گیا۔ تاہم ان ویڈیوز میں نظر آنے والی چوٹیں کس طرح اور کن حالات میں آئیں، اس کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔دونوں صحافیوں نے بعد میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) جا کر اپنا طبی معائنہ اور میڈیکو لیگل کیس (MLC) کرانے کی بات کہی ہے۔ صحافتی تنظیموں نے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات، پولیس اسٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے اور مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔دہلی پولیس کا مؤقفدوسری جانب دہلی پولیس نے صحافیوں کی جانب سے لگائے گئے مارپیٹ اور مذہبی بنیاد پر نشانہ بنائے جانے کے الزامات کو واضح طور پر مسترد کیا ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں خواتین کو اس لیے حراست میں لیا گیا کیونکہ ان کی اسکوٹی مبینہ طور پر مخصوص VVIP روٹ کے راستے میں کھڑی تھی اور وہ پولیس کی جانب سے راستہ خالی کرنے کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہی تھیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں خواتین کا پولیس اہلکاروں کے ساتھ موقع پر اختلاف بھی ہوا، جس کے بعد انہیں مزید پوچھ گچھ کے لیے ساکیت پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ پولیس نے صحافیوں کے اس دعوے کو کہ انہیں وزیر اعلیٰ سے سوال پوچھنے کی وجہ سے مارا گیا، ’’بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی‘‘ قرار دیا ہے۔پولیس کے مطابق صحافیوں کو صرف پوچھ گچھ کے لیے تھانے لایا گیا تھا اور ان پر تشدد کے الزامات درست نہیں ہیں۔ 4 ستمبر تک دستیاب رپورٹس کے مطابق معاملے میں کوئی باقاعدہ مقدمہ درج ہونے کی اطلاع نہیں تھی، جبکہ پولیس کے سینئر افسران دونوں خواتین سے رابطے میں تھے۔صحافتی تنظیموں کا احتجاجواقعے کے بعد پریس کلب آف انڈیا، انڈین ویمنز پریس کور، دہلی یونین آف جرنلسٹس، پریس ایسوسی ایشن اور کیرالہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس سمیت متعدد صحافتی تنظیموں نے مبینہ تشدد کی مذمت کی اور معاملے کی آزادانہ و شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر صحافیوں کے ساتھ ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران تشدد کیا گیا ہے تو یہ آزادیٔ صحافت کے لیے ایک سنگین معاملہ ہے۔دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کے بعض رہنماؤں نے بھی واقعے پر دہلی حکومت اور پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور خواتین صحافیوں کے دعووں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ہائی کورٹ جانے کی تیاریتازہ پیش رفت کے مطابق شاہین خان اور نفیسہ خان نے 4 ستمبر کو کہا کہ وہ مبینہ تشدد کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کریں گی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے لائی جائے اور مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ 4پی ایم نیوز نیٹ ورک کے ایڈیٹر سنجے شرما نے بھی عدالت سے سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کرانے اور کارروائی کی درخواست کرنے کی بات کہی ہے۔ فی الحال اس معاملے میں صحافیوں اور دہلی پولیس کے دعوے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ انہیں سوال پوچھنے اور اپنی شناخت کی بنیاد پر مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ پولیس کا موقف ہے کہ کارروائی VVIP روٹ میں رکاوٹ اور پولیس کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کے باعث کی گئی۔ اس لیے واقعے کی اصل صورت حال جاننے کے لیے طبی ریکارڈ، عینی شاہدین کے بیانات، پولیس اسٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور کسی آزادانہ تحقیقات کے نتائج اہم ہوں گے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے