
عبدالغفار صدیقی 9897565066
رسول اکرمؐ صرف شریعت کے معلم نہیں تھے بلکہ دلوں کے طبیب تھے۔ آپ نے ٹوٹے ہوئے دل جوڑے، محروم لوگوں کو حوصلہ دیا، غلاموں کو عزت دی، عورتوں کو وقار بخشا، بچوں کو محبت دی، بوڑھوں کو احترام دیا، یتیموں کو شفقت دی اور دشمنوں تک کو معاف کر کے انسانیت کو یہ سبق دیا کہ طاقت کا اصل حسن انتقام میں نہیں بلکہ دل جیتنے میں ہے۔
اسلام میں اس بات کا بھرپور اہتمام کیا گیا ہے کہ کسی کے دل کو تکلیف نہ پہنچے، کسی کی تذلیل نہ ہو اور کوئی احساسِ کمتری کا شکار نہ ہونے پائے۔ اسی لیے اسلام نے زبان کی حفاظت پر غیر معمولی زور دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مجھے اپنی زبان اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی ضمانت دے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ (بخاری) ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔(متفق علیہ)واقعہ یہ ہے کہ زبان کے زخم اکثر جسم کے زخموں سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ سخت، تحقیر آمیز اور دل آزار الفاظ برسوں تک انسان کے دل پر نقش رہتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی دل جوڑنے کی داستان ہے۔ آپ نے پتھروں سے زیادہ دلوں کو اہمیت دی، عمارتوں سے زیادہ انسانوں کو سنوارا اور قانون سے پہلے محبت کے ذریعے انسانوں کو جیتا۔ شاید اسی لیے آپ کی مجلس سے کوئی شخص یہ احساس لے کر نہیں اٹھتا تھا کہ اسے حقیر سمجھا گیا ہے۔دل توڑنا صرف گالی دینے یا مارنے سے نہیں ہوتا۔ کبھی ایک طنزیہ جملہ، ایک حقارت بھری نگاہ، ایک وعدہ خلافی، ایک بے رخی، ایک احسان جتانا، کسی کی بات کو نظر انداز کر دینا، یا کسی کی خوشی میں شریک نہ ہونا بھی دل کو زخمی کر دیتا ہے۔ اسلام ان تمام باریک پہلوؤں پر نگاہ رکھتا ہے۔رسول ؐنے فرمایا:اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے۔(متفق علیہ)دوسری روایت میں فرمایا:لوگوں سے مسکرا کر ملنا بھی صدقہ ہے۔(سنن ترمذی)
حضرت انس بن مالکؓ دس سال تک رسول اکرم ؐکی خدمت میں رہے۔ بچپن ہی میں ان کی والدہ حضرت ام سلیم ؓ انہیں آپ ؐکی خدمت میں لے آئی تھیں۔ دس سال کا طویل عرصہ کسی بھی انسان کی خدمت میں گزارنا آسان نہیں، خصوصاً ایک بچے کے لیے۔ اس دوران اس سے غلطیاں بھی ہوتی ہوں گی، بھول چوک بھی ہوتی ہوگی، لیکن حضرت انس ؓ فرماتے ہیں:میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی۔ نہ کبھی آپ نے مجھے اف کہا، نہ کبھی یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا، اور نہ یہ فرمایا کہ یہ کام کیوں نہیں کیا۔(متفق علیہ)یہ ایک واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام انسان کی اصلاح ضرور چاہتا ہے، لیکن اس کی عزتِ نفس کو مجروح کیے بغیر۔ وہ تربیت چاہتا ہے، تذلیل نہیں،نصیحت چاہتا ہے، تحقیر نہیں؛ محبت چاہتا ہے، نفرت نہیں۔
اسلام انسان کی عزتِ نفس کی حفاظت کرتا ہے۔ دنیا میں اکثر لوگوں کی قدر ان کے مال، عہدے، خاندان یا شہرت سے کی جاتی ہے، لیکن اسلام نے انسان کی عزت کو اس کی انسانیت سے وابستہ کیا۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ (الإسراء: 70)اور یقیناً ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی یہاں کسی خاص قوم، نسل یا طبقے کا ذکر نہیں، بلکہ بنی آدم کہا گیا ہے۔ گویا ہر انسان، خواہ وہ غریب ہو یا امیر، کمزور ہو یا طاقتور،،مسلم ہو یا کافرانسان ہونے کی بنیاد پرعزت کا مستحق ہے۔
عزت نفس کا تقاضا ہے کہ بچے کا اچھا نام رکھا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اچھے نام پسند فرماتے تھے اور برے ناموں کو بدل دیا کرتے تھے۔ (ترمذی)انسان کو اچھے نام سے پکارا جائے،کسی نام کو نہ بگاڑا جائے۔ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ (الحجرات: 11) کسی کو گالی نہ دی جا ئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مسلمان کو گالی دینا فسق ہے (متفق علیہ)کسی متعلق بدگمانی سے اجتناب کیا جائے،کسی کاتجسس نہ کیاجائے اورکسی میں عیب تلاش نہ کیے جائیں ۔اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور تجسس نہ کرو۔ (الحجرات: 12) کسی کی غیر حاضری میں اس کا ذکر اس طرح نہ کیا جائے کہ اگر وہ سنتا تو اسے برا لگتا۔جسے غیبت کہا جاتا ہے۔اس کی شناعت کے اظہار کے اسلام نے غیبت کرنے کو مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے کے مشابہ قرار دیا۔اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ یقیناً تم اسے ناپسند کرو گے۔(الحجرات: 12)اس ضمن میں یہ حکم بھی دیا گیا:۔”کوئی کسی کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ اس سے بہتر ہو“(الحجرات: 11)اس لیے کہ مذاق اڑانے سے بھیدل آزاری ہوتی ہے اور انسان احساس کمتری کا شکارہوجاتا ہے۔
حضرت بلالؓحبشہ کے ایک غلام تھے۔ رنگ سیاہ تھا، نسب عربوں جیسا نہ تھا، لیکن اسلام نے ان کی شخصیت کو اس مقام تک بلند کر دیا کہ رسول اکرم ؓنے انہیں مسجد نبوی کا مؤذن مقرر فرمایا۔ ایک موقع پر حضرت ابوذر غفاریؓسے غصے میں یہ لفظ نکل گیا:اے کالی عورت کے بیٹے!یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ انور متغیر ہوگیا۔ آپ نے فرمایا:ابوذر! کیا تم نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے عار دلائی؟ تم میں ابھی جاہلیت کی ایک خصلت باقی ہے۔(متفق علیہ)عام طور پر تحائف کے لین دین میں جذبات کو ٹھیس پہنچنے کا اندیشہ رہتا ہے۔کبھی تحفہ ہمارے معیار کا نہیں ہوتا،کبھی ہمارے کام کا نہیں ہوتا۔اس سلسلہ میں اسلام پہلی ہدایت یہ دیتا ہے کہ تحفہ کا لین دین کیا کرو اس سے محبت بڑھتی ہے،رشتہ مضبوط ہوتے ہیں۔تَھادَوا تَحَابُوا(الادب المفرد للبخاری) دوسری ہدایت یہ دی کہ کسی بھی تحفہ کو حقیر نہ سمجھو۔نبی ؐ نے ایک مرتبہ خواتین کو مخاطب کرکے فرمایا:اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے لیے کسی تحفے کو حقیر نہ سمجھے، اگرچہ بکری کا ایک کھر ہی کیوں نہ ہو۔(متفق علیہ)
انسان کے جذبات کو ٹھیس اس وقت بھی لگتی ہے جب کوئی اس سے اونچی آواز اور ترش لہجہ میں بات کرتا ہے۔اسی لیے اسلام نے نرم لہجہ اختیار کرنے،اچھی بات بولنے اور مخاطب کے ساتھ حکمت سے کام لینے کی تلقین کی۔فرمایا:آواز عتدال میں رکھو،اس لیے کہ سب سے کریہہ آواز گدھے کی ہے۔وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِک إِنَّ أَنْکَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیرِ(سورۃ لقمان: 19)،یہاں تک کہ اگر اللہ کی طرف بھی بلانا ہو اور تمہارا پیغام سراسر حق بھی ہو،سامنے والا کھلی گمراہی اور کفر میں مبتلا ہو تب بھی حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا جائے اور بھلے طریقے سے بات کی جائے۔(سورۃ النحل: 125) حضرت موسیٰ و ہارون ؑ کوفرعون تک سے نرمی کے ساتھ بات کرنے کا حکم دیا گیا:اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا اللہ سے ڈر جائے۔ (طٰہٰ: 44)
غم کے ماروں کو تسلی دینا،رونے والوں کے آنسو پونچھنا،دکھیاروں کے جذبات کا احساس کرنا بھی اسلام کی تعلیم ہے۔مریض کی عیادت کا حکم،جنازے میں شرکت کی تاکید،پسماندگان سے اظہار تعزیت،میت کے اہل خانہ کے لیے تین دن تک کھانے کا نظم کرنے کی ترغیب اسی تعلیم کا حصہ ہے۔نبی اکرم ؐ ایسا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔آپ کا خادم جو یہودی لڑکا تھا،بیمار ہوا تو آپ اسے دیکھنے گئے،مشہور واقعہ ہے کہ آپ کے جسم اطہر پرکو ڑا ڈالنے والی عورت جب بیمار ہوئی تو آپ نے اس کی عیادت کی۔آپ بچوں اور عورتوں کا بھی خاص خیال رکھتے تھے۔
حضرت انس بن مالکؓفرماتے ہیں کہ میرے ایک چھوٹے بھائی تھے جن کی ایک چڑیا تھی۔ وہ مر گئی تو بچہ غمگین ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ جب تشریف لاتے تو اس کے پاس بیٹھتے، اس سے پیار کرتے اور مسکرا کر فرماتے:یا أبا عمیر، ما فعل النغیر؟اے ابو عُمیر! تمہاری چڑیا کا کیا ہوا؟(متفق علیہ)حضرت صفیہ ؓ ایک سفر میں اونٹ سے اترتے ہوئے کسی بات پر رونے لگیں۔ آپؐفوراً ان کے پاس تشریف لائے، اپنے دستِ مبارک سے ان کے آنسو پونچھے اور انہیں تسلی دی۔اسلام نے صرف عزیزوں ہی نہیں بلکہ اجنبی انسانوں کے احساسات کا بھی خیال رکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مسکرا کر اپنے بھائی سے ملنا بھی صدقہ ہے۔(سنن ترمذی)کیونکہ ایک خندہ پیشانی کبھی کبھی کسی ٹوٹے ہوئے دل کے لیے دوا بن جاتی ہے۔آپؐ کا معمول تھا کہ بچوں کو خود سلام کرتے،انھیں گود میں اٹھاتے،یہاں تک کہ حضرت حصن و حضرت حسین تو نماز کے دوران حالت سجدہ میں آپ ؐ کی پیٹھ پر سوار ہوجاتے اور ان کی خاطر سجدہ طویل کردیتے،اسی طرح کسی بچے کی رونے آواز سن کر آپ دوران امامت نماز مختصر کردیتے تاکہ بچے اور اس کی ماں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔
اسلام انسان کے جذبات کا اس حد تک خیال رکھتا ہے کہ بغیر اجازت کسی گھر میں جانے سے منع کرتا ہے،معلوم نہیں کہ صاحب خانہ کس حال میں ہو،یہاں تک کہ اگر صاحب خانہ اندر آنے کی اجازت نہ دے اور واپس جانے کو کہہ دے تو واپس چلا جائےاے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ لے لو اور ان کے رہنے والوں کو سلام نہ کر لو۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ پھر اگر وہاں کوئی نہ ملے تو بھی اس وقت تک اندر داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دے دی جائے۔ اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس چلے جایا کرو، یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب جاننے والا ہے(النور: 27-28)
اس نے نابالغ بچوں اور غلاموں تک کو تین اوقات میں بغیر اجازت خواب گاہوں میں داخل ہونے کی ممانعت فرمائی۔ان اوقات میں عام طور پرانسان اپنی ازواج کے ساتھ کپڑے اتار کر سوتا اور آرام کرتا ہے۔”اے ایمان والو! تمہارے غلام اور تمہارے وہ بچے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے، وہ تین اوقات میں تم سے اجازت لے کر آیا کریں: فجر کی نماز سے پہلے، دوپہر کے وقت جب تم اپنے کپڑے اتار دیتے ہو، اور عشاء کی نماز کے بعد۔ یہ تمہارے لیے پردے کے تین اوقات ہیں۔(النور: 58)
اسی طرح آپ کی کسی کے گھر دعوت ہو،تو اسلام کی تعلیم ہے کہ آپ وہاں اپنے ساتھ کسی ایسے شخص کو نہ لے جائیں جس کی دعوت نہ ہو،اگر لے جانا بھی ہو تو پہلے میزبان سے اس کا نام لے کر اجازت لے لیں،کیا معلوم میزبان کے گھر کھانے کا نظم کم ہو اور مہمان کے اضافہ سے اس کی عزت نفس داؤں پر لگ جائے۔ایک مرتبہ نبی ﷺ کی اپنے بعض اصحاب کے ساتھ ایک جگہ دعوت تھی،آپؐ وہاں جارہے تھے کہ راستے میں ایک صحابی اور مل گئے،وہ بھی آپ ؐ کے ساتھ ہولیے،آپ جب میزبان کے گھر پہنچے تو آپ ؐ نے فرمایایہ شخص ہمارے ساتھ آ گیا ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے اجازت دے دیں، اور اگر چاہیں تو یہ واپس چلا جائے۔میزبان نے عرض کیایا رسول اللہ! میں نے اسے اجازت دے دی(متفق علیہ)
اسلام نے صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں کے جذبات کے احترام کی بھی تعلیم دی ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے ان کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے بھی منع فرمایا، تاکہ ردِّ عمل میں وہ جہالت اور عداوت کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی نہ کریں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں انہیں برا نہ کہو، ورنہ وہ بھی جہالت میں حد سے بڑھ کر اللہ کو برا کہیں گے (الأنعام: 108)یہی وجہ ہے کہ برصغیر، خصوصاً بھارت کی متعدد ریاستوں میں مسلمانوں نے اپنے غیر مسلم ہم وطنوں کے مذہبی جذبات کے احترام میں گائے کے ذبیحہ سے اجتناب کیا اور اسے اپنے اوپر ممنوع قرار دے لیا، حالانکہ شریعت نے اس کا گوشت حرام قرار نہیں دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام جہاں اپنے عقائد پر ثابت قدم رہنے کی تعلیم دیتا ہے، وہیں دوسروں کے جذبات کے احترام اور معاشرتی ہم آہنگی کو بھی بڑی اہمیت دیتا ہے۔سماج میں ایک طبقہ جس کو لوگ حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں،وہ یتیموں کا طبقہ ہے۔آج بھی ہمارے معاشرے میں یتیموں کے ساتھ وہ حسن سلوک نہیں ہوتا جس کی تعلیم ہمیں دی گئی ہے۔حکم دیا گیا کہ یتیموں پر ظلم نہ کیا جائے: فَأَمَّا الْیَتِیمَ فَلَا تَقْہَرْ (الضحی: 9)یتیم کا مال نہ ہڑپا جائے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے متنبہ کیا گیااور یتیموں کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ، بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ (سورۃ النساء: 2)بلکہ بزبان رحمت اللعٰلمین اعلان ہواکہ یتیم کی کفالت کرو،تم میرے ساتھ جنت میں ایسے رہوگے(پھر آپ نے شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر دکھایا۔)(بخاری)ایک شخص نے حضورؐ سے دل کی سختی کی شکایت کی تو آپ ؐ نے فرمایا:اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہوجائے تو یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو۔“(مسند احمد)۔
اسلام میں صدقہ دینے کے بعد تکلیف پہنچانے کی ممانعت ہے۔اس لیے کہ غریب کا پیٹ بھر گیا، لیکن اس کا دل ٹوٹ گیا تو کیا ہوگا۔ اللہ فرماتا ہے کہ تمہارا صدقہ ضائع ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی نگاہ میں روٹی سے زیادہ قیمت انسان کی عزت کی ہے۔”اے ایمان والو! احسان جتا کر اور دل آزاری کرکے اپنے صدقات کو ضائع نہ کرو۔ (البقرۃ: 264)
رسول اللہ ﷺ نے صرف گھر کے افراد ہی کے جذبات کی حفاظت نہیں فرمائی بلکہ پڑوسیوں کے احساسات کو بھی ایمان کا حصہ قرار دیا۔ آپؐجانتے تھے کہ ایک اچھا پڑوسی نعمت ہے اور برا پڑوسی زندگی کا عذاب۔ اس لیے آپ نے فرمایا:”اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں۔”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کون؟آپؐنے فرمایا:”وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی ایذا رسانی سے محفوظ نہ ہو۔”(بخاری)۔یہ ایذا رسانی زبان سے بھی ہوسکتی ہے،ہاتھ سے بھی،اس کی دھوپ روک کربھی ہوسکتی ہے اور اس کی طرف پانی گراکر بھی۔اسلام اس بات سے بھی روکتا ہے کہ پھلوں کے چھلکے باہر نہ پھینکے جائیں مبادا پڑوسی کے بچوں کو وہ پھل میسر نہ ہوں،بچے ضد کریں اور پڑوسی کی مالی حیثیت اس کی متحمل نہ ہو۔نبی ﷺ نے فرمایا:۔”جب تم پھل خریدو تو اپنے پڑوسی کو بھی اس میں سے ہدیہ دو۔ اگر ایسا نہ کر سکو تو اسے چھپا کر گھر میں لے جاؤ، اور تمہارا بچہ اسے لے کر باہر نہ نکلے کہ اس سے پڑوسی کے بچے کو رنج پہنچے۔(المعجم الکبیر للطبرانی)
اسلام نے مجلس میں بھی ایک دوسرے کے جذبات کے احترام کی تعلیم دی ہے۔حکم دیا گیا:۔اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کر دیا کرو، اللہ تمہارے لیے کشادگی پیدا فرمائے گا۔(سورۃ المجادلہ: 11)مجلس میں سرگوشیاں نہ کروکیونکہ اس سے دوسروں کے دل میں بدگمانی یا رنج پیدا ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب تم تین آدمی ہو تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی نہ کریں، کیونکہ اس سے وہ غمگین ہوتا ہے۔”(بخاری)ایک دوسرے کے کاندھے پر سے نہ گذرو۔ ایک شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف دی ہے اور دیر بھی کر دی ہے۔”(نسائی،ابوداؤد)
رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں احساسات کی حفاظت کا ایک نہایت دلکش واقعہ حضرت زاہر بن حرامؓکا ہے۔ وہ دیہات میں رہتے تھے، شکل و صورت کے اعتبار سے زیادہ پرکشش نہ تھے، لیکن رسول اللہ ﷺ انہیں بے حد چاہتے تھے۔ایک دن وہ بازار میں کوئی چیز بیچ رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ خاموشی سے ان کے پیچھے تشریف لائے، محبت سے انہیں اپنی بانہوں میں لے لیا اور مزاح کے انداز میں فرمایا:کون ہے جو اس غلام کو خریدے گا؟حضرت زاہرؓنے عرض کیا:یارسول اللہ! پھر تو آپ مجھے بہت سستا پائیں گے۔آپؐنے فوراً فرمایانہیں، بلکہ اللہ کے نزدیک تم بہت قیمتی ہو۔(مسند احمد)ایک جملہ انسان کو عمر بھر کے لیے بدل دیتا ہے۔ اگر رسول اللہ ﷺ صرف مزاح پر اکتفا فرماتے تو شاید حضرت زاہرؓکے دل میں اپنی ظاہری شکل کے حوالے سے کوئی خلش پیدا ہو جاتی، لیکن آپ نے فوراً اس احساس کی تلافی فرمائی اور انہیں بتایا کہ انسان کی اصل قیمت چہرے سے نہیں بلکہ اللہ کے نزدیک اس کے مقام سے ہوتی ہے۔
آج ہماری زبانیں کتنی آسانی سے لوگوں کوبدصورت ناکام لائق یابیکارکہہ دیتی ہیں، مگر ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ الفاظ کسی دل میں کتنی گہری چوٹ لگا سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے صرف لوگوں کو ہنسانا نہیں سکھایا، بلکہ یہ بھی سکھایا کہ تمہارا مذاق بھی کسی کی عزتِ نفس پر بوجھ نہ بنے۔والدین سے بچوں کا رشتہ سب سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔بچے والدین کے جسم کا حصہ ہوتے ہیں۔عام طور پر والدین تو اپنے بچوں کے جذبات و احساسات کا خیال رکھتے ہیں،ان کی ضروریات ہی نہیں خواہشات کی تکمیل کے لیے جی جان لگادیتے ہیں،لیکن بچے جوان ہوجاتے ہیں اور والدین بوڑھے،تو اکثر بچے اپنے والدین کے جذبات کا خیال نہیں رکھتے۔اسلام نے تعلیم دی کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا (الإسراء: 23)ان کا شکریہ ادا کیا جائے،وَأَنِ اشْکُرْ لِی وَلِوَالِدَیْکَ ُ(لقمان: 14)،انھیں اف تک نہ کہا جائے،انھیں جھڑکا نہ جائے،فَلَا تَقُلْ لَہُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْہَرْہُمَاٍّ (الإسراء:23)ان سے نرم بات کی جائے۔ وَقُلْ لَہُمَا قَوْلًا کَرِیمًا(الإسراء: 23)ان کے لیے دعا کی جائے۔ِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِی صَغِیرًا(الإسراء: 24)”: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما، جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے پالا پوسا۔“اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دلوں کو محبت، رحم، عفو، درگزر اور حسنِ اخلاق سے آراستہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہم نہ صرف اچھے مسلمان بن سکیں بلکہ ایسے انسان بھی بن سکیں جن سے دوسروں کو سکون، اعتماد اور محبت کا احساس ملے۔آمین۔
خیال خاطر احباب چاہئے ہردم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو





Leave a Reply