دوحہ (ایجنسیاں)ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے علاقائی تناو کے باعث خلیجی ممالک میں صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے۔ قطر نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اپنے ملک میں قائم امریکی فوجی اڈے العدید ایئر بیس سے اپنے کچھ عملے کو واپس بلا رہا ہے۔ قطر کے بین الاقوامی میڈیا دفتر (IMO) کے مطابق، یہ فیصلہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر احتیاطی سکیورٹی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے۔صرف قطر ہی نہیں بلکہ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے بھی قطر میں واقع اپنے اہم فوجی اڈے العدید سے عملے اور فوجی طیاروں کی منتقلی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے ردعمل میں فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ ایران میں معاشی مسائل کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران مختلف رپورٹس کے مطابق اب تک 2,500 سے 20,000 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کے قتل عام میں ملوث پائی گئی تو امریکہ کی جانب سے "انتہائی سخت کارروائی” کی جائے گی۔
اسی دوران ایران کے وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ نے کہا کہ اگر ان پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو وہ "خون کے آخری قطرے تک” پوری طاقت کے ساتھ ملک کا دفاع کریں گے۔ ایران نے ان ہمسایہ ممالک کو بھی کھلی وارننگ دی ہے جو امریکی فوج کی میزبانی کر رہے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی تو ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے نشانہ بن سکتے ہیں۔
خبروں کے مطابق، امریکی فضائیہ کے کم از کم چھ KC-135 ایریل ریفولر جہازوں نے ال ادَید ایئر بیس سے پرواز کی اور وہ سعودی عرب کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔ اگرچہ اس انخلا کو عارضی اور جزوی قرار دیا جا رہا ہے، لیکن ماہرین اسے بڑی جنگ کی تیاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
کسی بھی وقت چھڑ سکتی ہے جنگ!امریکہ قطر کے فوجی اڈے کو خالی کرنے لگا






Leave a Reply