Advertisement

نئے سال کا استقبال نئے عزم اور نئے حوصلہ کے ساتھ کیجیے ،وقت کی بہتر منصوبہ بندی اور مسلسل محنت سےحالات بدل سکتے ہیں

ڈاکٹرسراج الدین ندوی، 9897334419

وقت انسانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ وہ عظیم نعمت ہے جس کا ایک لمحہ بھی گزر جانے کے بعد واپس نہیں آتا۔ انسان کی کامیابی یا ناکامی کا بڑا دارومدار اسی بات پر ہوتا ہے کہ وہ وقت کو کس طرح استعمال کرتا ہے؟آج سال کا آخری دن ہے۔سال کا اختتام اور نئے سال کا آغاز دراصل اسی وقت کی گردش کا ایک نمایاں پڑاؤ ہے، جہاں انسان کو رک کر اپنے ماضی کا جائزہ لینے، حال کو سمجھنے اور مستقبل کے لیے سمت متعین کرنے کا موقع ملتا ہے۔ نیا سال محض کیلنڈر کی ایک نئی تاریخ نہیں بلکہ یہ احتساب، اصلاح اور تجدیدِ عہد کی تاریخ ہے۔یہ دن ہے ایک نئی تاریخ لکھنے کا عزم کرناکا،ایک رات ہے اپنے سال بھر کی کوتاہیوں پر رب غفور سے مغفرت طلب کرنے کی۔جب ہم گزرے ہوئے سال کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ناکامیوں، امیدوں کے ساتھ مایوسیوں اور کوششوں کے ساتھ کوتاہیوں کی ایک طویل فہرست نظر آتی ہے۔ انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم نے وقت کے تقاضوں کو پوری طرح نہیں سمجھا اور نہ ہی اپنی ذمہ داریوں کو اس سنجیدگی سے نبھایا جس کے ہم دعوے دار ہیں۔ یہی خود احتسابی کسی بھی مثبت تبدیلی کی پہلی سیڑھی ہے۔
سن 2025 ملک و ملت دونوں کے لیے کئی حوالوں سے غیر معمولی رہا۔ عالمی سطح پر سیاسی کشمکش، معاشی عدم استحکام، ماحولیاتی بحران اور اخلاقی زوال نے انسانی سماج کو گہرے اضطراب میں مبتلا رکھا۔فلسطین میں ظلم کی انتہاء ہوگئی،روس اور یوکرین نے تباہیوں نے نئے ابواب رقم کیے،شام سے ایک ظالم و جابر فرمانروا کو بھاگنے پر مجبور کیا گیا۔ ہمارے ملک میں بھی سماجی تناؤ، معاشی دباؤ، بے روزگاری، تعلیمی مسائل اور اخلاقی قدروں کی کمزوری جیسے مسائل شدت کے ساتھ سامنے آئے۔لنچنگ جاری رہی،نفرت انگیز اور انسانوں کو تقسیم کرنے والے بیانات کا تسلسل باقی رہا،بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا،ملک چھوڑ کرجانے والوں کی تعداد بھی بیس لاکھ تک پہنچ گئی۔ ان حالات نے یہ واضح کر دیا کہ ترقی محض نعروں سے نہیں بلکہ سنجیدہ منصوبہ بندی اور مسلسل محنت سے حاصل ہوتی ہے۔
مسلمانانِ ہند کے لیے یہ سال خاص طور پر فکرمندی کا باعث رہا۔ ایک طرف ہمیں تعلیمی اور معاشی پسماندگی کا سامنا رہا تو دوسری طرف داخلی انتشار، باہمی اختلافات اور غیر ضروری جذباتیت نے ہمارے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ بہت کم مواقع پر ہم نے ٹھنڈے دل و دماغ سے حالات کا تجزیہ کیا اور طویل المدتی حکمتِ عملی کے بجائے وقتی ردعمل کو ترجیح دی، جس کا نقصان بالآخر ہمیں ہی اٹھانا پڑا۔
اگر گزشتہ سال کے حالات کو محض تاثرات کے بجائے عقلی اور عملی پیمانے پر دیکھا جائے تو کئی تلخ حقائق سامنے آتے ہیں۔ مختلف ریاستوں کے تعلیمی نتائج اور مسابقتی امتحانات کے مشاہدے سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی نمائندگی اعلیٰ تعلیمی اداروں اور پیشہ ورانہ شعبوں میں اگرچہ بہتر ہوئی ہے لیکن اب بھی محدود ہے۔ اسکولی سطح پر ترکِ تعلیم کی شرح، کیریئر رہنمائی کی کمی اور تعلیمی ترجیحات کے فقدان نے ہماری نئی نسل کو نقصان پہنچایاہے۔
اسی طرح بعض حساس مواقع پر مسلمانوں کا اجتماعی ردعمل زیادہ تر جذباتی رہا،خاص طور پر ماہ ربیع الاول میں آئی لو محمد کو لے کر مسلمان عمل کے بجائے جذبات کی رو میں بہتے نظر آئے۔ کئی جگہ قانونی اور آئینی دائرے میں رہ کر بات رکھنے کے بجائے غیر منظم احتجاج یا غیر محتاط بیانات سامنے آئے، جس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید الجھ گیا۔ یہ حقیقت اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے پاس جذبہ تو موجود ہے، مگر اسے حکمت، قانون اور منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کرنے کا منظم نظام کمزور ہے۔
معاشی میدان میں بھی گزشتہ سال نے ہمیں آئینہ دکھایا۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے پورے ملک کو متاثر کیا، مگر مسلمان اس لیے زیادہ متاثر ہوئے کہ ہماری بڑی آبادی غیر منظم شعبوں، چھوٹے کاروبار اور روزمرہ کی مزدوری سے وابستہ ہے۔ اس کے باوجود اجتماعی سطح پر جدید ہنر، اسکل ڈیولپمنٹ اور معاشی تنوع پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہ ایک عقلی حقیقت ہے کہ جب معاشی بنیاد کمزور ہو تو سماجی وقار اور خود اعتمادی بھی متزلزل رہتی ہے۔
اگر ہم دیانت داری سے جائزہ لیں تو یہ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر ناقابلِ انکار ہے کہ ہماری بہت سی مشکلات کی جڑیں ہمارے اپنے طرزِ عمل میں پیوست ہیں۔ ہم نے تعلیم کو محض ڈگری حاصل کرنے تک محدود کر دیا، حالانکہ تعلیم کا اصل مقصد شعور، کردار اور صلاحیت کی تعمیر ہے۔ ہم نے اخلاق کو تقریروں اور تحریروں تک محدود رکھا اور عملی زندگی میں اس کی جھلک کم ہی دکھائی دی۔
بطور شہری بھی ہم سے کوتاہیاں ہوئیں۔ قانون کی پاسداری، نظم و ضبط، صفائی، قومی یکجہتی اور سماجی ذمہ داری جیسے بنیادی امور کو ہم نے اکثر نظرانداز کیا۔ ہم حقوق کی بات تو پورے جوش سے کرتے ہیں مگر فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتتے ہیں، حالانکہ ایک مضبوط قوم کی بنیاد ذمہ دار شہریوں پر ہی قائم ہوتی ہے۔
نیا سال ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم مایوسی کے بوجھ کو اتار پھینکیں اور امید، حوصلے اور عزم کے ساتھ نئے سفر کا آغاز کریں۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتی ہیں اور انہیں درست کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھاتی ہیں۔ نیا سال محض نعرہ نہیں بلکہ عمل کا مطالبہ کرتا ہے۔سب سے پہلے ہمیں انفرادی اصلاح کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ ہر شخص اگر اپنے دائرہ اختیار میں ایمانداری، محنت، دیانت اور ذمہ داری کو شعار بنا لے تو مجموعی صورتِ حال میں مثبت تبدیلی ناگزیر ہے۔ فرد کی اصلاح ہی معاشرے کی اصلاح کی بنیاد بنتی ہے۔
نئے سال کے لیے سب سے اہم اور فیصلہ کن منصوبہ تعلیم کو بنانا ہوگا۔ یہ تعلیم صرف رسمی نصاب یا امتحان پاس کرنے تک محدود نہ ہو بلکہ فکری، اخلاقی اور عملی تربیت کا جامع نظام ہو۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو محض روزگار کا طلب گار نہیں بلکہ سماج کا ذمہ دار معمار بنانا ہے۔ دینی شعور کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، زبان، قانون اور سماجی علوم میں مہارت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔کوئی بھی قوم صرف معاشی یا سائنسی ترقی سے عظیم نہیں بنتی بلکہ اخلاقی اقدار ہی اسے پائیدار عظمت عطا کرتی ہیں۔ سچائی، امانت، عدل، صبر، برداشت اور خدمتِ خلق جیسے اوصاف کو ہمیں اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ نئے سال کا یہ عہد ہونا چاہیے کہ ہم قول و فعل کے تضاد کو کم سے کم کریں گے۔ملتِ اسلامیہ کی ایک بڑی کمزوری باہمی انتشار ہے۔ مسلکی، لسانی اور تنظیمی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ نکات پر جمع ہونا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ سال گزشتہ میں بھی کئی اشتہار اس طرح کے نظر آئے جس سے مسلکی عناد کی بو آئی۔اختلافِ رائے کا حق اپنی جگہ، مگر اختلاف کو تصادم میں بدل دینا دانش مندی نہیں۔ گزشتہ سال نے یہ سبق واضح کر دیا کہ منتشر آواز مؤثر نہیں ہوتی۔
یہ ملک ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔ اس کی ترقی، استحکام اور امن میں ہر شہری کا حصہ ہے۔ نئے سال میں ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم نفرت کے بجائے محبت، تعصب کے بجائے انصاف اور انتشار کے بجائے تعاون کو فروغ دیں گے۔ ایک مضبوط اور خوش حال ہندوستان تبھی ممکن ہے جب اس کے تمام شہری ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں اور مل جل کر آگے بڑھیں۔
ملک و ملت کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر نوجوان مایوسی، بے مقصدیت اور منفی رجحانات کا شکار ہو جائیں تو قوم کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ نئے سال میں ضروری ہے کہ ہم نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، اخلاق، قانونی شعور اور خود اعتمادی سے آراستہ کریں تاکہ وہ جذبات کے بجائے شعور کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
میرے عزیزو! نیا سال ہمیں صرف مبارک بادوں اور رسمی تقریبات کا موقع نہیں دیتا بلکہ یہ ہم سے سنجیدہ عمل، واضح منصوبہ بندی اور مسلسل محنت کا مطالبہ کرتا ہے۔ اگر ہم نے گزرے ہوئے سال کی غلطیوں سے سبق سیکھ لیا اور نئے سال میں خلوص، دانش اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھے تو یقیناً حالات بدل سکتے ہیں۔آئیے، اس نئے سال کا استقبال نئے عزائم، نئے حوصلوں اور نئی منصوبہ بندی کے ساتھ کریں۔ انفرادی اصلاح سے اجتماعی فلاح تک کا سفر طے کریں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ ہم اس ملک کے ذمہ دار شہری اور اپنی ملت کے سچے خیر خواہ ہیں۔ یہی طرزِ فکر ہمیں ایک روشن، مضبوط اور باوقار مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے