Advertisement

اقلیتوں کے اندر بے اعتمادی کا بڑھتا احساس

عبدالغفار صدیقی، 9897565066

اعتماد اور اعتبار ایک عظیم نعمت ہے۔ اس نعمت سے محروم انسان، جماعت یا مملکت کے لیے ذلت و رسوائی اور ہزیمت و پسپائی کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ جہاں ہر ایک پر اندھا اعتماد کرنا حماقت ہے، وہیں ہر کسی کا اعتماد مکمل طور پر کھو دینا بھی دانش مندی نہیں۔ ہمارے ملک میں مرکزی حکومت اور وہ ریاستیں جہاں بی جے پی برسراقتدار ہے، وہاں حالات کچھ اسی نوعیت کے دکھائی دیتے ہیں۔ ان حکومتوں کے طرزِ عمل کی وجہ سے یہ حکومتیں اقلیتوں کے ایک بڑے طبقے کااعتماد کھوتی جارہی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی پر اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، نے کسی دور میں بھی سیاسی اعتبار سے زیادہ اعتماد نہیں کیا، لیکن حکومت اور آئینی نظام پر ان کا اعتماد ہمیشہ قائم رہا ہے۔ اس کی ایک مثال اٹل بہاری واجپئی جی کی حکومت کا دور ہے، جس کے بارے میں مسلمانوں کی مجموعی رائے نسبتاً مثبت رہی ہے۔ جہاں تک آئین پر اعتماد کا سوال ہے، تو آج صورتِ حال یہ ہے کہ شاید پسماندہ طبقات اور مسلمان ہی وہ گروہ رہ گئے ہیں جو آئین کی بالادستی کی بات کرتے اور اس کے تحفظ پر زور دیتے ہیں۔ حکومت اور اس کے بعض حامیوں کے بیانات سے بعض اوقات یہ تاثر ابھرتا ہے کہ آئینی اقدار کو وہ اہمیت نہیں دی جا رہی جو ایک جمہوری ریاست میں ضروری ہوتی ہے۔اقلیتوں کے اندر حکومت کے تعلق سے اعتماد میں کمی کے کچھ تاریخی اور عصری اسباب ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی رویوں کی تاریخ اگرچہ 1857ء کے بعد سے واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے، برطانوی راج کے دوران بھی اکثر مسلمان ہی شکوک و شبہات کی زد میں رہے۔اسی لیے وہ برطانوی سامراج کے نشانہ پر رہے۔ جنگِ آزادی میں ان کی قربانیاں نمایاں تھیں، تقسیمِ ملک کے سب سے تلخ اثرات بھی انھیں ہی برداشت کرنے پڑے، اور آزادی کے بعد بھی کئی مواقع پر وہ دانستہ یا نادانستہ حکومتی پالیسیوں کا نشانہ بنتے رہے۔اس کے باوجود ہر دورکی حکومت میں کچھ غیر مسلم قائدین ایسے بھی رہے جنھوں نے انصاف اور مساوات کی بات کی، اگرچہ ان کی آواز کمزور ثابت ہوئی اور اس کا عملی فائدہ محدود ہی رہا۔ لیکن موجودہ (بی جے پی)حکومتوں میں تو مسلمان تسلی کے الفاظ سے بھی محروم نظر آتے ہیں۔ حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ رعایا کے زخموں پر مرہم نہ بھی رکھ سکیں تو کم از کم ایسے بیانات یا اقدامات سے گریز کریں جو ان زخموں کو مزید گہرا کریں۔ بدقسمتی سے بعض حالیہ بیانات اور رویے اس روایت کے برخلاف محسوس ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے تعلق سے جس نوعیت کی زبان بعض حلقوں میں استعمال ہو رہی ہے، وہ کسی مہذب جمہوری معاشرے کے شایانِ شان نہیں۔ اب معاملہ صرف زبان تک محدود نہیں رہا بلکہ بعض مقامات پر تشدد اور زبردستی کی شکل بھی اختیار کر چکا ہے۔ ہجومی تشدد کے واقعات تشویش ناک حد تک سامنے آ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بریلی میں (29 دسمبر 2025ء) ایک غیر مسلم میڈیکل طالبہ نے اپنے کلاس فیلوز کو برتھ ڈے کی دعوت دی، جہاں بعض شدت پسند عناصر نے پہنچ کر اس کے مسلم دوستوں پر ”لو جہاد“ جیسے الزامات عائد کیے اور تشدد کیا۔ اسی طرح حصار (ریاست ہریانہ) میں گوشت بیچنے والے ایک مسلم دکاندار کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور اس سے زبردستی مذہبی نعرے لگوائے گئے۔ Shri Mata Vaishno Devi Institute of Medical Excellence جموں و کشمیر میں مسلم طلبہ کے میرٹ کی بنیاد پر داخلوں پر بھی اعتراض کیا گیاا اور کالج کی منظوری تک ختم کردی گئی۔ ان واقعات سے یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ گوشت کی تجارت یا غذا کا انتخاب،ہندو نام والی یونیورسٹیوں میں داخلے اور غیر مسلموں سے دوستی بھی بعض علاقوں میں تنازع کا سبب بن رہی ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بیشترمعاملات میں پولیس کارروائی تاخیر کا شکار ہوتی ہے، اگرچہ یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ ہر جگہ اور ہر معاملے میں ایسا ہی ہوتا ہے،بعض مقامات پر اب بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ دارانہ رویے کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ان واقعات کے سبب اقلیتوں کے اندر سے حکومت پر اعتماد میں کمی واقع ہورہی ہے۔ملک کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے ساتھ مارپیٹ، ہراسانی اور تشدد کے واقعات مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں۔ بعض اوقات ریاستی حکومتوں کی خاموشی یا غیر واضح موقف سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں مسلم پھیری والوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اسی تشویش کو بڑھاتے ہیں۔دہلی میں سر عام ہتھیار تقسیم کیے جارہے ہیں،اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالی جارہی ہے، اس کے باجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔جس سے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہونا فطری امر ہے۔سرکاری اداروں کی جانب سے کسی گروہ کی جان،مال اور عزت و آبرو کی حفاظت میں ناکامی کے بعد اس گروہ میں خود حفاظتی کا احساس جنم لینے لگتا ہے۔اقلیتوں کے خلاف تشدداور نفرت کی یہ صورتِ حال صرف عوامی سطح تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض حکومتی اقدامات بھی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ جب معروف سیاسی شخصیات سے ایسے رویے سامنے آئیں جو سماجی حساسیت کے خلاف محسوس ہوں، تو نچلی سطح پر اس کے اثرات مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ بہار کے وزیر اعلیٰ کے ذریعہ ایک مسلم خاتون کا حجاب اتاردینا، اتراکھنڈ میں تجاوزات کے نام پر بعض مزارات کو منہدم کردیا جانا اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ وغیرہ نے بھی ایک طبقے میں بے چینی پیدا کی ہے۔دہلی میں نئی حکومت کے قیام کے بعد بعض حلقوں میں یہ احساس مضبوط ہوا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف فضا مزید سخت ہو رہی ہے۔ مسجد فیض الٰہی کے اطراف بلڈوزر کارروائی رات کے وقت انجام دی گئی، جس پر سوال اٹھنا فطری ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اس معاملے میں عدالتی فیصلہ متوقع تھا۔ قانونی عمل کے مکمل ہونے سے پہلے کارروائی کا انداز شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔اسی طرح حالیہ دہشت گردی کے ایک واقعے کے بعد الفلاح یونیورسٹی کے خلاف کی جانے والی کارروائی کو بھی کئی لوگ مسلمانوں کے زیرِ انتظام تعلیمی اداروں کے لیے ایک انتباہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ رام پور کی جوہر یونیورسٹی کے ساتھ پیش آئے واقعات بھی اسی خدشے کو تقویت دیتے ہیں۔ سرکاری یونیورسٹیوں میں انتظامی کنٹرول نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن پرائیویٹ اداروں کے لیے اختیار کیے جانے والے سخت طریقے سوالات پیدا کرتے ہیں۔اقلیتوں کے اندر بے اعتمادی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا رویہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ بعض ریاستوں میں پولیس کے طرزِ عمل پر جانبداری کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ یہ تاثر عام ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کارروائی زیادہ تیزی سے کی جاتی ہے، جب کہ دیگر معاملات میں وہی رفتار نظر نہیں آتی۔مسلمانوں کے خلاف کارروائی کے لیے محض شک اور گمان ہی کافی ہے جب کہ اکثریت سے تعلق رکھنے شرپسند کھلے عام آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔ اگر قانون سب کے لیے یکساں طور پر نافذ ہو تو نہ صرف انصاف کا بول بالا ہوگا بلکہ جرائم میں بھی کمی آئے گی۔اقلیتوں،بالخصوص مسلمانوں، میں بے اعتمادی کے بڑھتے احساس کا ایک سبب بعض سرکاری فیصلے بھی ہیں، جنھیں وہ اپنے مذہبی حقوق کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ مساجد اور مزارات کا انہدام، عوامی مقامات پر نماز کے حوالے سے پابندیاں، لاؤڈ اسپیکر سے متعلق سخت ہدایات (جب کہ دیگر مذہبی یا سماجی تقریبات میں بلند آواز پر کوئی خاص کارروائی نہیں ہوتی)، عرس کے انعقاد میں مشکلات، حجاب پر اعتراض، مسلم پرسنل لا میں مداخلت، مسلم ناموں سے منسوب مقامات کے ناموں کی تبدیلی، وقف بل اور سی اے اے جیسے موضوعات مسلمانوں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھاتے ہیں۔یہ خدشات اس وقت مزید مضبوط ہو جاتے ہیں جب بعض وزراء یا عوامی نمائندوں کے بیانات میں مسلم مخالف لہجہ محسوس کیا جائے۔شاید حکمراں طبقہ یہی چاہتا ہے کہ مسلمان عدم تحفظ کے خوف میں مبتلا رہیں مگر اس کا فائدہ کیا ہوگا؟یہ سمجھنے سے میں قاصر ہوں۔عدالتی عمل سے متعلق حالیہ فیصلے بھی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ شرجیل امام اور عمر خالد جیسے معاملات میں انصاف میں تاخیر کے تاثر نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ عدلیہ کی خود مختاری مسلمہ ہے، لیکن انصاف میں غیر معمولی تاخیر عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔ ایک طرف بعض سنگین جرائم کے ملزمین کو بار بار ضمانت مل جانا، اور دوسری طرف برسوں سے زیرِ سماعت مقدمات کا فیصلہ نہ ہونا، نظامِ انصاف پر سوال اٹھاتا ہے۔اگر کوئی شخص واقعی فساد کا مجرم ہے تو اسے سزا دینے میں تاخیر کیوں؟ اور اگر بے گناہ ہے تو اسے برسوں جیل میں کیوں رکھا جائے؟ پانچ سال کی مدت کوئی معمولی عرصہ نہیں۔پانچ سال میں ساٹھ مہینے اور1825دن ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات جن میں انسانی جانیں ضائع ہوں اور ملک کو شدید نقصان پہنچے، ان کے فیصلے میں غیر معمولی تاخیر خود انصاف کے تصور کو مجروح کرتی ہے۔ یہی طرزِ عمل اقلیتوں میں بے اعتمادی کو گہرا کرتا ہے۔جب کوئی قوم خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے اور اسے یہ احساس ہو جائے کہ انصاف تک اس کی رسائی مشکل ہے، تو وہ خوف اور احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ کیفیت اس کی تعمیری اور تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے، جس کا نقصان پورے سماج اور ملک کو اٹھانا پڑتا ہے۔ پندرہ فیصد آبادی اور بیس کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ایک طبقے کا خود کو غیر محفوظ محسوس کرنا ملک کے لیے کسی طور مفید نہیں۔قوتِ کار میں کمی، نوجوانوں میں مایوسی، جرائم کا بڑھتا امکان اور ردِ عمل کی سیاست—یہ سب اسی عدم تحفظ کے ممکنہ نتائج ہیں۔ دنیا بھر میں ہم اس کے اثرات دیکھ چکے ہیں، چاہے وہ فلسطین کا مسئلہ ہو، عالمی طاقتوں کی جارحیت ہو یا خود ہمارے ملک میں کشمیر کی صورتِ حال۔ میری رائے میں ایک طرف مسلم قیادت کو چاہیے کہ وہ اس بے اعتمادی کو خود اعتمادی میں بدلنے کے لیے سنجیدہ کوشش کرے، اور دوسری طرف حکومت کے ذمہ داران پر لازم ہے کہ وہ اقلیتوں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کریں۔ آئین کی بالادستی اور قانون کی مساوی عمل داری ہی جمہوری ہندوستان کی بنیاد ہے۔ کسی ایک گروہ کو دوسرے کے خلاف کھلی چھوٹ دینا نہ ملک کے مفاد میں ہے نہ سماج کے۔عوام کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ نفرت کا ماحول سب کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ راحت اندوریؔ نے کہا تھا:

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

(یہ مضمون نگار کی اپنی رائے ہے،اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں)

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے