
سرفراز احمد قاسمی : 8099695186
ہم جس پرآشوب دور سے گزررہے ہیں اس میں بعض اوقات ہر آنے والی صبح ایک نیا فتنہ لے کر نمودار ہوتی ہے،لفظ فتنہ ہر قسم کے امتحان،عذاب،شدت اور ہر قسم کے مکروہ و غلط کام کے لیے استعمال ہوتا ہے،مثلا کفر،معصیت، گناہ، فسق و فجور اور ہرمصیبت کے لیے یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے،اگرکوئی مصیبت اللہ تعالی کی جانب سے ہو تو اس میں حکمت ہوتی ہے لیکن اگر کسی انسان کی جانب سے ہو تو وہ قابل مذمت ہوتی ہے،ان حالات میں ہمارے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات ہی واحد ذریعہ نجات ہیں،لہذا ہر مسلمان کا یہ فرض ہے اور انکو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آخر یہ نبوی ہدایات کیا ہیں؟ فتنوں کے دور میں ہم کیا کریں؟ کیسے رہیں؟ حدیث پاک میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ نیک اعمال میں سبقت کرو کیونکہ فتنے ایسے ظاہر ہونگے جیسے پے درپے رات کی تاریکی کہ آدمی کی صبح اس حال میں ہوگی کہ وہ مومن ہوگا اور شام کے وقت کافر ہوگا ایسے ہی کوئی شام کے وقت مومن ہوگا پھر جب صبح ہوگی تو وہ کافر ہوجائے گا یعنی اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور وہ اپنے دین کو دنیا کے حقیر سامان کے عوض بیچ ڈالے گا'(مسلم) آج چاروں طرف فتنوں کا سیلاب اور اسکی یلغار ہے،ایسے ماحول میں ہمیں یہ ضرور غور وفکر کرنا ہوگا کہ کہیں ہم سے ایمان کی دولت تو سلب نہیں کی جارہی ہے؟ پچھلے دنوں اخبارات کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ مسلم انتظامیہ اور عربی الفاظ کے ناموں سے شروع کیے جانے والے تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو داخلہ دلوانے کے بعد ان کے مستقبل بالخصوص دین و دنیا کے متعلق بے فکر رہنے والے اولیائے طلباء اور سرپرستوں کو فوری ہوش میں آتے ہوئے اپنے بچوں میں ختم ہونے والی ملی حمیت اور ان کے دینی مزاج میں پیدا ہونے والی تبدیلی کے متعلق فکر کرنے کی ضرورت ہے۔شہر حیدرآباد میں مختصر مدت میں ترقی کرتے ہوئے اداروں کا جال پھیلانے والے بعض تعلیمی ادارے آر ایس ایس کے نظریات کے فروغ کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں،انگریزی سوٹ اور مذہبی لبادہ اوڑھ کر عصری تعلیم کی فراہمی کے دعوے کرتے ہوئے معیاری تعلیم کے نام پر ملت کے نونہالوں اور نوجوانوں کی حمیت پر ڈاکہ ڈالنے والے اسکول و کالج انتظامیہ سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے،ان تعلیمی اداروں اور انتظامیہ کے چنگل سے ملت کے نوجوانوں اور نونہالوں کو دور رکھنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جانے چاہیے جو کہ داڑھی ٹوپی اور مسلمانوں کی طرح نظر آنے والے انتظامیہ جو داڑھی ٹوپی کے ساتھ خود کو دور جدید کے علمبردار ثابت کرنے کے لیے کوٹ،پینٹ پہن کر،مذہب کی آڑ میں درحقیقت ‘شیشو مندر’چلا رہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس ملک میں مسلم کالج اور یونیورسٹیز کو اپنا نشانہ بناتے ہوئے انہیں اپنے نظریات کے فروغ کے لیے استعمال کررہی ہے،اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا،مسلم راشٹریہ منچ کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان رسائی حاصل کرتے ہوئے مسلمانوں میں جو کام ہورہا ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے،لیکن اس کام کی انجام دہی کے لیے مسلمانوں میں موجود کالی بھیڑوں کا جو استعمال ہورہا ہے،ان کے چہروں پر پڑے نقاب کو چاک کیاجانا ضروری ہے۔ہدایت دینے والی ذات اللہ کی ہے لیکن مذہبی ناموں کا استعمال کرتے ہوئے مسلم خاندانوں کو راغب کرکے اپنی داڑھی اور ٹوپی کے ذریعے انہیں متاثر کرنے والے انتظامیہ کو ہی اب مسلم راشٹریہ منچ کے پروگرام میں دیکھا جانے لگا ہے، گزشتہ پارلیمانی انتخابات کے دوران شہر حیدرآباد کے ایک مسلم انتظامیہ کے تعلیمی ادارے کے ذریعے بھارتیہ جنتا پارٹی کی امیدوارہ کے لیے مہم چلانے اور انہیں مدد فراہم کرنے کا الزام عائد ہوا تھا لیکن کسی بھی گوشے سے اس بات کی توثیق نہیں ہوئی لیکن اب ان کالجز اور اسکولوں کے انتظامیہ کے ذمہ داران اندریش کمار کی موجودگی میں ہونے والے پروگرامز میں برسر عام شرکت کرنے لگے ہیں، گزشتہ دنوں شہر حیدرآباد کی سرکردہ جامعہ میں منعقدہ پروگرام جس میں مسلم راشٹریہ منچ کے اندریش کمار نے شرکت کی تھی،اس پروگرام میں ایسی کالی بھیڑیں بھی موجود تھیں جو مسلمانوں کے درمیان تعلیم کے نام پر نظریہ سازی کی ذمہ داری پورا کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آر ایس ایس نے مسلم نوجوانوں تک اپنے نظریات پہونچانے اور انہیں قریب کرنے کے لیے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق ملک بھر کی جامعات کو اپنے مراکز کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی تھی لیکن جب انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ شہر حیدرآباد کی جامعات میں راست مسلم نوجوان داخلہ حاصل کرنے کے بجائے ملحقہ کالجز میں داخلہ حاصل کرتے ہوئے تعلیم حاصل کرتے ہیں تو مسلم راشٹریہ منچ نے ان تعلیمی اداروں تک انتظامیہ کے ذریعے رسائی حاصل کرنے کے اقدامات شروع کردیے ہیں۔بتایا یہ بھی جاتا ہے کہ مسلم انتظامیہ کے ایسے تعلیمی ادارے جو بیرونی امداد حاصل کرتے ہوئے اپنے ادارہ جات قائم کررہے ہیں ان کی تفصیلات اکٹھا کرتے ہوئے آر ایس ایس کی محاذی تنظیموں کی جانب سے انہیں قریب کیاجارہا ہے اور ملی مفادات کی پرواہ کیے بغیر مذہبی لبادہ اوڑھے ایسے عناصر تیز رفتار ترقی کے لیے قوم و ملت کے نونہالوں اور نوجوانوں کا سودا کرنے لگے ہیں،شہر حیدرآباد کی جامعات میں ہونے والے مسلم راشٹریہ منچ کے ان پروگرامز پر مسلمانوں کو گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو کہ منصوبہ بند انداز میں مسلمانوں کو آر ایس ایس سے قریب کرنے کے لیے منعقد کئے جارہے ہیں،تنظیم کے منصوبے کے مطابق ان کا نشانہ وہ خاندان اور نوجوان ہیں جو دراصل اپنی مذہبی شناخت کی برقراری کے ساتھ عصری تعلیم حاصل کرتے ہوئے ترقی کرنا چاہتے ہیں،تعلیمی اداروں کے نام پر مسلمانوں سے ملی غیرت و حمیت کو ختم کرنے والا یہ گروہ وہی ہے جو چند برس قبل ہزاروں مسلمانوں کا سرمایہ ہڑپ کرنے والی کمپنی جو کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مقدمات کا سامنا کررہی ہے،اس گروپ میں مسلمانوں کو سرمایہ کاری کی ترغیب دینے میں پیش پیش رہا تھا اور متمول مسلمانوں کی معیشت کو ٹھکانے لگانے کے بعد اب ملی حمیت رکھنے والے والدین اور سرپرستوں کی نسلوں کا بیڑا غرق کرنے پرتلا ہوا ہے۔
اسی طرح یہ بھی خبر آئی تھی کہ کچھ مہینے قبل آر ایس ایس شہر حیدرآباد میں مسلمانوں کی تائید کے نام پر قادیانیوں کو ساتھ لیتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی مہم کا آغاز کرچکی ہے اور امن کے نام پر تیار کی جانے والی سازش کے ذریعے نہ صرف مسلمانوں کو آر ایس ایس سے قریب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،بلکہ مسلم نما چہروں کو آر ایس ایس اپنے ساتھ لیتے ہوئے یہ باور کروانے لگی ہے کہ مسلمان اب آر ایس ایس سے قربت اختیار کررہے ہیں،وقف مرممہ ایکٹ کی تائید کے لیے جن لوگوں کو آر ایس ایس نے اپنے ساتھ لیا تھا ان کا استعمال کرنے کے بعد اب قادیانیوں کے ساتھ شہر حیدرآباد میں اجلاس منعقد کرتے ہوئے اس کی خبریں بھی شائع کروائی جانے لگی ہیں جبکہ شہر حیدرآباد میں قادیانیوں کی یہ جرأت نہیں تھی۔ وہ اپنے اجلاس یا منصوبوں کے متعلق سرعام کوئی سرگرمیاں انجام نہیں دیا کرتے تھے بلکہ اپنی شناخت کو مخفی رکھتے ہوئے زندگی گزارتے تھے لیکن اب حیدرآباد میں وہ اپنی سرگرمیوں کے متعلق اخبارات میں خبریں شائع کروانے لگے ہیں گزشتہ دنوں معاشرے میں امن کے نام پر منعقد کیے گئے اجلاس جس میں بین مذہبی رہنماؤں کے ساتھ آر ایس ایس قائدین کو بھی مدعو کیا گیا تھا اس اجلاس کی رپورٹ انگریزی کے ایک مؤقر روزنامہ میں شائع ہوئی ہے جس میں قادیانیت کے ترجمان کا بیان اس طبقے سے تعلق رکھنے والے شخص کے نام کے ساتھ شائع ہوا ہے،شہرحیدرآباد میں جہاں قادیانیوں کی سرگرمیاں طویل عرصے تک محدود ہوا کرتی تھیں اور ان سرگرمیوں کو مخفی رکھا جاتا تھا بلکہ قادیانی اپنی شناخت بھی مخفی رکھتے ہوئے خود کو مسلمان کے طور پر پیش کیا کرتے تھے لیکن اب ان کی سرگرمیاں فروغ پانے لگی ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے،عالمی سطح پر قادیانیوں کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک ہیومانٹی فرسٹ کے 30 سال کی تکمیل کے موقع پر منعقدہ اس اجلاس میں عیسائی،بدھ مت اور ہندو مذاہب کے ماننے والی مذہبی شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا،جو کہ قادیانیوں کی جانب سے منعقد کی گئی تھی اجلاس کے داعی قادیانی طبقے کے نمائندوں نے دعوی کیا کہ گزشتہ ماہ دنیا بھر میں اس طرح کے اجلاس اور تقاریب منعقد کی گئی ہے،شہر حیدرآباد میں آر ایس ایس کی پشت پناہی حاصل کرتے ہوئے ان کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے والے نام نہاد مسلم چہروں کے بعد اب قادیانی بھی آر ایس ایس کے مسلم چہروں کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کے ساتھ ہوچلے ہیں،جو بڑی تشویش ناک بات ہے۔
ایسے ہی ایک دوسری خبر یہ بھی آئی تھی کہ حیدرآباد کے مسلمانوں کی ملی حمیت کو نشانہ بنانے کے بعد ہندو توا طاقتیں اب دوسرے مسلم اکثریتی آبادی والے شہرنظام آباد میں مسلمانوں کی نبض ٹٹولنے لگی ہیں،متحدہ آندھرا پردیش میں جہاں مسلمان اپنے مذہبی تشخص اور ملی حمیت کے ساتھ زندگی گزارتے تھے،وہیں تشکیل تلنگانہ کے بعد بھی مسلمانوں کے ساتھ کوئی ظلم و زیادتی ہوتی تو امت مسلمہ ان کے خلاف آواز اٹھانے سے گریز نہیں کرتی تھی،اکثر وبیشتر یہ آواز حیدرآباد اور نظام آباد سے بلند ہوتی تھی، کیونکہ ان دونوں شہروں میں مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادیاں ہیں اور امت کے لیے آواز اٹھانے والے ریاست کے بیشتر علاقوں میں موجود ہیں لیکن ان دونوں شہروں میں امت کے مسائل کو تحریک بنانے کی کوشش کی جاتی ہے جو بڑی حد تک کامیاب ہوا کرتی ہے،ہندوتوا طاقتیں امت کے شیرازے کو بکھیرنے،مسلم غالب آبادی والے علاقوں میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی کر کے ان کے متعلق اس قدر بدزنی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر ان کے ساتھ کوئی زیادتی ہوتی ہے تو اسلامی تعلیمات کے مطابق ظالم کو ظلم سے روکنے کی تعلیمات پر عمل کے بجائے ظلم کی حمایت کرنے لگتے ہیں جو جمہوری اصولوں اور قوانین کی دھجیاں اڑانے کا سبب ہے۔شہر حیدرآباد کی یہ تاریخ رہی ہے کہ پورے ملک میں یا ریاست میں کسی بھی مقام پر مسلمانوں کے خلاف کہیں بھی ظلم ہو یا کوئی آفت آئے تو فوری حیدرآباد سے آواز اٹھا کرتی تھی اور مظلوموں کی راحت کے لیے امداد اکٹھی کر کے اپنا کردار ادا کیا کرتا تھا لیکن اب صورتحال کا مشاہدہ کیا جائے تو شمالی ہند سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جانے کے باوجود حیدرآباد خاموش ہوچکا ہے اور اگر کوئی مدد کی بھی جا رہی ہے تو خاموشی سے ہورہی ہے،جو کہ ہندوتوا قوتوں کی کامیابی تصور کی جارہی ہے، مسلم آبادیوں کو مسمار کیا جائے یا مسلمانوں پر غلط مقدمات درج کئے جائیں یا پھر مسلم نوجوان ہجومی تشدد کا شکار ہوں،ایسا لگتاہے کہ اب امت واحدہ کا تصور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے،شہر حیدرآباد میں 1990 کی دہائی میں ملی حمیت کے جو مظاہرے کیے جاتے تھے،انہیں 30 سال میں بتدریج ختم کردیا گیا،بابری مسجد کی شہادت،افغانستان یا عراق پر حملہ ہو یا پولیس انکاؤنٹر میں عزیز اور اعظم کو قتل کرنے کا معاملہ شہر میں ان کے خلاف آواز اٹھائی جاتی تھی اور پورا شہر سراپا احتجاج ہوجاتا تھا، لیکن اب حیدرآباد میں کسی بھی معاملہ میں حتی کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ملعون رکن اسمبلی کی جانب سے مسلسل گستاخی کے باوجود اسے گرفتار کروانے کی طاقت سے حیدرآباد کے مسلمان محروم ہوچکے ہیں،شہر کی اس حالت کے بعد اب ہندوتوا طاقتوں کی نظریں شہر نظام آباد پر مرکوز ہوچکی ہیں اور نظام آباد میں مسلمانوں کو کمزور کرنے میں کامیابی کی جانچ کے لیے ابتدائی طور پرمجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور آئندہ بے قصور نوجوانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کرنے کی سازش تیار کی جارہی ہے،اگر گزشتہ دو برسوں میں تلنگانہ اضلاع میں مخالف مسلم واقعات کا جائزہ لیا جائے تو ہندوتوا طاقتوں کا نشانہ سرحدی اضلاع رہے ہیں جن میں عادل آباد،سنگا ریڈی،میدک اور نظام آباد شامل ہے،ان اضلاع میں مسلمانوں کو نشانہ بنا کر ریاست کے مسلمانوں کی نبض ٹٹولنے کی جو کوشش کی جارہی ہے،اس کے متعلق امت مسلمہ کو باشعور ہونے،چوکنا ہوکر زندگی گذارنے اور اپنی ملی حمیت کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے۔حالات کتنے نازک ہورہے ہیں اور ان حالات میں ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟کیا ان سب کے باوجود ہم خواب غفلت میں رہیں گے،کیا واقعی مسلمانوں سے امت واحدہ کا تصور ختم ہورہاہے؟اس پر کون سوچے گا اور کون لائحہ عمل طے کرے گا؟اقبال مرحوم نے درست کہا تھا کہ
نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
(یہ مضمون نگار کی اپنی رائے ہے،اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں)






Leave a Reply