Advertisement

مدھیہ پردیش:جج تبسم خان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں،دو افراد کے خلاف ایف آئی آر درج

نئی دہلی (ایجنسی /ایف ای بی )مدھیہ پردیش کے نرمداپورم (سابقہ ہوشنگ آباد) ضلع میں پولیس نے دو نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ ان پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے اور ان کے خلاف فرقہ وارانہ تبصرے کرنے کا الزام ہے۔جج تبسم خان نے حال ہی میں مبینہ گائے کی اسمگلنگ سے جڑے ہجومی تشدد (موب لنچنگ) کے ایک مقدمے میں 14 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔رپورٹ کے مطابق، سیونی مالوا پولیس نے خود نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کیا۔ پولیس نے یہ کارروائی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی قابل اعتراض پوسٹوں اور ویڈیوز کے بعد کی، جن میں جج کے خلاف دھمکیاں اور اشتعال انگیز تبصرے کیے گئے تھے۔سیونی مالوا تھانے کے ایس ایچ او سدھاکر باراسکر نے بتایا کہ مرکزی وزارت داخلہ کے سائبر سیل کی جانب سے موصول ہونے والے نوٹس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس نے بھارتیہ نیایا سنہیتا (بی این ایس) کی متعلقہ دفعات کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت بھی کارروائی شروع کر دی ہے اور معاملے کی تفتیش جاری ہےانہوں نے کہا، "ایک مبینہ ویڈیو میں، ایک شخص نے تشدد کی دھمکی دی تھی کہ اگر 14 مجرموں کو 10 دنوں کے اندر رہا نہ کیا گیا تو، ایک اور ویڈیو میں، ایک خاتون نے جج کے خلاف فرقہ وارانہ تبصرہ کیا اور خبردار کیا کہ اسے فیصلے کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔”انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ملزمان کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔قابل غور بات ہے کہ یہ دھمکیاں 12 جون کو سنائے گئے فیصلے کے بعد سامنے آئیں، جس میں اے ڈی جے تبسم خان نے 14 ملزمان کو مبینہ طور پر گائے کی اسمگلنگ سے منسلک موب لنچنگ کے ایک کیس میں قتل، اقدام قتل، فسادات، اور غلط طریقے سے روک تھام کا جرم ثابت ہوجانے کے بعد عمر قید کی سزا سنائی تھی۔وہیںانڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، تب فیصلے کے فوراً بعد عدالت کے احاطے کے باہر ایک کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی تھی جب مجرموں کے اہل خانہ نے انہیں جیل منتقل کرنے والی پولیس کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔ فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز اور پوسٹس منظر عام پر آئیں جن میں جج کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔کچھ ویڈیوز میں عمر قید کی سزا کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والے احتجاج کو دکھایا گیا، ان الزامات کے ساتھ کہ جج نے مذہبی بنیادوں پر اپنا فیصلی صادر کیا۔وہیں کچھ احتجاج کے دوران جج کے پتلے جلائے جانے کے ویڈیوز بھی سامنے آئے۔
یہ واقعہ 3 اگست 2022 کا ہے۔ اس دن مہاراشٹر کے امراوتی میں ایک میلے میں 30 مویشیوں کو لے جانے والے ایک ٹرک کو سیونی مالوا کے بارکھڈ گاؤں کے قریب روکا گیا۔ الزام ہے کہ ہجوم نے ٹرک میں سوار تینوں افراد پر لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں نذیر احمد کی موت ہو گئی۔پولیس کے مطابق اس حملے میں کچھ دیہاتی اور خود ساختہ گائے کے محافظ شامل تھے۔ اس واقعے کاایک مبینہ ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔انڈین ایکسپریس کے مطابق، اس پوری مہم کو قانونی برادری کے اراکین اور عوامی شخصیات کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے عدالتی فیصلے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوششوں اور ایک عدالتی افسر کو اپنے فرائض کی ادائیگی پر نشانہ بنانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر پون کھیرا نے کہا، "عام طور پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جاتی ہے، لیکن مودی کے ہندوستان میں نفرت پھیلانے والے آزاد گھومتے ہیں۔ سزا دینے کے بجائے سائبر سیل محض نوٹس جاری کرتا ہے۔”کھیرا نے مزید کہا، "تمام مجرم ہندو مرد ہیں۔ تاہم، انہیں ان کے مذہب کی وجہ سے سزا نہیں سنائی گئی ۔انہیں اس لیے سزا سنائی گئی کیونکہ تحقیقات میںنہیں فسادات، قتل کی کوشش اور قتل کا مجرم پایا گیا تھا۔”دریں اثنا، بی جے پی کے ترجمان ہتیش باجپائی نے کہا، "پولیس نے کیس سو موٹو درج کرلیا ہے۔ ملزم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔”

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے