Advertisement

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران عرضی گزار کا ہنگامہ ،سی جے آئی کے خلاف نازیبا الفاظ کہے،کاغذات پھینکے

نئی دہلی (ایجنسی /ایف ای بی )سپریم کورٹ میں جمعہ کو ایک مقدمے کی سماعت کے دوران غیر معمولی واقعہ پیش آیا۔ اپنی طرف سے مقدمہ لڑنے والے ایک درخواست گزار نے سماعت کے دوران ججوں کے سامنے نامناسب زبان استعمال کی اور غصے میں اپنی فائل کے کاغذات عدالت میں اچھال دیے۔ رپورٹ کے مطابق، پربل پرتاپ نامی شخص جسٹس کے وی وشواناتھن اور جسٹس آلوک ارادے کی بنچ کے سامنے پیش ہوا تھا۔ وہ الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رہا تھا، جس میں اس کی رٹ پٹیشن مسترد کر دی گئی تھی۔ درخواست گزار نے بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 173(4) کے تحت اپنی درخواست کو نجی شکایت کے مقدمے میں تبدیل کرنے کی اپیل کی تھی۔ اگرچہ سماعت کے دوران اس کا رویہ نامناسب تھا، لیکن سپریم کورٹ نے اس کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کرنے کا حکم نہیں دیا۔اطلاعات کے مطابق جب کورٹ میںسماعت شروع ہوئی تو عرضی گزار نے بنچ کے سامنے تحکمانہ لہجے میں عجیب و غریب نازیبا جملے کہے۔ عرضی گزار نے کہا ،”مسٹر جوڈیشل سرونٹ، میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ وکاس نگر، لکھنؤ کے اے سی پی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔” جسٹس وشواناتھن نے پوچھا، "آپ مجھے حکم جاری کر رہے ہیں، آپ ہمیں حکم جاری کر رہے ہیں؟”ان جملوں کے ساتھ درخواست گزار نے اچانک، بغیر کسی اشتعال کے، کیس کے کاغذات کو کمرہ عدالت میں پھینک دیا اور چیف جسٹس آف انڈیا سے نازیبا الفا ظ کہے۔ سپریم کورٹ کے سکیورٹی اہلکاروں نے اسے جلدی سے پکڑ لیا اور باہر لے گئے۔ پورے واقعے کے دوران، بنچ بیٹھی رہی اور اس نے غصے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
غور طلب ہے کہ ایسا ہی ایک واقعہ 6 اکتوبر 2025 کو پیش آیا تھا، جب سپریم کورٹ میں ایک سماعت کے دوران ایک وکیل نے سابق چیف جسٹس بی آر گوائی پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی تھی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا۔ بار کونسل آف انڈیا (BCI) نے ان کا لائسنس معطل کر دیا، اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ان کی رکنیت منسوخ کر دی۔ بعد ازاں سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ملزم وکیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے