Advertisement

گجرات : مساجد کے انہدام پر جمعیۃعلماءہند کا وفد بھج پہنچا

نئی دہلی/بھج(پریس ریلیز /ایف ای بی ): گجرات کے سرحدی ضلع کچھ (بھج) میں مساجد، درگاہوں اور دیگر مذہبی املاک کے انہدام کے بعد پورے علاقے میں شدید اضطراب، بے چینی اور تشویش کی فضا قائم ہے۔ زخموں پر مزید نمک چھڑکتے ہوئے آج تحصیل گاندھی دھام کی تاریخی مسجد جونا کنڈلا کو بھی منہدم کر دیا گیاجسے منفرد طرزِ تعمیر کے باعث علاقے میں نمایاں شناخت حاصل تھی۔اس سنگین صورتِ حال کے پیشِ نظر صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند کا ایک اعلیٰ سطحی وفد متاثرہ علاقہ پہنچا۔ وفد کی قیادت جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کررہے ہیںجب کہ اس میں جمعیۃ کے سینئر ذمہ داران، قانونی ماہرین اور ریاستی عہدیداران بھی شامل ہیں۔
وفد نے سب سے پہلے مسجد جونا کنڈلا کے ذمہ داران اور مقامی افراد سے ملاقات کی، حالات کا براہِ راست جائزہ لیا اور ممتاز قانونی ماہرین وسینئر وکلاء کے ساتھ مشورہ کیا تاکہ دستیاب قانونی راستوں اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا جا سکے۔ مسجد کے صدر محمد سمار نے بتایا کہ نوٹس دیے بغیر مسجد پر 29تاریخ کی صبح بلڈوزر چلا دیا گیا۔ جب ہم نے اس پر سوال اٹھایا تو پولیس نے ہمیں زبردستی وہاں سے ہٹا دیا اور ہمیں دھمکیاں بھی دی گئیں۔جب کہ مسجد جونا کنڈلا 1965 سے سرکاری وقف ریکارڈ میں درج ہے۔ مزید برآں مسجد کی عمارت فنِ تعمیر کے اعتبار سے بھی نمایاں اہمیت کی حامل تھی۔ اسی طرح آدی پور کی جامع مسجد کو بھی منہدم کردیا گیا ۔اطلاعات کے مطابق اب تک 30 تعمیرات کو منہدم کیا جا چکا ہے جن میں 11 مذہبی مقامات، 17 تجارتی تعمیرات اور 2 رہائشی مکانات شامل ہیں۔ مخالفت کرنے والے 25نوجوانوں کو جیل میں بند کردیا گیا ہے۔بھج میں مسلمان آبادی تقریباً 35 فیصد اور ضلع کچھ میں تقریباً 25 فیصد ہے۔اتنی بڑی مسلم آبادی کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں سیکڑوں مساجد، درگاہیں اور دیگر مذہبی مقامات موجود ہیں۔ یہاں مسلمان سیاسی، سماجی اور بڑی حد تک معاشی اعتبار سے بھی حاشیے پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ بھج تعلقہ میں موجود 78 کچی آبادیوں میں سے 63 ایسی ہیں جہاں صرف مسلمان آباد ہیں۔یہاں کے لوگ سادہ مزاج ہیں ، وہ اپنی عبادت گاہوں کو منہدم ہوتے دیکھ کر شدید غم، صدمے اور بے بسی کا شکار ہیں۔
جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے اپنے ابتدائی ردِ عمل میں واضح کیا کہ اگر کوئی مسجد، درگاہ یا دیگر مذہبی مقام قانونی طور پر وقف ریکارڈ میں درج ہو تو اس کے بارے میں کسی بھی انتظامی کارروائی سے قبل متعلقہ قوانین، قدرتی انصاف کے اصولوں اور آئینی ضمانتوں کی مکمل پابندی ناگزیر ہے۔ مذہبی مقامات سے متعلق معاملات انتہائی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لیے سپریم کورٹ نے اپنے مختلف فیصلوں میں انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ وہ مذہبی مقامات سے متعلق کارروائی اس انداز میں انجام دے کہ شہریوں کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں اور قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔دوسرت طرف وفد نے یہ بھی محسوس کیا کہ مذکورہ علاقہ سرحد سےکافی دور ہے، اس کے باوجود بھی سرحد کے نام پر یہ کارروائی ناقابل فہم ہے۔
وفد نے مقامی مسلمانوں کو دلاسہ دیتے ہوئے یقین دلایا کہ اس ناانصافی کے خلاف ہر ممکن قانونی جدوجہد کی جائے گی۔ وفد کے ارکان نے کہاکہ وہ جلد ہی بھج انتظامیہ سے بھی ملاقات کریں گے۔ وفد اپنی تفصیلی رپورٹ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی کی خدمت میں پیش کرے گا، جس کی روشنی میں آئندہ کے قانونی، تنظیمی اور عوامی اقدامات کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
جمعیۃ علماء ہند کے وفد میں ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی، جمعیۃ علماء مدھیہ پردیش کے صدر حاجی محمد ہارون، جمعیۃ علماء گجرات کے ناظم تنظیم عتیق الرحمن قریشی اور جمعیۃ علماء ہند کے آرگنائزر مولانا ابوالحسن پالن پوری شامل ہیں۔ مقامی ذمہ داران میں جمعیۃ علماء کچھ کے ذمہ دار نور محمد رائما، سلیم بھائی رائما، مفتی انیس (چلڈرن ولیج، انجار)، عبدالکریم بافن (کمشنر، یوتھ کلب) اور انیس بھائی قریشی بھی شریک ہیں۔ازیں قبل احمد آباد میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں جمعیۃعلماء گجرات کے ناظم اعلی پروفیسر نثار احمد انصاری اور ایڈوکیٹ طاہر حکیم بھی شامل تھے ۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے