Advertisement

سپریم کورٹ کا آسارام باپو کی سزا پر روک لگانے اور انہیں ضمانت دینے سے انکار

نئی دہلی (ایجنسی /ایف ای بی ) سپریم کورٹ نے منگل (30 جون) کو خود ساختہ مذہبی رہنما آسارام باپو کی سزا پر فی الحال روک لگانے یا انہیں عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔البتہ عدالت نے راجستھان ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ان کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی، جس میں آسارام باپو کو 2013 میں جودھ پور کے اپنے آشرم میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس شیل ناگو پر مشتمل بنچ نے آسارام باپو کی درخواست پر راجستھان حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا۔سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ ریاستی حکومت کا مؤقف سنے بغیر آسارام باپو کو کوئی عبوری ریلیف نہیں دیا جائے گا، سوائے اس صورت کے جب ان کی طبی حالت ان کی جان کے لیے سنگین خطرہ بن جائے۔ واضح رہے کہ 27 مئی 2026 کو راجستھان ہائی کورٹ نے نابالغ کی عصمت دری کیس میں آسارام ​​باپو کی عمر قید کی سزا کو برقرار رکھا۔ تاہم عدالت نے انہیں اجتماعی عصمت دری اور مجرمانہ سازش کے الزامات سے بری کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے فوری طور پر جودھ پور جیل میں خودسپردگی کر د ی تھی۔
سپریم کورٹ کی بینچ نے کہا، "ہم ابھی ضمانت نہیں دے رہے ہیں۔ ریاست کا فریق سننے کے بعد، ہم اس بات پر غور کریں گے کہ کیا ضمانت دینے کی سنگین ضرورت ہے، جیسا کہ اس کی جان کو خطرہ ہے۔”عدالت نے ان کی سزا پر فی الحال روک لگانے سے بھی انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ ہم سزا پر روک لگانے پر غور نہیں کر رہے ہیں ۔ نیوز پورٹل دی وائر ہندی میں ،’دی ہندو‘ کی رپورٹ کے حوالے سے شائع ایک رپورٹ کے مطابق ، عدالت نے کہا، "ہم صحت کے عمومی مسائل پر غور نہیں کریں گے۔ اگر طبی ضمانت دی جانی ہے، تو صرف اس صورت میں دی جائے گی جب آپ کی جان کو خطرہ ہو۔
ہم صرف اس پر غور کریں گے۔”بنچ نے کہا کہ یہ عدالت اس کیس کو کسی دوسرے مجرمانہ کیس کی طرح نہیں دیکھ سکتی۔ریاست کو تین ہفتوں کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے بنچ نے حکم دیا کہ آسارام کو فی الحال جیل میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کو جاری رکھا جائے۔ عدالت نے انہیں یہچھوٹبھی دی کہ اگر ان کی طبیعت خراب ہوتی ہے تو وہ جلد سماعت کی مانگ کر سکتے ہیں۔عدالت نے مزید کہا، "اگر اس کی جان بچانا بالکل ضروری ہوا تو ہمچھوٹ دے سکتے ہیں اور تاخیر نہیں کریں گے۔ لیکن ہم ریاست کا موقف سنیں گے۔ ہمیں انصاف کرنا ہے۔”
آسارام کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل دما شیشادری نائیڈو نے عدالت سے ان کی بڑھتی عمر اور صحت کی حالت پر غور کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ آسارام، جس کی عمر اب 80 سال سے زیادہ ہے، متعدد بیماریوں کا شکار ہے۔ اس نے یہ بھی دلیل دی کہ ان کی سزا "سوشل میڈیا ٹرائل” سے متاثر ہوئی ہے۔کسی بھی عبوری راحت کی مخالفت کرتے ہوئے، ریاست اور متاثرہ کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے نشاندہی کی کہ اس معاملے میں متاثرہ ایک نابالغ ہے اور جب بھی ضرورت پڑی آسارام ہمیشہ طبی علاج حاصل کیا ہے۔ ریاست نے عدالت کو بتایا کہ اسے اس ماہ کے شروع میں ایک ہسپتال لے جایا گیا تھا اور کوئی جان لیوا حالت نہیں پائی گئی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ آسارام عصمت دری کے دو معاملوں میں مجرم ٹھہرایاجا چکا ہے اور وہ 31 اگست 2013 سے جیل میں ہے۔ اس پر POCSO ایکٹ اور درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔
جنوری 2023 میں گاندھی نگر سیشن کورٹ نے آسارا م کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے پایا کہ اس نے اپنے موتیرا آشرم میں 2001 اور 2006 کے درمیان بار بار ایک 16 سالہ لڑکی کی عصمت دری کی۔ اسے تعزیرات ہند کی کئی دفعات کے تحت مجرم قرار دیا گیا تھا، جس میں عصمت دری، غیر فطری جرائم، غلط قید، مجرمانہ دھمکیاں، حملہ یا زبردستی روکنے کے لیے طاقت کا استعمال شامل ہے۔
گاندھی نگر کی ایک عدالت نے بھی آسارام کو 2013 میں اس کے خلاف دائر ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس پر 2001 سے 2006 کے درمیان سورت کی ایک خاتون پیروکار کے ساتھ احمد آباد کے قریب واقع موتیرا میں واقع اپنے آشرم میں بار بار جنسی زیادتی کا الزام ہے۔اسے تعزیرات ہند (IPC) کی دفعہ 3762 (سی) (ریپ)، 377 (غیر فطری جرم)، 342 (غلط طور پر قید میں رکھنا)، )354 عورت کی عزت کو مجروح کرنے کے ارادے سے حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال) ،357(کسی شخص کو یرغمال بنانے کی کوشش میں حملہ یا مجرمانہ قوت کا استعمال ) اور دفعہ 506(مجرمانہ دھمکی )کے تحت قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔
غور طلب ہے کہ سزا سنائے جانے سے پہلے آسارام کویک ممتاز مذہبی رہنما سمجھا جاتا تھا۔ اس نے 1970 کی دہائی میں احمد آباد میں دریائے سابرمتی کے کنارے اپنا پہلا آشرم قائم کیا اور بعد میں کروڑوں روپے کی کاروباری سلطنت بنائی۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے