Advertisement

نابالغ دوست کو چاقو سے حملہ کر کے قتل کردیا گیا ،3 گرفتار

نئی دہلی (ایف ای بی / ایجنسیاں)دہلی شہر میں نابالغوں کے ہاتھوں قتل کے معاملے دن بہ دن بڑھتے جار ہے ہیں اورانہیں قابو کرنے میں پولس ناکام ثابت ہور ہی ہے۔یہ کہنا ہے شمال مشرقی ضلع کے دیال پور ،نہرو وہار کے لوگوں کا، جوغمزدہ حالت میں اپنے معصوم کی موت پر اپنا درد بیان کررہے تھے ۔ اپنے 16سالہ معصوم بیٹے سبحان کے قتل کے بارے میں باپ کی آنکھیں نم تھیں، جو یہ بتا رہے تھے کہ کیسے ایک بار پھر بھروسے کا قتل ہوا اور ان کے بچے کی جان لے لی گئی ۔ان کا کہنا تھا کہ علاقہ میں جرائم پائوں پسار رہے ہیں اور پولس لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے ۔ آپ کو بتا دیں کہ بدھ کی دیر رات، شمال مشرقی ضلع کے دیال پور علاقے میں دوستوں نے ایک 16 سالہ لڑکے کو طعنے دینے اور دھمکیاں دینے کا الزام لگاتے ہوئے اسے چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا ۔ مقتول کی شناخت 16 سالہ محمد سبحان کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر کے تین نابالغوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ واردات میں استعمال ہونے والا چاقو برآمد کر لیا گیا۔ پولیس ملزم سے پوچھ گچھ کر کے پورے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔شمال مشرقی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس آشیش مشرا نے بتایا کہ بدھ کی رات تقریباً 10:45 بجے دیال پور پولیس اسٹیشن کو ایک نوجوان پر چاقو سے حملے کی اطلاع ملی۔ پولیس نہرو وہار اسٹریٹ نمبر 13 پر پہنچی، جہاں 16 سالہ لڑکا خون میں لت پت پڑا تھا، اس کے جسم پر چاقو کے کئی زخم تھے۔ لڑکے کا گھر اس جگہ سے 500 میٹر کے فاصلے پر تھا جہاں وہ پایا گیاتھا۔ پولیس اسے فوراً جگ پرویش اسپتال لے گئی، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ پولیس نے لاش کو قبضے میں لینے کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ۔جس کے بعد لاش اس کے والدین کو سپرد کر دی گئی ۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ محمد سبحان اپنے والد محمد دلشاد، والدہ شبانہ، بھائی عدنان اور دو بہنیں الفیسہ اور ثناء سمیت نہرو وہار میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ سبحان، جس نے نویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی، علی گڑھ، اتر پردیش میں مولوی بننے کے لیے تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ وہ رمضان میں گھر آیا تھا اور نماز تراویح میں قران مکمل کیا تھا۔ گھر والوں کے مطابق، اس کے کچھ دوست اسے اس رات یہ کہہ کر لے گئے کہ یہ اس کی سالگرہ ہے۔ پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔جائے وقوعہ کی چھان بین اور شواہد اکٹھے کرنے کے بعد، پولیس نے تعین کیا کہ سبحان پر تین لڑکوں نے حملہ کیا تھا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے تین نابالغوں کی عمریں 13 سے 17 سال کے درمیان ہیں۔ پوچھ گچھ کے دوران نابالغوں نے بتایا کہ متوفی نے مبینہ طور پر ان میں سے ایک کو طعنہ دیا اور دھمکیاں دیں جس کی وجہ سے انہوں نے مایوس ہو کر اس پر حملہ کیا۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے