نئی دہلی (سید مجاہد حسین /ایف ای بی )مذہب اسلام کے خلاف زہر اگلنے اور پیغمبر اسلام کی شان میں صریح طور سے گستاخی کرنے والے بد بخت سلیم واستک کودہلی پولس نے ایک تاجر کے بیٹے کا قتل کرنے کے جرم میں 25سال بعد دوبارہ گرفتار کرلیا ہے ۔وہ اب تک پولس کو چکمہ دے کر اور اس کی آنکھوں میں دھول جھونک کرقانون کی نگاہ سے بچتا پھر رہاتھا ۔ایک یو ٹیوبر کی حیثیت سےاپنی نئی پہچان بنانے والاسلیم واستک لونی علاقہ ضلع غازی آباد کا رہنے والا ہےجوایک بار پھر سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق سلیم واستک پچھلے کئی سالوں سے ٹھکانے بدل بدل کر رہ رہا تھا ۔ آخری بار اس کا ٹھکانہ لونی پایا گیا جہاں اس کا دفتر واقع تھا۔موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ وہی سلیم واستک ہے جس نےمسلم سے ہندو مذہب اختیار کر لیا تھا اور اس کے کئی نیوز چینلوں پر مذہب اسلام کے خلاف زہر اگلتے ہوئے اسلام دشمن مباحثے نشر کئے جاتےتھے۔ وہ پولس کی گرفت سے بچنے کے لئے اپنے ویڈیوز بنا کر ایک انفلیونسر بن گیاتھا ۔ مذہب اسلام کے خلاف اپنے چینل اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر زہر افشانی اوراس میں برائیاں ڈھونڈکر اسے بدنام کرنے پردلبرداشتہ ہو کر امروہہ کے دو مسلم نوجوان سگے بھائیوں نے مبینہ طور پراس پر جان لیوا حملہ کیا تھا جن کا بعد میں یوپی حکومت نے پولس کے ذریعہ انکائونٹر کرا دیاتھا۔ سلیم واستک کو چونکہ بگھوا برگیڈ کی حمایت اور ہمدردی حاصل تھی اس لئے شاید اس کو یہ پختہ یقین ہوگیا تھا کہ پولس اب اسے نا تو پہچان پائے گی اورنہ ہی کبھی گرفتار کرسکےگی ۔بتایا جاتا ہےکہ پولس ریکارڈ میں اس نے خود کو فوت شدہ ظاہر کردیا تھا۔جس کے بعد وہ بے خوفی سےکھلے عام زندگی بسر کر نے لگا تھا۔سلیم واستک کی گرفتاری پرسیکولر طبقہ اورمسلم حلقہ کی جانب سے اطمینان کا اظہار کیا جارہا ہے اور سوشل میڈیا پر ساتھ ساتھ یہ سوال بھی پوچھا جارہا ہے کہ کیادہلی حکومت ایک مذہب کے خلاف نفرت پھیلانے والے اور عدالت سے سزا یافتہ مفرور مجرم کا انکائونٹر کرے گی جو ہائی کورٹ کی اجازت سے چند دنوں کے لئے پیرول پر جیل سے باہرتو آیا تھا لیکن اس کے بعد کبھی جیل نہیں لوٹا ۔وہ قانون کو دھوکا دیتا رہا اور 25سال یونہی بیت گئے !کیا یہ پولس سسٹم کی نااہلی ہے یا اس کے ساتھ قصدا دی گئی رعایت؟ سلیم واستک چونکہ ایک معصوم کے اغوا اور قتل کا مجرم ہے تو کیااب یوپی حکومت اس پر از خود نوٹس لیتے ہوئے اس کا انکائونٹر کرے گی جس طرح سے سلیم واستک پر مبینہ طور سے حملہ کرنے کے الزام میں آنا فاناامروہہ کے دو سگے بھائیوں ذیشان اور گلفام ولد بنیاد علی جو ایک غریب اور نہایت سادہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے ، کو یوپی پولس نے انکائٹر کر کے موت کی نیند سلا دیا تھا اورخوب داد بٹوری تھی؟ کیا پولس محکمہ کی سلیم کو25 سال تک نہ ڈھونڈ پانے کی ناکامی پرکوئی گرفت یا جواب دہی عائد کی جائےگی ؟ عام خیال یہ ہے کہ ڈاسنہ کے نرسنگھا نند جیسے اسلام دشمن عناصر کی طرح سلیم واستک کی گرفتاری بھی شاید کبھی نہ کی جاتی اگر مقتول بچے کے تاجر سرپرستوں کی جانب سے دہلی پولس سے اس کی تصویر پہچان کردوبارہ تفتیش اور گرفتاری کی فریاد نہ کی جاتی۔
اسلام دشمن و مرتدسلیم واستک معصوم کے قتل کا مجرم،دہلی سے گرفتار













Leave a Reply