Advertisement

آئی بی افسرانکت شرما قتل کیس کے6 ملزمین باعزت بری

نئی دہلی(پریس ریلیز/ایف ای بی) شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020 کے فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) افسر انکت شرما قتل کے مشہور مقدمے میں چھ سال کی طویل قانونی کارروائی کے بعد کڑکڑڈوما کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے جہاں پانچ ملزموں کو قصوروار قرار دیا، وہیں چھ مسلم نوجوانوں کو تمام الزامات سے باعزت بری کردیا، جس سے ان کے اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اس مقدمے میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر ایڈووکیٹ عبدالغفار نے چار ملزمینکی جانب سے عدالت میں پیروی کی جن میں سے دو ملزمان فیروز اور سمیر کو عدالت نے تمام الزامات سے باعزت بری کردیا۔ ان کے علاوہ حسین عرف ملا جی عرف سلمان، گلفام، شعیب عالم عرف بابی اور منتظم عرف موسیٰ کو بھی عدالت نے باعزت بری کیا ہے۔اس سلسلے میں جمعیۃعلماء ہند کی جانب سے مقدمے کی پیروی کرنے والے ایڈوکیٹ عبدالغفار نے بتایا کہ اس میں مجموعی طور پر گیارہ افراد ملزم بنائے گئے جن میں سے عدالت نے چھ افراد کو تمام الزامات سے باعزت بری کردیا ہے جب کہ باقی کے پاس بھی ہائی کورٹ میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع ہے۔
واضح رہے کہ 24 فروری 2020 کو شمال مشرقی دہلی میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ اگلے روز 25 فروری کو 26 سالہ انٹیلی جنس بیورو اہلکار انکت شرما لاپتہ ہوگئے اور 26 فروری کو ان کی لاش کھجوری خاص کے ایک نالے سے برآمد ہوئی۔ پوسٹ مارٹم میں ان کے جسم پر متعدد زخم پائے گئے۔ ان کے والد کی شکایت پر سابق ایم سی ڈی کونسلر طاہر حسین کو مقدمے کا کلیدی ملزم بنایا گیا، پولس نے باقی دس لوگوں کو بھی ملزم بنایا۔ یہ مقدمہ دہلی فسادات کے سب سے حساس اور زیر بحث مقدمات میں شمار ہوتا رہا ہے۔ ایسے معاملات میں جہاں اصل مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دینا ضروری ہے، وہیں بے قصور افراد کو سزا سے بچانا اور انہیں منصفانہ سماعت و مؤثر قانونی دفاع فراہم کرنا بھی بنیادی آئینی تقاضا ہے۔ اسی اصول کے تحت جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر وکلاء کی ایک ٹیم نے چار ملزموں کی قانونی پیروی کی جن میں فیروز اور سمیر کی باعزت بریت اس طویل قانونی جدوجہد کا اہم نتیجہ ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے