Advertisement

سورۂ مریم ہردور کے مظلوم اہلِ ایمان کیلئے امید، صبر اور استقامت کا پیغام ہے : فلاح الدین فلاحی

نئی دہلی(پریس ریلز/ ایف ای بی) جماعت اسلامی ہند، لکشمی نگر یونٹ، دہلی کے زیر اہتمام آج کڑکڑڈوما کورٹ کی مسجد میں نمازِ ظہر کے بعد درسِ قرآن کا انعقاد کیا گیا، جس میں تقریباً 35 تا 40 افراد نے شرکت کی۔ جماعت اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے امیرِ مقامی فلاح الدین فلاحی نے سورۂ مریم کا تفصیلی درس پیش کرتے ہوئے اس کے تاریخی پس منظر، ہجرتِ حبشہ اور عصرِ حاضر میں اس کے عملی پیغام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ سورۂ مریم اس وقت نازل ہوئی جب مکہ مکرمہ میں اہلِ ایمان شدید ظلم و ستم کا شکار تھے۔ قریش مسلمانوں کے کاروبار تباہ کر رہے تھے، ان کے بااثر اور معزز افراد کی تذلیل کی جا رہی تھی، انہیں سماجی بائیکاٹ، تشدد اور مختلف اذیتوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ایسے حالات میں صحابۂ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنی تکالیف پیش کیں، جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی رہنمائی فرمائی اور مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا، کیونکہ وہاں کا عادل بادشاہ نجاشی مظلوموں کو انصاف فراہم کرتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں چند مردوں اور خواتین نے حبشہ کی طرف ہجرت کی، بعد ازاں بڑی تعداد میں صحابۂ کرامؓ نے اپنے گھربار، اہل و عیال اور مال و متاع کو اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ دیا۔ اس قربانی نے قریش کو بے چین کر دیا، چنانچہ انہوں نے نجاشی کے دربار میں اپنے نمائندے بھیج کر مہاجرین کو واپس کرنے کی کوشش کی۔ فلاح الدین فلاحی نے حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کی تاریخی تقریر کا بھی تذکرہ کیا، جس میں انہوں نے اسلام سے قبل عرب معاشرے کی گمراہی اور اسلام کی انقلابی تعلیمات بیان کیں، پھر سورۂ مریم کی تلاوت کی۔ اس میں حضرت زکریاؑ، حضرت یحییٰؑ، حضرت مریمؑ اور حضرت عیسیٰؑ کے معجزات اور حضرت عیسیٰؑ کے گہوارے میں کلام کرنے کا واقعہ بیان ہوا۔ قرآن کی یہ آیات سن کر نجاشی اور اس کے درباری اشک بار ہوگئے اور انہوں نے مہاجرین کو مکمل تحفظ فراہم کیا۔اپنے خطاب میں فلاح الدین فلاحی نے کہا کہ سورۂ مریم صرف ماضی کا ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کے اہلِ ایمان کے لیے زندہ رہنمائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی مسلمانوں کو دنیا کے مختلف خطوں میں ناانصافی، ظلم، امتیازی سلوک اور مختلف آزمائشوں کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں سورۂ مریم اہلِ ایمان کو یہ سبق دیتی ہے کہ وہ مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے صبر، استقامت، اللہ پر کامل بھروسہ اور حق پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ اپنے بندوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی باطل قوتیں حق کا راستہ روکنے، اہلِ ایمان کو کمزور کرنے یا انہیں خوف زدہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو قرآن مسلمانوں کو ثابت قدم رہنے، اخلاق و کردار کی بلندی اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ سورۂ مریم اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ آزمائشیں وقتی ہوتی ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور کامیابی اہلِ ایمان کا مقدر ہے۔ درس کے اختتام پر حاضرین کو تلقین کی گئی کہ وہ قرآن مجید کے پیغام کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کریں، صبر و استقامت کو اپنا شعار بنائیں اور ہر حال میں عدل، حق اور اخلاقِ حسنہ پر قائم رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اپنی وابستگی مضبوط کریں۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے