Advertisement

دلشاد گارڈن علاقہ میں بدمعاشوں کی دن دھاڑے نوجوان سے پیسے چھیننے کی کوشش

نئی دہلی ۔(ایف ای بی )مشرقی دہلی کے علاقہ سيماپری سے متصل دلشاد گارڈن کا علاقہ اب عام راہگیروں کے لئے غیر محفوظ ہوگیا ہے ۔ سڑک پر چور اچکے کھلے عام گھوم رہے ہیں اور لوگوں کو لوٹ پاٹ کا شکار بنا رہے ہیں ۔ یہ بدمعاش بھولے بھالے لوگوں اور کم عمر لڑکوں کو تنہا پاکر آسانی سے اپنا شکار بنا رہے ہیں ۔ ان سے پیسے اور موبائل چھیننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ جمعرات کو دلشاد گارڈن کے مرگ نینی چوک کے قریب پیش آیا جہاں ایک اسکولی طالب علم کو تنہا پاکر چور اچکوں نے گھیر لیا ، اس سے پیسے چھیننے کی کوشش کی اور جیبوں کی تلاشی لی۔ جب پیسے نہیں ملے تو انھوں نے لڑکے کو دھمکایا جس سے نوجوان سہم گیا ۔ جب وہ نہیں باز آیا تو طالب علم نے مزاحمت کی جس سے وہ لڑکے وہاں سے بھاگ گئے ۔ دلشاد گارڈن واقع گورنمنٹ بوائز سینیئر سیکنڈری اسکول میں بارہویں جماعت میں پڑھنے والے طالب علم دویانش نے بتایا کہ ایک بدمعاش اس کے پیچھے آیا اور اس سے پیسے مانگنے لگا جب اس نے بتایا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں تو اس نے اس کے کپڑوں کی گاڑیوں کی آڑ میں جامہ تلاشی لینا شروع کر دی۔ دویانش جے اینڈ کے پاکٹ کے قبرستان کی دیوار کے قریب سے گزر رہا تھا اور اسکول سے اپنے گھر سیما پوری کی طرف جا رہا تھا ۔ دن کے دو بج کر 35 منٹ کا یہ واقعہ ہے جہاں اس راستے پر لوگوں کی آمد و رفت کافی زیادہ رہتی ہے۔ بارہویں کلاس کے طالب علم دویانش کا کہنا ہے کہ  ایک لڑکا پیچھے سے اچانک آیا اور اس کے اسکولی بیگ کی تلاشی لے کر اس میں موبائل ڈھونڈنے کی کوشش کر نے لگا جس سے وہ سہم گیا۔ اس نے بدمعاش کو بتایا کہ اس کے پاس موبائل نہی ہے تو وہ اس کے کپڑوں کی تلاشی لینے لگا اور اسے دھمکانے لگا ۔ اسے روکنے پر اس نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو تمہارے پاس پیسے بھی ہیں اور موبائل بھی ہے۔ ڈیویانش نے بتایا کہ اس نے پیچھے سے آکر اچانک مجھے روک لیا اور کنارے کھڑے ہو کر پیڑ اور گاڑیوں کی آڑ میں مجھ سے پیسے چھیننے کی کوشش کی ۔ قابل غور ہے یہ ہے کہ دلشاد گارڈن علاقہ میں جرائم پیشہ اکثر اپنے شکار کی تلاش میں گھومتے مل جاتے ہیں۔ اس طرح یہ علاقہ راہ گیروں کے لیے نہایت غیر محفوظ رہنے لگا ہے ۔  اس راستے پر کئی بینک واقع ہیں ۔جہاں سے جرائم کی وجہ سے لوگ محتاط ہوکر گزرنے کو مجبور ہیں ۔ بنکوں سے لوگ جب اپنی رقم نکال کر یہاں سے گزرتے ہیں تو ان کو جھپٹ ماری اور لوٹ مار کا خوف ستاتا رہتا ہے۔ راہگیروں کا اس راستے سے عام گزر رہتا ہے ۔ علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے اس راستے پر جے اینڈ کے پاکٹ کے قبرستان کے باہر کھڑی گاڑیوں کے پیچھے خود کو محفوظ رکھ پانا مشکل ہوگیا ہے۔ یہاں کسی کو بھی تنہا پاکر بدمعاش ان کے پیچھے لگ جاتے ہیں ۔ عام لوگوں کو اکثر واردات ہونے کا خطرہ ستاتا رہتا ہے۔ فٹ پاتھ سے متصل گاڑیاں کھڑی ہونے اور پیڑوں کی آڑ کی وجہ سے یہ چور چکے راہ گیروں کو آسانی سے اپنا شکار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ نئی سیماپوری سے متصل جھگی کالونی میں نوجوانوں میں گانجا اور نشّہ کی لت بڑھتی جا رہی ہے اور وہ سڑکوں پر پولس اور قانون سے بے خوف ہوکر جرائم کرکے عام لوگوں کو اپنا شکار بنا رہے ہیں۔ لوگو کا کہنا ہے کہ سڑک پہ کھلے عام گھومتے یہ لڑکے مرگ نینیی چوک سے لے کر طاہر پور تک اپنے حلیے سے صاف پہچانے جا سکتے ہیں۔دن دھاڑے ڈرا دھمکا کے عام لوگوں کو اپنا شکاربنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اکثر سنسان سڑکوں پر ایک غول بناکر سڑک پر گھومتے مل جاتے ہیں ۔ پولس کو ایسے جرائم پیشہ عناصر پر لگام کسنے کی ضرورت ہے تاکہ علاقہ میں بدمعاشوں کا خوف دور ہو۔

۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے