نئی دہلی/اجمیر( پریس ریلیز/ایف ای بی )جمعیۃ علماء ہند اور آل انڈیا یونانی طبی کانگریس (AIUTC) کے مشترکہ زیراہتمام اجمیر کی نصیر آباد تحصیل کے بٹور گاؤں میں اتوار کو ایک مفت یونانی طبی کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس کیمپ میں دیہی و قرب وجوار علاقوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 600 افراد نے یونانی نظام طب کے ذریعے علاج حاصل کیا اور انہیں کیمپ میں مفت ادویات فراہم کی گئیں۔ یہ یونانی طبی کانگریس کے زیر اہتمام 148 واں مفت کیمپ تھا۔ اس کیمپ کا بنیادی مقصد طبی اور مئوثر یونانی نظام طب کے ذریعے دیہی عوام تک صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کو بڑھانا تھا۔ صبح10:00 بجے سے دوپہر 2:00 بجے تک منعقد ہونے والے اس کیمپ میں بڑی تعداد میں مریضوں کی جانچ کی گئی جو پیٹ و جلد کے امراض اور جوڑوں کے درد، بخار اور عام نزلہ وزکام جیسی بیماریوں سے نبردآزما تھے۔اس کیمپ میں ذیابیطس ( شوگر )کے مریضوں کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے ۔ طبی ماہرین نے نہ صرف مریضوں کا معائنہ کیا بلکہ انہیں مناسب خوراک اور احتیاطی تدابیر سے متعلق مشورے بھی دئے ۔
اس کیمپ میں دہلی کے تجربہ کار معالجین نے خصوصی طور پر شرکت کی اور اپنی خدمات پیش کیں۔ معالجین میں ڈاکٹر سید احمد خان، ڈاکٹر اسرار احمد اجینی، ڈاکٹر نواز الحق، ڈاکٹر انیس الرحمن اور ڈاکٹر محمد روشن سمیت دیگر معاون عملہ شامل تھا۔اس موقع پر ڈاکٹر سید احمد خان نےاہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ” حیرت و تشویش کی بات یہ ہے کہ گائو ں اور دیہی علاقوں میں شوگر کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے باوجود اس کے کہ دیہات میں لوگوں کا رہن سہن اور خوراک عام طور پر سادہ ہوتی ہےاور آب و ہوا شہروں کے مقابلے زیادہ صاف و شفاف ہوتی ہے "۔انہوں نے کہا کہ” دیہی علاقوں میں شوگر کے مریضوں کی بڑھتی تعدادحکومت راجستھان کے لئے ایک سنجیدہ تحقیقی موضوع ہے اس جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے” ۔انہوں نے کہا کہ” حکومت اس کی تحقیقات کرائے کہ آخر شوگر کے مریضوں کی تعداد غیر معمولی طور سے کیوں بڑھ رہی ہے۔ سید احمد خاں نے کہا کہ "آل انڈیا یونانی طبی کانگریس ملک گیر سطح پر یونانی میڈیکل کیمپ منعقد کرتی رہتی ہے جن سے کثیر تعداد میں لوگ فیضیاب ہوتے ہیں ۔ان کیمپوں کا مقصد شوگر جیسی بیماریوں کی بر وقت تشخیص اور عوام میں پوشیدہ بیماریوں کا پتہ لگانا ہے”۔ ڈاکٹر سید نے کہا کہ "عام طور پر لوگ امراض کی جانچ نہیں کرواتے اس لئے ایسے کیمپ عوامی صحت کے لئے مفید ثابت ہوتے ہیں "۔ قابل ذکر ہے کہ اس کیمپ کے انتظامات میں ادے پور کی ایک نرسنگ ٹیم کا رول کافی اہم ہے ۔ اس ٹیم میں افسانہ، جودھارام، ونیت شرما، کرشنا اور پرکاش شامل تھے،جنہوں نے محنت ولگن کے ساتھ حصہ لیا اور کیمپ کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔قابل ذکر ہے کہ اس طرح کے کیمپ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کی رہنمائی میں منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ صحت کی خدمات معاشرے کے آخری فرد تک پہنچ سکیں۔ کیمپ کا کامیاب انعقاد کئی مقامی سماجی کارکنوں کے فعال تعاون سے ممکن ہوا، جن میں مولانا علیم الدین (منتظم)، مولانا کامل، مفتی محمد احمد، اور مدرسہ قاسم العلوم، بٹور کے محمد ناظم کے نام قابل ذکر ہیں۔کیمپ کی ایک قابل ذکر خصوصیت تمام مذاہب کے لوگوں کی پرجوش شرکت تھی۔ مقامی باشندوں نے اس اقدام کو سراہا، جبکہ منتظمین نے مستقبل میں بھی ایسے فلاحی پروگرام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
















Leave a Reply