نئی دہلی ،بجنور(پریس ریلیز /ایف ای بی) پروفیسر احمد سجاد مرحوم اسلامی اور تعمیری ادب کے نقیب تھے۔ انھوں نے ادب اور تعلیم کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ مرحوم نے اپنی عمرِ عزیز کا بیشتر حصہ اسلامی ادب کی اشاعت اور فروغ میں صرف کیا۔ ان کی ادبی کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار اسلامی مفکر اور شریعہ کونسل کے سکریٹری ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی نے کیا۔ وہ آج پروفیسر احمد سجاد کی رحلت پر منعقدہ تعزیتی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ یہ اجلاس جامعۃ الفیصل تاج پور میں منعقد کیا گیا، جس میں ضلع بجنور کے اہلِ ادب نے شرکت کی۔موصوف نے اپنے خطاب میں احمد سجاد مرحوم کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ وہ ابتدا ہی سے محنت کے عادی تھے اور اپنے وقت کا بیشتر حصہ علمی و تحقیقی کاموں میں صرف کرتے تھے۔ ان کی ایک نمایاں خوبی یہ تھی کہ جماعت اسلامی ہند سے تنظیمی وابستگی کے باوجود ملک کی دیگر ملی و تعلیمی تنظیموں سے بھی تعاون کرتے تھے۔ انھوں نے اسلامی ادب کے میدان میں کئی گراں قدر تصانیف چھوڑیں۔ وہ ادارہ ادب اسلامی ہند کے کل ہند صدر بھی رہے۔ تعلیم کے میدان میں انھوں نے کئی تعلیمی ادارے قائم کیے اور نادار طلبہ کے لیے وظائف کا نظم کیا۔
جامعۃ الفیصل کے ناظم اور ادارہ کے کل ہند نائب صدر ڈاکٹر سراج الدین ندوی نے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ میرا ان سے دیرینہ تعلق تھا۔ وہ ہمارے تعلیمی اداروں کا بھی دورہ کر چکے تھے اور ماہنامہ“اچھا ساتھی”کے سرپرستوں میں شامل تھے۔ ماہرِ تعلیم محمد جاوید اقبال نے ”ڈاکٹر احمد سجاد بحیثیتِ مثالی استاذ“کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ مرحوم پٹنہ اور رانچی یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر تھے۔ اپنے دورِ ملازمت میں انھوں نے مفوضہ فرائض بخوبی انجام دیے۔ ان کے ہزاروں شاگرد ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں اردو کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ وہ اپنے طلبہ سے بے حد محبت کرتے، ان کی کمزوریوں کو حکمت سے دور کرتے اور ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے تھے۔ ان کو سچا خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ان کی خوبیوں کو اپنایا جائے۔بزرگ سماجی کارکن ڈاکٹر محمد داؤد نور ملتانی نے موصوف کی خوبیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ہر کسی سے مسکرا کر ملتے اور جب گفتگو کرتے تو انتہائی شستہ اردو بولتے، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پھول جھڑ رہے ہیں۔ماسٹر محمد یونس بڑھا پور نے کہا کہ میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ مرحوم جس تنظیم سے وابستہ تھے اس کا ایک ادنیٰ کارکن میں بھی ہوں۔نظامت کے فرائض محمد یاسین ذکی نے انجام دیے۔
اسلامی ادب کے نقیب تھے پروفیسر احمد سجاد مرحوم:ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی
















Leave a Reply