Advertisement

بھوپا ل: تاج المساجد کے پاس مسلمانوں کا شدید مظاہرہ ، ملزمان کی گرفتاری وکارروائی کی مانگ، 72گھنٹے کا الٹی میٹم

نئی دہلی (ایف ای بی )مدھیہ پردیش کے دار الحکومت بھوپال میں ہوٹل میں مقیم عارف خان نامی ایک مسلم نوجوان کی پٹائی اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا معاملہ اب طول پکڑ تا جارہا ہے ۔شہر کے مسلمانوں میں سخت غم غصہ ہےاوران کا جم غفیر شہر کی سڑکوں پر اتر اہوا ہے۔ مسلمانوں کی جانب سے مجرموں کی گرفتاری اور ان کے گھروں کو مسمار کئے جانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔مسلمانوں میں سخت ناراضگی نہ صرف بجرنگ دل کے غنڈوں کے ذریعہ ایک مسلم نوجوان کی بے رحمی سے کی گئی پٹائی کرنےبلکہ مالک کائنات اللہ رب العالمین کی شان میں گستاخانہ کلمات کے ذریعہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور انہیں للکارنے کے خلاف ہے ۔ اس احتجاج میں بھوپال کے عام مسلمان ہی نہیں بلکہ شہر قاضی ،علما ،دانشوران اور کئی سرکردہ عوامی شخصیات بھی شامل ہیں ۔سبھی انتظامیہ سےاپناسخت احتجاج درج کرا رہے ہیں بلکہ پولس سے یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ خاطی پولس عملہ (جن کے سامنے نوجوان کو پیٹا جارہا تھا )نیز مجرموں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے ۔ منگل کوسینکڑوں مسلمان قاضیات میں احتجااکھٹا ہوئے ۔اس سلسلے میں مسلمانوں نے پولیس کمشنر کے دفتر کا گھیرائو بھی کیا ۔ خاطی پولس اہلکار وںاور ملزمان کے خلاف سخت ایکشن کے لئے بھوپال بند کا اعلان کرنے کے لئے 72گھنٹے کا الٹی میٹم دیاگیا ہے ۔پولس کے اس معاملہ پرہاتھ پائوں پھولے ہوئے ہیں اور وہ سوائے احتجاج کو دبانے کے اپیل کے علاوہ کوئی ٹھوس کارروائی کرتی نظرنہیں آرہی ہے ۔اس درندگی کے خلاف مسلمان دیر شب تاج المساجد کے پاس جمع ہوئےاورمظاہرہ کیا ، انہوںنے ملزمان کی گرفتاری کی مانگ کی ۔ قابل ذکر ہے کہ اتوار کو گووند پورہ پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں واقع گوتم نگر کے ایک ہوٹل میں کچھ لوگوں نے عارف خان نامی ایک مسلم نوجوان کو ہوٹل سے باہر گھسیٹ کر مارپیٹ کی تھی جسکا ویڈیو تیزی سے وائرل ہوگیا تھا۔ملزمان نے اس مسلم لڑکے کے چہرے پر سیاہی اور گائے کا گوبرلگایا اورمبینہ’’ لو جہاد‘‘ کا جھوٹا اس پر الزام لگایا کہ اس کے کسی دوسرے مذہب کی عورت کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اس کے بعد ہندو تنظیموں سے وابستہ افراد نے مبینہ طور پراس شخص کو مارا پیٹا اور گائے کے گوبر اور سیاہی سے اس کا گلا گھونٹ دیا۔ جبکہ پولیس نے بتایا کہ خاتون نے بتایا کہ وہ پانچ سال سے خان کے ساتھ لیو ان ریلیشن شپ میں تھی اور اپنی مرضی سے اس کے ساتھ گئی تھی۔پرانےبھوپال میں تاج المسجد کے پاس آدھی رات کو ہزاروں مسلمان ارکان جمع ہوئے اورانہوںنے احتجاج کیا۔ احتیاطی اقدام کے طور پر علاقے میں پولیس کی بھاری نفری کا پہرا ہے۔دریں اثناء بھوپال سٹی قاضی سید مشتاق علی ندوی کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے نے خبردار کیا کہ اگر 24 گھنٹے کے اندر ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا تو شہر بھر میں بند کی کال دی جائے گی۔ قاضیات کمپلیکس میں احتجاج کرتے ہوئے، مسلم فرقہ کے لوگوں نے حملے اور واقعے کے دوران مبینہ طور پر توہین آمیز زبان کے استعمال کی مذمت کی۔ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے قاضی ندوی نے اس حملے کو نہ صرف ایک فرد پر حملہ قرار دیا بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی جذبات پر بھی حملہ قرار دیا۔ بعد ازاں مظاہرین نے پولیس کنٹرول روم کی طرف مارچ کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما محسن علی، کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود اور عاطف عقیل کے ساتھ بھی احتجاج میں شامل ہوئے۔مسلم کمیونٹی کے نمائندوں نے بھوپال پولیس کمشنر سنجے کمار کو ایک میمورنڈم پیش کیا، جس میں واقعہ کے دوران مبینہ طور پر لاپرواہی برتنے والے پولیس افسران کے خلاف فوری گرفتاری اور محکمانہ کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔بھوپالشہر قاضی سید مشتاق علی ندوی نے میڈیا کوبتایا کہ پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر موجود تھے، اس کے باوجود انہوں نے مجرموں کا ساتھ دیا۔ اس طرح کے واقعات سے خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور بھوپال میں ماحول خراب ہوتا ہے۔یہ واقعہ صرف جسمانی حملے تک محدود نہیں ہے۔ توہین آمیز زبان کے استعمال سے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ اس معاملے میں پولس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور آگے کی کارروائی جاری ہے لیکن لوگوں کا سخت الفاظ میں کہنا ہے کہ جب تک مجرموں کی گرفتاری اور ان کے گھروں کی بلڈوزر سے مسماری نہیں ہو جاتی وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پولس کی موجودگی میں مسلم نوجوان کو سخت بےرحمی سے پیٹا گیا ہے اس لئے پولس عملہ پر بھی ایکشن ہونا چاہئے ۔پولس کمشنر سنجے کمار نے کہاکہ پولیس جائے وقوعہ پر موجود افسران کے طرز عمل سمیت واقعہ کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ جائے وقوعہ پر موجود پولیس اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ اگر قصوروار پایا گیا تو ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ ایک فوجداری مقدمہ پہلے ہی درج کیا گیا ہے، اور ٹیمیں ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کام کر رہی ہیں۔ پولیس واقعے کے ویڈیو فوٹیج کی تحقیقات کر رہی ہے۔ملزمان کے خلاف قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔بتادیں کہ اس پورے معاملے کی سوشل میڈیا پر مذمت کی جارہی ہے۔ ملک میں بڑھتی مسلم مخالف نفرت کی لہر اور ہجومی تشدد کے واقعات کے لئے ریاستی حکومتوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جارہا ہے ۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے