نئی دہلی (ایجنسی /فرنٹ ایڈیشن نیوز )کانپور میںآئی ٹی بی پی کے ایک جوان کی ماںکے ہاتھ کو اسپتال میں کاٹے جانے پر، بیٹے اور آئی ٹی بی پی کے دیگر جوانوں کی سخت ناراضگی درج کرانے کے بعد کانپور کے پولس کمشنر نے نئی تحقیقات شروع کی ہیں ،اس تحقیقاتی ٹیم میںا یم بی بی ایس کی ڈگریوں ہولڈر دو آئی پی ایس افسران سمیت ایک مشترکہ ٹیم اسپتالوں سے 50 سے زیادہ سوالات پوچھے گی۔جبکہ پچھلی تحقیقاتی ٹیم صرف محکمہ صحت کے افسران پر مشتمل تھی، اس بار محکمہ صحت، پولیس اور آئی ٹی بی پی کے ماہرین بھی تحقیقاتی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔
یہ تحقیقاتی ٹیم اس لئے اہم ہے کیونکہ اس میں دو پولیس افسران شامل ہیں۔ دونوں نے ایم بی بی ایس کی ڈگریاں حاصل کیں اور میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سول سروس کا امتحان پاس کیا۔ ذرائع کے مطابق پولیس کمشنر رگھوبیر لال کے ساتھ بات چیت کے دوران آئی ٹی بی پی کے افسران اور جوانوں نے کئی نکات اٹھائے جو سی ایم او کی تحقیقاتی رپورٹ میں شامل نہیں تھے۔ متاثرہ شخص وکاس نے پولس سے چھ نکات پر تفتیش کرنے کو کہا تھا۔ اگرچہ انہوں نے ابھی تک چھ نکات کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ سی ایم او کی تحقیقات نے ان حالات کو واضح نہیں کیا ہے کہ سانس کی تکالیف میں مبتلا خاتون کا ہاتھ کاٹنا پڑا۔پولیس کمشنر رگھوبیر لال نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے عہدیداروں نے پولیس کی کارروائیوں پر اعتماد ظاہر کیا ہے، لیکن وہ محکمہ صحت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ اس کی روشنی میں دو پولیس افسران پر مشتمل ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ اتفاق سے، پولیس کے پاس اس وقت دو افسران ہیں: ایڈیشنل پولس کمشنر وپن ٹاڈا اور ٹرینی آئی پی ایس افسر سومیدھ ملند جادھو، ایم بی بی ایس۔ دونوں کو تحقیقاتی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔اس سلسلے میں کرشنا ہاسپٹل سے کون سے دستاویزات حاصل کرنے ہیں اور کن سوالات کے جوابات مانگنے ہیں سمیت سب کچھ طے ہوچکا ہے۔ دونوں پولیس افسران نے 50 سے زیادہ سوالات تیار کیے ہیں جو اس بات کا تعین کرنے میں مدد کریں گے کہ ہاتھ کاٹنے کا ذمہ دار کون ہے۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ اتوار سے تحقیقات شروع کی جائے گی۔قابل غور ہے کہ ہفتہ کو انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے سپاہی کے 50 ساتھی سپاہی اپنی ماں کے تئیں نظام کی بے حسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پولیس کمشنر کے دفتر پہنچےتھے۔ یہ مسلح فوجی آٹھ گاڑیوں میں پہنچے۔ برف کے ساتھ ایک باکس میں سپاہی اپنی ماں کے ہاتھ لے کر پہنچے جو ہسپتال کی لاپرواہی کی وجہ سے کٹ گیا تھا، اور بیٹاانصاف کے لیے دردر بھٹک رہا تھا ۔ انہوں نے 20 مئی کو پولیس کمشنر سے رجوع کیا تھا۔ پولس کمشنر نے سی ایم او کو جانچ کا حکم دیا تھا۔سی ایم او کی تحقیقاتی رپورٹ میں عدم مطابقت کے بعد معاملہ طول پکڑ گیا اور سپاہیوں نے کمانڈنٹ کے ساتھ مل کر کمشنریٹ پر دھاوا بول دیا۔ پولس کمشنر رگھوبیر لال نے فوجیوں کی بڑی تعداد میں اپنے روم میں دیکھ کر اعتراض کیا، جس پر آدھے سے زیادہ فوجیوں کو احاطے سے نکل جانے پر مجبور کیا گیا۔اس معاملے میں کمانڈنٹ گورو پرساد نے پولیس کمشنر سے تقریباً چار گھنٹے تک بات چیت کی ۔بعد میںسی ایم او ڈاکٹر ہری دت نیمی بھی پہنچ گئے۔ پولیس کمشنر نےسی ایم او کو دیکھ کر ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تحقیقاتی رپورٹ سے مطمئن نہیں ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ریاستی سطح کی کمیٹی کو تحقیقات اور کارروائی کا حکم دیں گے۔ انہوں نے دوبارہ تحقیقات اور رپورٹ طلب کی۔
واضح ہو کہ مہاراج پور میں تعینات آئی ٹی بی پی کی 32ویں بٹالین کے سپاہی وکاس سنگھ کی ماں نرملا دیوی کو 13 مئی کو سانس کی تکلیف کی وجہ سے شہر کے کرشنا اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ایک انجکشن کے بعد انفیکشن کی وجہ سے اس کا ہاتھ کالا ہو گیا، اور اسے 17 مئی کو پارس ہسپتال میں کاٹنا پڑا۔ جب پولیس کمشنر نے تحقیقات کا حکم دیا تو سی ایم او نے واضح رپورٹ فراہم کرنے کے بجائے انفیکشن کے امکان پر زور دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہاتھ میں انفیکشن تھرمو ایمبولزم (خون کے جمنے) کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔حالانکہ یہ صورتحال کیسے پیدا ہوئی اس کی کوئی واضح وضاحت نہیں ہے۔
اس رپورٹ کے بعدفوجیوں نے سی ایم او پر جھوٹی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرکے اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں کو بچانے کا الزام لگایا۔ آئی ٹی بی پی کمانڈنٹ نے پولیس کمشنر اور لا اینڈ آرڈر کے ایڈیشنل کمشنر وپن ٹاڈا کے ساتھ الگ الگ بات چیت کی۔پولس کمشنر نے سی ایم او سے پوچھا، "کیا علاج کیا گیا، کیا دوائیں دی گئیں؟” کیا ہاتھ پہلے سے خراب تھا یا بعد میں کن حالات میں خراب ہوا جس کے لیے کٹوانے کی ضرورت نہیں تھی؟
اس پورے معاملہ میں اگلی رپورٹ میں کیا انکشاف ہوگا اس سے قطع نظر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس معاملے میں اتر پردیش کی وزارت صحت نےکوئی ہنگامی ایکشن کیوں نہیں لیا کہ متاثرین کو دردر بھٹکنا پڑا اور ایک طویل وقت ضائع کردیا گیا اور بعد میں پولس جسکا کام شہر میں محض لا اینڈ آرڈ کی صورتحال کوکنٹرول کرنے کا ہے ،سے فریاد کرنی پڑگئی؟
کانپورآئی ٹی بی پی : آئی پی ایس افسران پر مشتمل مشترکہ ٹیم ہاتھ کاٹنے کے معاملے کی کرے گی تحقیقات
















Leave a Reply