نئی دہلی (ایجنسی /ایف ای بی )جے پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جے ڈی اے) نے پیر کے روز شہر میں سڑک کی توسیع کے لئے غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کا آغازکیا۔ اس کارروائی کے تحت 10سے12غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کیا جارہا ہے جس میں نورانی مسجد بھی شامل ہے ۔ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سروج دھایل کے مطابق ان تعمیرات کو اس لئے ہٹایا جارہا ہے کیونکہ وہ سیکٹر روڈ پر تجاوزات کا سبب بن رہی ہیں۔ اس دوران احتیاطی اقدام کے طور پر انٹرنیٹ خدمات بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔
سروج دھایل نے کہا کہ آج کی کارروائی کے دوران صورتحال مکمل طور پر پرامن ہے اور اب تک کسی قسم کی مخالفت سامنے نہیں آئی۔ احتیاطاً انٹرنیٹ خدمات بند کر دی گئی ہیں۔ عوام امن و امان برقرار رکھنے میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔قبل ازیں جے پور کے ڈویژنل کمشنر وی سَروانا کمار نے شہر میں انٹرنیٹ خدمات پر عارضی پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ یہ فیصلہ اس خدشے کے پیش نظر کیا گیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور انٹرنیٹ پر مبنی خدمات کے غلط استعمال کے ذریعے افواہیں پھیلائی جا سکتی ہیں، جس سے عوامی امن متاثر ہونے کا خطرہ تھا۔اس انہدامی کارروائی کا بنیادی مقصد جگت پورہ علاقے میں نندپوری انڈر پاس سے ریلوے لائن کے متوازی چلنے والی سڑک کو 80 فٹ تک چوڑا کرنا ہے۔
اس دوران شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئےہیں۔ انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے تقریباً 3 ہزار اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے جبکہ متعدد علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔موصولہ اطلاعات کے مطابق اس مسماری کی شروعات جے پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (JDA) نے مالویہ نگر اور جگت پورہ کے علاقے میں واقع چار منزلہ نورانی مسجدسے کی۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مسجد اور دیگر کچھ مذہبی ڈھانچے سڑک کی توسیع کے منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے اور ماسٹر پلان کے تحت ان کا ہٹایا جانا ضروری تھا۔حکام کے مطابق نندپوری روڈ کے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر طویل حصے کو موجودہ 25 تا 30 فٹ چوڑائی سے بڑھا کر منظور شدہ 80 فٹ چوڑا کیا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک
کے مسائل کم ہوں اور علاقے میں آمد و رفت بہتر بنائی جا سکے۔
Jaipur Development Authority (جے ڈی اے) سڑک کی توسیع اور تجاوزات ہٹانے کی مہم کے تحت پانچ مذہبی عمارتیں بھی ہٹا رہا ہے۔ ان میں نورانی مسجد، دو مندر، ایک ستسنگ بھون اور ایک مزار شامل ہیں۔جے ڈی اے کے ویجلنس ونگ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل Anand Sharma نے بتایا کہ 22 مئی کو اسی سڑک پر کارروائی کرتے ہوئے 134 تجاوزات ہٹائی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ سڑک کی حدود میں آنے والے مذہبی مقامات کی انتظامیہ اور متعلقہ افراد کو پہلے خود تعمیرات ہٹانے کے لیے وقت دیا گیا تھا۔
جب مقررہ مہلت ختم ہوگئی تو انتظامیہ نے خود ان تعمیرات کو ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی۔نورانی مسجد کی مسماری پر مسجد انتظامیہ اور کانگریس کے لیڈروں نے کئی سوال کھڑے کیئے اور اعتراض ظاہر کیا ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق نورانی مسجد انتظامیہ کے صدر عاشق علی کا کہنا کے کہ اس مسجد میں 45سال سے نماز ہو رہی ہے ۔اس مسجد کو بنانے کی ضرورت اس قت پڑی جب ہائوسنگ بورڈ میں جمع رقم کے عوض انہیں مسجد کے لئے کوئی جگہ نہیں دی گئی تب یہ زمین خریدی گئی اور وقف بورڈ میں اس زمین کو وقف علی اللہ رجسٹرڈ کرایا گیا اور اس مسجد کی تعمیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وقف کی جائیدادیں کیا اسی طرح برباد کی جائیں گی ، ہم مسلمان نماز ادا کر نےکیلئے کہاں جائیں گے۔ اس کالونی میں محض ایک مسجد ہے اور انتظامیہ اسے بھی نہیں رکھنا چاہتا ۔ہمیں یہ منظور نہیں کہ مسجد پوری توڑ دی جائے ۔انہوں نے کہا کہ کیا یہ جائز بات ہے کہ شراب خانے جگہ جگہ کھلوائے جارہے ہیں اور مسجد اور مندر توڑے جارہے ہیں؟ ۔ دریں اثنا کانگریس ایم ایل اے رفیق خان نے انہدام پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نورانی مسجد جسے انتظامیہ ہٹانے کا منصوبہ بنا رہی ہے، عمارت کے ضوابط اور ضوابط کے مطابق تعمیر کی گئی تھی۔وہیں دوسری جانب کانگریس رہنما عمران قریشی نے مالویہ نگر، جے پور میں واقع نورانی مسجد کو مبینہ طور پر غیر قانونی قرار دے کر نوٹس جاری کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نورانی مسجد گزشتہ کئی دہائیوں سے عبادت اور سماجی ہم آہنگی کا مرکز رہی ہے۔ جس مسجد کی زمین 1981 میں خریدی گئی ہو، جو راجستھان وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہو، جہاں برسوں سے بجلی، پانی اور دیگر سرکاری سہولیات موجود ہوں اور جہاں باقاعدگی سے نماز ادا کی جاتی رہی ہو، اسے اچانک تجاوزات قرار دینا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔عمران قریشی نے کہا کہ کیا آئین اور مذہبی آزادی اب صرف کتابوں تک محدود رہ گئی ہے؟ ہندوستان کا آئین تمام مذاہب کو برابری، آزادی اور احترام کا حق دیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی مذہبی مقام کے خلاف یکطرفہ کارروائی معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ انتظامیہ اور حکومت کو عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے اس معاملے پر ازسرِنو غور کرنا چاہیے اور تمام فریقین کو سننے کے بعد غیر جانبدارانہ فیصلہ کرنا چاہیے۔












Leave a Reply