نئی دہلی (ایجنسی /ایف ای بیورو)جی آر پی پولیس نے ایک ماہ بعد بہار کے مولانا توصیف رضا کے قتل کیس کی گتھی سلجھانے کا دعویٰ کیا ہے ۔اس معاملے میں پولس نے پنکج راجپوت نامی ایک شخص کو گرفتار کیا ہے ۔جی آر پی کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ٹرین میں مولانا سے موبائل فون کی چوری پر لڑائی ہوئی تھی۔ اس دوران مولانا ٹرین سے گر کر جاں بحق ہوگئے۔بتاےا جاتا ہے کہ ملزم نے شروعاتی پوچھ گچھ میں بریلی جی آر پی کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور اس نے ابتدائی طور پر اپنا نام رحمان بتایا تھا تاہم تفتیش کے دوران اس کی شناخت ظاہر ہو گئی۔ یاد رہے کہ مولانا توصیف رضا کی لاش 27 اپریل کی صبح 7 بجے بریلی کے کینٹ تھانہ علاقے میں پالپور ریلوے کراسنگ کے قریب پٹریوں پر پائی گئی تھی۔ 4 مئی کوان کی اہلیہ تبسم بریلی آئیں اور نامعلوم افراد کے خلاف قتل کی رپورٹ درج کرائی۔ ایس ایس پی جی آر پی آشوتوش شکلا نے ملزم کے لیے 10 ہزار روپے کے انعام کا اعلان کیاتھا۔
جی آر پی انسپکٹر ایس کے ورما نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران یوگ نگری رشی کیش-مظفر پور اسپیشل ٹرین کے کوچ 8، 9 اور 10 کے تقریباً 200 مسافروں سے ان کے پی این آر نمبروں کی بنیاد پر پوچھ گچھ کی گئی۔سرویلانس کی مدد بھی لی گئی۔ اس کی بنیاد پر پنکج راجپوت کو جنکشن کے پلیٹ فارم نمبر 2 پر ہفتہ کی دوپہر گرفتار کیا گیا۔ تاہم اس واقعے کا کوئی عینی شاہد نہیں ہے۔ملزم پنکج راجپوت مرادآباد کے مغل پورہ تھانہ علاقہ کے محلہ قانون گویاں چوکی لال باغ کا رہنے والا ہے۔ دوران تفتیش ملزم نے بتایا کہ موبائل فون کی چوری پر ٹرین میں مولانا سے اس کی لڑائی ہوئی تھی۔ انسپکٹر نے بتایا کہ ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا اور اسے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا۔ملزم پنکج نے پوچھ گچھ کے دوران بتایا کہ 26 اپریل کو وہ اپنی بہن کے گھر شادی میں شرکت کے لیے بریلی جا رہا تھا۔ اس نے مرادآباد میں شراب نوشی کی تھی۔ اپنے نشہ کی وجہ سے بریلی اسٹیشن کا اس کو علم نہیں ہوا اور وہ وہاں اتر نہیں سکا ۔ مولانا بریلی جنکشن سے ٹرین میں سوار ہوئے۔ واقعہ کے دوران پنکج کا موبائل فون چوری ہو گیا تھا جس کی وجہ سے مولانا کے ساتھ تصادم ہوا۔ پیر کو مولانا کی اہلیہ تبسم اور ان کے بھائی سمیت خاندان کے دیگر افراد کشن گنج سے جی آر پی اسٹیشن پہنچے۔ انہوں نے اس انکشاف پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ملزم نے شروع میں جی آر پی کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنا نام پنکج کے بجائے رحمان رکھا۔ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ٹرین میں مولانا سے تصادم کے دوران پنکج نے اپنا نام رحمان بھی بتایا تھا۔ اس بات کی تصدیق کوچ میں مسافروں سے پوچھ گچھ کے ذریعے ہوئی جہاں پنکج اور مولانا سفر کر رہے تھے۔مرادآباد ڈویژن کے جی آر پی کے سی او اے کے ورما نے بتایا کہ مرادآباد کے رہنے والے پنکج راجپوت کو بہار کے مولانا توصیف رضا کے قتل کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ بریلی جنکشن سے جی آر پی کی ٹیم نے ایک ماہ بعد قتل کیس کو حل کیا ہے۔
مولانا توصیف قتل کیس کو حل کرنے کا جی آر پی کا دعویٰ، پنکج راجپوت بریلی میں گرفتار












Leave a Reply