Advertisement

بنگلہ دیشی پی ایم کے مشیر دہلی ایئرپورٹ سے دلبرداشتہ واپس ،امیگریشن کا سلوک ’ذلت آمیز‘ بتایا،ہندوستانی سفارت کار طلب

نئی دہلی (ایجنسیاں /ایف ای بی)دہلی ایئرپورٹ پر امیگریشن کے ’مسائل‘ کا سامنا کرنے والے بنگلہ دیشی وزیر اعظم طارق رحمان کے مشیر زاہد الرحمان کے دہلی ہوائی اڈے سے واپس آنے کے بعد ڈھاکہ نے اسے "ذلت آمیز سلوک” قرار دیا۔ انہوں نے دہلی میں مجوزہ میٹنگ میں شرکت بھی نہیں کی ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈھاکہ کے سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مسٹر رحمان کو اتوار کی شام "تصدیق” کے لیے”حراستمیں رکھا گیا تھا کیونکہ وہ ہندوستان سے متعلق بعض معاملوں میں جارحانہ تبصروں میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں ریاستی وزیر کا درجہ رکھنے والے زاہد رحمان جو کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این بی ) کے ایک اہم لیڈر ہیں ،کو دہلی ایئر پورٹ پر باہر نکلنے سے قبل تقریبادو گھنٹے تک ایئر پورٹ پر روکے رکھا گیا ۔اگرچہ زاہد رحمان اس وقت تک ڈھاکہ واپسی کا فیصلہ کر چکے تھے ۔وہیںمیڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان نے بھی ناراضی ظاہر کی ہے۔بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک غیر متوقع واقعہ ہے۔ یہ افسوس ناک بھی ہے۔ وزارت خارجہ اس سلسلے میں مناسب اقدامات کر رہی ہے۔‘وزیر خارجہ نے یہ باتیں پیر کی دوپہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہیں۔ اسی دوپہر بعد بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے ڈھاکہ میں انڈین ہائی کمیشن کے سفارت کار پون کمار بدھے کو طلب کیا۔ وہ اس وقت ڈھاکہ میں انڈیا کے قائم مقام ہائی کمشنر ہیں۔وزارت خارجہ کے ترجمان شاہد الکریم نے بتایا کہہندوستانی سفارت کار سہ پہر کو وزارت خارجہ پہنچے جہاں انہیں ایک احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ قبل ازیں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر مناسب کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے اسے ایک افسوس ناک واقعہ قرار دیا۔ادھربھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب دونوں ملکوں کے بیچ تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ اگرچہ اس سال کے اوائل میں بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی انتخابی فتح کے بعد تعلقات میں بہتری آئی تاہم 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی جانب سے حوالگی کی بارہا درخواستوں کے باوجود شیخ حسینہبھارت ہی میں مقیم ہیں۔دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان بنگلہ دیش کے اس الزام پر بھی اختلافات رہے ہیں کہ بھارت کے حکام متفقہ واپسی کے طریقہ کار پر عمل کیے بغیر غیر دستاویزی تارکین وطن کو سرحد پار دھکیلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ڈھاکہ کا کہنا ہے کہ سرحدی محافظوں نے حالیہ عرصے میں ایسے کئی ’پش اِن‘ کی کوششوں کو ناکام بنایا ہے اور اس مسئلے کو گذشتہ ہفتے نئی دہلی میں بنگلہ دیش اور انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی بات چیت کے دوران بھی اٹھایا۔اگرچہ ان مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے انٹیلیجنس کے تبادلے کو مضبوط بنانے اور سرحدی گشت میں ہم آہنگی پر اتفاق کیا تاہم تارکین وطن کا مسئلہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے