نئی دہلی/بلجئیم (ایجنسی/ایف ای نیوز) کسی نے کبھی خواب و خیال میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ کسی نالے کی کھدائی یا دیوار ڈھائی جارہی ہو اور اس میں سے کروڑوں روپے کا خزانہ برأمد ہو جائے۔ جی ہاں ایسا واقعہ بلجئیم کے شہر سینٹ گلینز میں اس وقت رونما ہواجب ایک سیور لائن بچھانے کیلئے کھدائی کا کام چل رہا تھاتو مزدوروں کو ڈلوں،بسکٹوں اور سکوں کی شکل میں 100کروڑ روپے کی لاگت کا سونا ملا۔ خزانہ تلاش کرنے والے مزدوروں میں ایک 18 سالہ طالب علم کوبے بھی شامل تھے، جو اپنی گرمیوں کی چھٹیوں میں وقت گزارنے اور کچھ پیسے کمانے کے لیے کام کر رہے تھے۔ کوبے نے بیلجیم کے سرکاری نشریاتی ادارے ’وی آر ٹی‘ کو بتایا کہ خزانہ ملنے پر وہ سب پہلے حیران اور پریشان ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ ’شروع میں مجھے لگا کہ یہ ایک یورو کے سکے ہیں، لیکن پھر ہمیں وہاں سونے کی ایک اینٹ بھی نظر آئی۔ تب ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ بہت بڑا خزانہ ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ مشرقی فلینڈرز میں پیش آیا، جہاں مزدور نئے سیوریج پائپ بچھانے کے لیے مکان ڈرلنگ کر رہے تھے ۔ خزانہ ملنے کے بعد یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ اس سونے کا حقدار کون ہو گا؟ ممکنہ طور پر خزانہ دریافت کرنے والے مزدوروں اور مکان کی مالک فلاحی تنظیم، دونوں کا اس پر حق ہو سکتا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور لوگ کو خبردار کیا ہے کہ وہ مزید خزانہ تلاش کرنے کے لیے تعمیراتی مقام پر نہ جائیں۔ پولیس کے مطابق مکان کی مکمل تلاشی لی جا چکی ہے اور ملنے والا تمام سونا محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

















Leave a Reply