نئی دہلی (ایجنسیاں /ایف ای بی )پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں منگل کو ایک بڑا دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ بندوق برداروں نے ڈیم پروجیکٹ کی حفاظت پر مامور پولیس چوکی پر حملہ کیا۔ اس حملے میں کم از کم نو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے، جب کہ متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔یہ حملہ بلوچستان کے ضلع زیارت کے علاقے مانگی میں پولیس کی چوکی پر ہوا ۔ مسلح دہشت گردوں کے حملے میں 9 اہلکار ہلاک ہو گئے جس کے بعد کلیئرنس آپریشن کے دوران 15 دہشت گردوں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ایس پی زیارت عبدالقدوس کے مطابق دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 9 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔مرنے والے اہلکاروں کی میتیں ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند نے اس واقعے سے متعلق کہا ہے کہ زیارت میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، ایف سی، پولیس، سی ٹی ڈی، ایس او ڈبلیو اور اے ٹی ایف نے کلیئرنس آپریشن مکمل کیا۔شاہد رند کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کے دہشت گرد حملے میں پولیس کے 9 افسران و اہلکار ہلاک ہوئے،جنمیں ایس ایچ اوز تھانہ منگی اور تھانہ کواس، اے ٹی ایف انچارج اور دیگر اہلکار شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی غلام سرور سمیت 8 پولیس اہلکار باحفاظت تھانہ کاچ پہنچ گئے ہیں جبکہ کانسٹیبل رضوان کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
پاکستان میں دہشت گردانہ حملہ، 9پولس اہلکار ہلاک ،متعدد لاپتہ،15حملہ آور بھی مارے گئے















Leave a Reply