Advertisement

وینزویلا میں شدید زلزلوں کے جھٹکے ،10ہزار سے ایک لاکھ تک ہلاکتوں کا اندیشہ، متعدد کثیر منزلہ عمارتیں تباہ ، ملک میں ایمرجنسی کا اعلان

نئی دہلی (ایجنسیاں /ایف ای بی )لاطینی امریکی ملک وینزویلا کو اس وقت قدرت کی سب سے خوفناک شکل کا سامنا ہے۔ جمعرات کی صبح (ہندوستانی وقت کے مطابق) ایک منٹ کے اندر آنے والے یکے بعد دیگرے دو تباہ کن زلزلوں نے خوشگوار ملک کو تہہ و بالا کر دیاہے۔ یکے بعد دیگرے 7.2 اور 7.5 کی شدت کے جھٹکوں نے دارالحکومت کراکس سمیت کئی شہروں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ایک منٹ کے اندر آئے 2 شدید زلزلوں کے جھٹکوں سے بھاری نقصان ہوا ہے، سینکڑوں عمارتیں تباہ ہو گئیں جبکہ ایئرپورٹ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ سیکڑوں کثیر منزلہ عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح ڈھہ گئیں ۔کاراکس سمیت مختلف شہروں سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں تباہی کا خوفناک منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے اندازے کے مطابق زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان بتائی جارہی ہے ۔ حالانکہ ابھی حتمی تعداد کے بارے کچھ نہیں کہا جاسکتا ،اصل اعداد سامنے آنا باقی ہیں۔ وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے اظہار تعزیت کرتے ہوئےاس زلزلے کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ قرار دیا ہے جس میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق یو ایس جی ایس کا کہنا ہے کہ اس آفت کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے۔ ادارے نے ابتدائی اندازہ لگایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10000 سے 100000 کے درمیان ہو سکتی ہے۔ افسران نے اب تک ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے حتمی اعدادوشمار جاری نہیں کیے ہیں لیکن مقامی انتظامیہ اور عینی شاہدین نے گرتی ہوئی عمارتوں، امدادی کارروائیوں اور زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی معلومات فراہم کی ہیں۔
وہیںامریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے اندازے کے مطابق زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پہلے زلزلے کی شدت 7.1 تھی اور اس کا مرکز کیریبین ساحل پر واقع مورون بستی کے مغرب میں تھا۔ راجدھانی کاراکاس سے اس کا فاصلہ تقریباً 168 کلومیٹر تھا اور اس کی گہرائی 13 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ دوسرے زلزلے کی شدت 7.5 ریکارڈ کی گئی، جس کا مرکز مورون سے 16 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں تھا اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ زلزلہ گزشتہ ایک صدی میں آنے والے شدید ترین زلزلوں میں سے ایک ہے۔ وینزویلا میں تباہ کن زلزلے کے بعد دنیا بھر سے امدادی کارکن وہاںپہنچ رہے ہیں۔ امریکہ، ڈومینیکن ریپبلک، ایل سلواڈور، میکسیکو اور قطر سے امدادی اور بچاؤ کارکن پہنچ چکے ہیں۔ وینزویلا کے صدر نے کہا کہ چین، برازیل اور کئی دوسرے کیریبین ممالک نے مدد کی پیشکش کی ہے۔ زلزلے سے وینزویلا کی تیل کی پیداوار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے، جس سے ہرمز بحران کے درمیان دنیا کو راحت ملی ہے۔ وینزویلا کے پاس تیل کے وسیع ذخائر ہیں۔وینزویلا میں تباہ کن زلزلے نے اس قدر خوف و ہراس پھیلا دیا ہے کہ لوگ کھلے آسمانے کے نیچے راتبسر کرنے کو مجبور ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ مزید جھٹکے لگ سکتے ہیں یا زلزلے سے تباہ ہونے والی عمارتیں اچانک منہدم ہو سکتی ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات تلاش کر رہے ہیں۔ حکام نے لوگوں کو نقصان کا اندازہ ہونے تک گھروں سے نکلنے کی اپیل کی ہے۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جنگی سطح پر جاری ہے۔اریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا فوری طور پر تلاش اور امدادی ٹیمیں وینزویلا بھیج رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دکھ کی اس گھڑی میں ساتھ ہیں۔ ان کے نائب کرسٹوفر لینڈاؤ نے کہا کہ امریکہ وینزویلا کے ساتھ رابطے میں ہے۔ وینزویلا کے زلزلے میں کم از کم 32 افراد کے ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا اندازہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 10,000 سے 100,000 تک ہو سکتی ہے۔
اس زلزلے کے اتنے زیادہ اثردار ہونے کی بڑی وجہ اس کی کم گہرائی ہے۔ دونوں زلزلے زمین کی سطح سے صرف 10 سے 13 کلومیٹر کی گہرائی پر آئے، جسے زلزلہ سائنس میں بہت کم گہرائی مانا جاتا ہے۔ جب زلزلے کا مرکز سطح کے اتنا قریب ہوتا ہے تو زمین کے اوپر جھٹکے بہت زیادہ تیز محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ لہروں کو اوپر تک پہنچنے میں کم فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور راستے میں کم توانائی ختم ہوتی ہے۔ یہی وجہ رہی کہ کاراکاس اور آس پاس کے علاقوں میں عمارتیں لرز اٹھیں اور کئی منہدم ہو گئیں۔ وارننگ دی گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید جھٹکے یعنی آفٹر شاکس آ سکتے ہیں، جن میں سے کچھ کافی تیز بھی ہو سکتے ہیں۔
وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگ زلز نے اس آفت کے بعد ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’توجہ فرمائیں، میں جلد ہی وینزویلا کے عوام سے خطاب کروں گی اور ہمارے ملک کو متاثر کرنے والے شدید زلزلے کے بعد کی صورتحال پر رپورٹ پیش کروں گی۔‘‘قابل ذکر ہے کہ وینزویلا اس علاقے میں واقع ہے جہاں کیریبین پلیٹ اور جنوبی امریکی پلیٹ آپس میں ملتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں زلزلے کا خطرہ ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق 1812 میں کاراکاس اور میریڈا میں آنے والے ایک زلزلے میں تقریباً 30 ہزار افراد کی جانیں گئی تھیں۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے