طلبہ کے شدید احتجاج کے بعد پیر کے روز انتظامیہ نے اعلان کیا کہ طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے بعد 15 دنوں کے اندر انتخابات منعقد کرائے جائیں گے
نئی دہلی (ایجنسی/ایف ای نیوز)جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بالآخر طلبہ کے شدید احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ پیر کے روز انتظامیہ نے اعلان کیا کہ طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے بعد 15 دنوں کے اندر انتخابات منعقد کرائے جائیں گے۔ تقریباً بیس سال بعد جامعہ میں طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کا فیصلہ ہوا ہے۔انتظامیہ نے احتجاج کے دوران جاری کیے گئے معطلی کے احکامات اور شو کاز نوٹسز منسوخ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ سیکورٹی اہلکاروں کے رویے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔تاہم احتجاج کرنے والے طلبہ نے اس اعلان کو مبہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک انہیں تحریری یقین دہانی نہیں ملتی، تحریک جاری رہے گی۔ طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کے انعقاد کے مطالبے پر 12 اکتوبر سے احتجاج جاری ہے۔ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پانچ طلبہ گزشتہ چودہ دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ یونیورسٹی کیمپس بند کر دیا گیا ہے اور کلاسیں آن لائن منتقل کر دی گئی ہیں۔جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی پیر کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے کیمپس پہنچے، احتجاجی طلبہ سے بات چیت کی اور انتظامیہ کا حکم نامہ دکھایا۔ انہوں نے طلبہ سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ ان کے مطالبات مان لیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود طلبہ تنظیموں نے نشاندہی کی کہ آئین کی منظوری کی تاریخ ابھی واضح نہیں ہے۔ طلبہ چیف پراکٹر کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں اور واضح ٹائم لائن اور تحریری یقین دہانی کے بغیر احتجاج ختم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ 2006 میں طلبہ یونین کے تحلیل ہونے کے بعد سے جامعہ میں کوئی انتخابات نہیں ہوئے۔ طلبہ ایک منتخب یونین کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ وہ کیمپس کے مسائل اٹھا سکیں۔ انتظامیہ نے پہلے بات چیت کے لیے سات پروفیسروں پر مشتمل کمیٹی بنائی تھی جبکہ 21 اکتوبر کو آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لیے الگ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ ایس ایف آئی نے آئین سازی کمیٹی میں طلبہ کی شمولیت اور موجودہ سمسٹر میں ہی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کا مطالبہ کیا ہے۔دریں اثنا جامعہ انتظامیہ کی شکایت پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود، راجیہ سبھا کے رکن عمران پرتاپ گڑھی اور دیگر کے خلاف بغیر اجازت کیمپس میں داخل ہونے اور بدامنی پھیلانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ ارکان پارلیمنٹ احتجاجی طلبہ سے ملنے آئے تھے۔24 اکتوبر کو کشیدگی بڑھنے کے بعد یونیورسٹی نے تمام کورسز کی کلاسیں آن لائن منتقل کر دیں، طلبہ کو کیمپس نہ آنے کا مشورہ دیا اور گیٹس و لائبریری بند رکھنے کی ہدایت جاری کی۔ انتظامیہ کا الزام ہے کہ کچھ طلبہ نے سیکیورٹی گارڈز، عملے اور فیکلٹی کے ساتھ دھکا مکی کی ہے۔ دوسری جانب ایس ایف آئی جامعہ یونٹ نے الزام لگایا کہ عہدیداروں اور سیکیورٹی ایڈوائزر نے مظاہرین کو زبردستی ہٹانے کی کوشش کی، خیمے اکھاڑے اور طالبات کو گھسیٹا۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ گیٹ نمبر 7 کے باہر سے طلبہ کو حراست میں لیا گیا۔ یونیورسٹی کا موقف ہے کہ گیٹ نمبر 18 احتجاج کے لیے مختص جگہ ہے اور گلستان غالب لان میں دھرنا غیر مجاز قبضہ ہے۔















Leave a Reply