Advertisement

ملت کی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور نوجوانوں کو آگے بڑھائیں

جمعیۃ علماء ہند کا نواں مرکزی ششماہی مشورہ، مولانا محمود مدنی کا ملک بھر کے ذمہ داران کوواضح پیغام

 

پوکرن ،راجستھان (پریس ریلیز) جمعیۃ علماء ہند کے ریاستی و علاقائی یونٹوں کے صدور و نظماء اعلیٰ کا نواں مرکزی ششماہی مشورہ دارالعلوم اسلامیہ پوکرن، جیسلمیر راجستھان میں منعقد ہوا۔ اس مشورے میں صوبوں کے نظمائے تنظیم بھی شریک ہیں۔ اجلاس میں صدر جمعیۃ علماءہند مولانا محمود اسعد مدنی نے تنظیمی افکار و نظریات اور منصوبوں پر تفصیلی خطاب کیا۔ اس موقع پر ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے سابقہ کارروائی کی خواندگی کی جبکہ پروگرام کے میزبان اور جمعیۃ علماء ہند کے نائب صدر مولانا قاری محمد امین، مہتمم دارالعلوم اسلامیہ پوکرن کی جانب سے استاذ مدرسہ ہذا مفتی فضل الدین قاسمی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔ سہ روزہ مشورے میں ملک بھر کی تنظیمی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کی ششماہی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ چھ ماہ کے لیے مختلف شعبوں کے اہداف مقرر کیے گئے ۔ چنانچہ پیش کردہ رپورٹوں کے مطابق اپریل تا اکتوبر 2026کے دوران تمام صوبوں نے جن شعبوں میں پیش رفت کی ہے ان میں دینی مکاتب ، درسِ قرآن و حدیث،اصلاحِ معاشرہ ، اخلاقی تربیت، معاشرتی اصلاح اور فضول خرچی کی روک تھام کے لیے 7351 اصلاحی اجتماعات ،رفیق، مساجد کو دینی و سماجی رہنمائی کے فعال مراکز بنانے کے لیے 1806 مثالی مساجدکا قیام، سدبھاؤنا منچ، قومی یکجہتی، باہمی ہمدردی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے 356 پروگرام ،جن وکاس سیوا،تنظیمی تربیت کیلئے ورکشاپ کے انعقادکی سرگرمیاں قابل ذکر ہیں ۔اس موقع پر اپنے کلیدی خطاب میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے ششماہی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مختلف شعبوں میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ملت کی ضروریات اور درپیش تقاضوں کے پیش نظر ہماری ذمہ داریاں بہت وسیع ہیں، اس لیے مزید محنت، اخلاص اور عزم کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے نزدیک ملت کی خدمت کو اصل ترجیح حاصل ہے۔ ہمیں اپنے اندر ملت کے لیے مرمٹنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ جب یہ جذبہ پیدا ہو جائے گا تو ذاتی حیثیتوں کی اہمیت خود بخود کم ہوجائے گی ۔اکابرین اور اسلاف کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ انہوں نے محدود وسائل اور نامساعد حالات کے باوجود غیر معمولی عزم و استقامت کے ساتھ کام کیا اور مشکلات سے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے اخلاص، ایثار اور جذبۂ خدمت کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں اور اسی احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ملی و تنظیمی کاموں کو آگے بڑھائیں۔نوجوان نسل کو آگے بڑھانے اور نئی قیادت تیار کرنے پر زور دیتے ہوئے صدر جمعیۃ نے کہا کہ نوجوانوں کو کام کے مواقع فراہم کیے جائیں، انہیں ذمہ داریاں سونپی جائیں اور انہیںاس انداز سے تیار کیا جائے کہ وہ مستقبل میں موجودہ ذمہ داران کا مؤثر متبادل بن سکیں۔ اس طرح جمعیۃ علماء ہند کا پیغام اور اس کی تعمیری سرگرمیاں ملک کے کونے کونے، ہر گاؤں اور ہر بستی تک پہنچائی جاسکیں گی۔ انھو ں نے کہا کہ ہم خیال لوگوں کو ملت کے مشترکہ کاموں میں ساتھ لانا ہوگا۔
نائب صدر جمعیۃ علماءہند مولانا محمد سلمان بجنو ری نے کہا کہ جب یہ جذبہ ہمارے اندر پوری طرح پیدا ہو جائے کہ ہم اپنے کام کو ذاتی شہرت، نام و نمود اور اپنی ذات کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دیں، تو پھر کام چھوٹا ہو یا بڑا، اس کی قدر و قیمت باقی رہتی ہے۔ ورنہ محض عہدے، منصب اور ظاہری شہرت ہمیشہ باقی نہیں رہتے۔
اجلاس کی ایک اہم نشست میں صدر جمعیۃ علماء یوپی مولانا مفتی سید محمد عفان منصورپوری نے دینی تعلیمی بورڈ اور مکاتب کے سلسلے میں اپنی پیشکش اور تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے بنیادی دینی تعلیم کے فروغ، مکاتب کے قیام، اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کی اہمیت واضح کی۔ اس ضمن میں صوبائی یونٹوں کی ذمہ داریوں اور آئندہ کے عملی اہداف پر بھی توجہ دی گئی۔
واضح ہو کہ مشورے کی مختلف نشستوں کی صدارت نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد سلمان بجنوری، نائب صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری محمد امین، صدر مجلسِ قائمہ جمعیۃ علماء ہند مفتی رحمت اللہ میر کشمیری ،صدر جمعیۃ علماء کرناٹک مفتی افتخار احمد قاسمی اور مولانا عبدالقادر نائب صدر جمعیۃ علماء آسام نے کی او ر ان حضرات اکابر نے وقیع خطبہ بھی پیش کیا۔
مختلف شعبوں کی رپورٹیں اور پرزنٹیشن اویس سلطان خاں ( شعبہ جیم ) مفتی مہدی حسن عینی (سدبھاونا منچ)، ڈاکٹر شبیر مشتاق میر (خیر ایپ اور تربیتی رپورٹ)، مولانا محمد اخلاق (رفیق) اور مولانا محمد عمر قاسمی (اصلاحِ معاشرہ ، مثالی مساجد، ایپ) نے پیش کیں۔ سکریٹری جمعیۃ علماء ہند مولانا نیاز احمد فاروقی نے پیرا ا لیگل ٹریننگ پرروشنی ڈالی ۔ اجلاس میں پیش کردہ رپورٹوں اور آئندہ کے اہداف کی روشنی میں تنظیمی و سماجی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے پر غور کیا گیا۔مجلسوں کا آغاز مفتی سید محمد عفان منصورپوری کی تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا، جب کہ دارالعلوم اسلامیہ پوکرن کے طلبہ نے نعت شریف پیش کی۔تین روزہ اس مشورے میں ملک بھر کی تنظیمی، تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ مختلف شعبوں کی کارکردگی، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور معیاری مساجد ، ہر یونٹ میں اصلاحی کمیٹی اور مثالی اضلاع میں فیملی کونسلنگ سینٹر قائم کرنے کی تجویز منظور ہوئی۔ مشورے مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند کے کئی ذمہ داران بھی موجود ہیں ۔دارالعلوم اسلامیہ پوکرن اس مرکزی مشورے کی میزبانی بحسن
و خوبی انجام دی ۔ اساتذہ اور طلبہ سمیت ادارے کے منتظمین نے مہمانوں کی ہر ممکن خدمت کی۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے