کاکروچ جنتاپارٹی کے رہنما ابھیجیت دیپکے کا حکومت سے سوال اور راہل گاندھی سے اظہار تشکر
نئی دہلی (ایجنسی /ایف ای نیوز )کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے رہنما آشوتوش رانکا کو بغیر اجازت جنتر منتر پر احتجاج کرنے اور پہلے سے طے شدہ امن معاہدے (Peace Bond) کی شرائط کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت پانچ دن کے لیے عدالتی تحویل میں تہاڑ جیل بھیج دیا گیا ہے۔پولس کے اس اقدام گرفتاری پر کاکروچ جنتا پارٹی کے لیڈر ابھیجیت دیپکے،لیڈر آف اپوزیشن راہول گاندھی اور اروند کیجریوال سمیت دیگر رہنماؤں نے سخت تنقید کی ہے۔ایک الگ ویڈیو پوسٹ میں، دیپکے نے سوال کیا کہ کیا اب قومی پرچم لہرانا جرم بن گیا ہے۔ 45 سیکنڈ کے اس ویڈیو میں دیپکے نے بتایا کہ سوربھ اور آشوتوش کو آج عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ دونوں کو معلوم تھا کہ اگر وہ جنتر منتر گئے تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں ترنگا لہرانا بھی جرم بن گیا ہے۔وہیںدیپکے نے یہ بھی کہا، "میں وزیر اعظم نریندر مودی سے کہنا چاہتا ہوں، اگر آپ میں ہمت ہے تو باضابطہ طور پر ایمرجنسی (ہنگامی حالت) کا اعلان کریں۔ بزدلوں کی طرح پولیس کی آڑ میں چھپنا بند کریں۔ اعلان کر دیں کہ اس ملک میں اختلافِ رائے اور احتجاج کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آپ نہ تو ترنگے کا احترام کرتے ہیں اور نہ ہی ملک کے عوام کا۔”
دریں اثناکاکروچ جنتا پارٹی(CJP) کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا، "کئی دہائیوں بعد، جب بچے اپنی تاریخ کی کتابیں کھولیں گے اور یہ تصویر دیکھیں گے، تو ان کے ذہن میں سب سے پہلا خیال یہ آئے گا کہ دہلی پولیس ان لوگوں کو ترنگا لہرانے سے کیوں روک رہی تھی؟” کیا آپ کو ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہتے ہوئے شرمندگی محسوس نہیں ہوگی کہ، "انہیں جیل بھی بھیج دیا گیا تھا۔ کس لیے؟ ہمارے ملک کی شان یعنی ترنگےکا وقاربڑھانےکے لیے؟” جب قومی پرچم لہرانے والوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، تو خطرہ حب الوطنی کو نہیں، بلکہ خود جمہوریت کو لاحق ہوتا ہے۔ آمریت کا آغاز اسی طرح ہوتا ہےــ‘‘۔ قابل ذکر ہے کہ سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاری کے بعد راہل گاندھی اور اروند کیجریوال سمیت مختلف رہنماؤں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہےابھیجیت دیپکے نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کے ایک پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے، سی جے پی کے بانی دیپکے نے لکھا، "آشوتوش اور سوربھ داس کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف آواز اٹھانے پر آپ کا شکریہ، راہول گاندھی صاحب۔”دیپکے نے اسی طرح آپ (AAP) کے کنوینر اروند کیجریوال، شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے اور لوک سبھا کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کا بھی شکریہ ادا کیا۔مہاراشٹر کے شہر ناگپور سے دہلی واپس آنے والے دیپکے نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور رائے بریلی کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی، عام آدمی پارٹی کے رہنما اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، اور تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کی جانب سے کیے گئے ٹویٹس کو ری پوسٹ کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔دریں اثناجنتر منتر کو احتجاجی مقام کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے پر، اے آئی ایم آئی ایم (AIMIM) کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا، "سوال یہ ہے کہ حکومت مظاہرین کی مخالفت کیوں کر رہی ہے؟ سپریم کورٹ نے احتجاج کے حق کو برقرار رکھا ہے؛ لہٰذا، جب تک تشدد نہ ہو، احتجاج کی اجازت ہونی چاہیے۔ آج ان نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا، لیکن ان کی گرفتاری بالکل غیر ضروری تھی۔ انہیں آسانی سے ضمانت دی جا سکتی تھی یا نوٹس جاری کیا جا سکتا تھا۔خاص طور پر اس لیے کہ ان میں سے ایک کو پہلے ہی رہا کر دیا گیا ہے؛ تو پھر باقی دو کو عدالتی حراست میں کیوں بھیجا گیا؟”















Leave a Reply