نئی دہلی (ایجنسی /ایف ای نیوز)انڈیابلاک کے رہنماؤں نے کناٹ پلیس کے ایک ریستوراں میں دوپہر کے کھانے پر ایک میٹنگ کی تاکہ چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار کے استعفیٰ اور اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے لیے مسلسل تیسرے دن مظاہروں کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔لوک سبھا ایل او پی راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس قائدین سی ای سی گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر کے خلاف دھرنا دینے کے لیے بڑی تعداد میں راج گھاٹ کی طرف مارچ کیا ۔
کانگریس کے کارکنان، اتحادی اپوزیشن جماعتوں کے ہمراہ، چیف الیکشن کمشنر کے خلاف پلے کارڈز اٹھائے اور حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے بسوں اور پیدل کناٹ پلیس سے راج گھاٹ کی جانب بڑھے۔ اس احتجاجی مارچ کے باعث شام کے مصروف ترین اوقات میں شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک شدید جام ہو گیا۔ کانگریس قیادت نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ کی جانب سے پرامن مظاہروں کو جان بوجھ کر دبانے کی کوشش کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ ارکانِ پارلیمنٹ انتخابی بے ضابطگیوں، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے مہاتما گاندھی کی یادگار کی طرف مارچ کر رہے تھے۔دریں اثنا ردہلی پولس کا راج گھاٹ تک سخت پہرا رہا ۔راہول گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر اپوزیشن لیڈروں کے سی ای سی گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے خلاف اس احتجاج نے سیاسی ماحول میں مزید گرماہٹ کو بڑھا دیا ہے۔یہ مارچ کناٹ پلیس سے راج گھاٹ تک تھا۔اس درمیان مرکزی دہلی میںہائی الرٹ کے ساتھ بڑی تعداد میں دہلی پولس کے جوان اور سیکورٹی اہلکار تعینات رہے ۔کانگریس صدر ملکا رجن کھڑگے ،اور راہل گاندھی کے علاوہ چنندہ لیڈروں کو راج گھاٹ کے اندر جانے کی اجازت دی گئی
راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس رہنمائوں کاراج گھاٹ مارچ















Leave a Reply