نئی دہلی ،(ایجنسیاں) ہندوستانی حکومت نے جمعہ کو امریکی سپریم کورٹ کے ٹیرف کے فیصلے کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کی پیش رفت اور مضمرات کا قریب سے مطالعہ کر رہا ہے۔ واضح ہو کہ امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دنیا بھر کے ممالک پر بھاری محصولات عائد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ۔ اس معاملے کے بارے میں وزیر تجارت پیوش گوئل نے کہا، "ہم نے گزشتہ روز ٹیرف پر امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کا نوٹس لیا ہے۔ وہاں کے صدر نے اس معاملے پر ایک پریس کانفرنس بھی کی ہے۔ ساتھ ہی ٹرمپ انتظامیہ نے کچھ فیصلے بھی کیے ہیں۔ ہم اس کا قریب سے مطالعہ کر رہے ہیں۔”وہیں امریکی عدالت کے فیصلے کے بارے میں مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ حکومت ٹیرف سے متعلق عدالت کے حالیہ فیصلے کا مطالعہ کرے گی۔ وزیر تجارت پیوش گوئل اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر اس معاملےکو دیکھ رہے ہیں۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا، "میں نے میڈیا میں پڑھا کہ امریکی سپریم کورٹ نے اس معاملے میں ایک حکم جاری کیا ہے۔ ہندوستانی حکومت اس کا مطالعہ کرے گی۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم جواب دیں گے۔” وزارت تجارت اور وزارت خارجہ اس معاملے کو دیکھ رہی ہیں اس پر انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ واضح ہو کہ جمعہ کو امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے محصولات کو غیر قانونی قرار دیا۔ چھ جج اس فیصلے کے حق میں تھے جبکہ تین مخالف تھے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 1977 میں نافذ ہونے والے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کا استعمال کیا اور بھاری درآمدی محصولات لگا کر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیاہے۔قابل ذکر ہے کہ امریکی چیف جسٹس جان رابرٹس نے، جسٹس نیل گورسچ، ایمی کونی بیرٹ اور تین آزاد خیال ججوں کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ سنایا۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ IEEPA صدر کو ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ اختیار آئینی طور پر کانگریس کو دیا گیا ہے۔وہیںصدرٹرمپ نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کی۔امریکی صدر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے انتہائی برا فیصلہ قرار دیا۔ مزید برآں، ٹرمپ نے تجارتی ایکٹ 1974 کے سیکشن 122 کے تحت 10 فیصد عالمی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ 150 دنوں تک کے لیے عارضی درآمدی سرچارجز کی اجازت دیتا ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کےمحصولات لگانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ،ہندوستان نے کہا، ’ فیصلے کا باریکی سے کررہے ہیں مطالعہ‘














Leave a Reply