Advertisement

امریکی حملے میں جاں بحق ایرانی بچیوں کے لواحقین کو چین دےگا 2لاکھ ڈالرکا عطیہ

نئی دہلی /بیجنگ ، (ایجنسی )ایران میں جنگ کے دوران امریکی فضائی حملے میں ایک پرائمری اسکول کی تقریبا 168 بچیوں کی ہلاکت پر عالمی ممالک ک پر اسرار خاموشی اور سرد مہری کے درمیان چین نے اعلان کیا ہے کہ شہید ہوجانے والی بچیوں کے ورثا کو 2لاکھ ڈالر کی خطیر رقم کا عطیہ بطور معاوضہ کرے گا ۔العربیہ اردو نیوز آن لائ پورٹل کی خبر کے مطابق چین نے جمعہ کو کہا ہے کہ وہ شرقِ اوسط کی جنگ کے اوائل میں ایران میں بچیوں کے ایک پرائمری سکول پر "اندھا دھند” میزائل حملے میں ہلاک شدہ طالبات کے والدین کو 200,000 ڈالر عطیہ کرے گا۔قابل ذکر ہے کہ تہران نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے جنگ کے پہلے دن ایران کے جنوب میں واقع سکول پر مہلک میزائل حملہ کیا تھا۔ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں ہلاک شدہ بچیوں سمیت کم از کم 168 افراد کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ بیجنگ کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ چینی ریڈ کراس سوسائٹی ایرانی ہلالِ احمر سوسائٹی کو ہنگامی انسانی امداد کے طور پر خاص طور پر ہلاک شدہ طالبات کے والدین سے تعزیت اور معاوضے کے لیے 200,000 ڈالر عطیہ کرے گی ۔حملے میں شہید ہونے والی بچیوں کی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔تاہم حملے کے لیے امریکی فوج کی تحقیقات جاری ہیں۔وزارت کے ترجمان گو جیاکون نے اس مہلک حملے کو بین الاقوامی انسانی قانون کی "سخت خلاف ورزی” قرار دیا۔گو نے ایک باقاعدہ نیوز بریفنگ میں نامہ نگاروں کو بتایا، "سکولوں اور بچوں پر حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور انسانی ضمیر اور اخلاقیات کی نچلی سطح کے ہیں۔”انہوں نے کہا، چین اس مشکل وقت میں ایرانی عوام کی مدد کے لیے انسانی ہمدردی کے جذبے سے ایران کو ضروری امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔واضح رہے کہ نیویارک ٹائمز نے بدھ کے روز اطلاع دی کہ امریکی فوجی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ امریکی ٹوماہاک میزائل نشانے کی غلطی کے باعث اسکول پر گرا تھا۔اسرائیل نے اس حملے میں ملوث یا اس کا علم ہونے سے انکار کیا ہے۔ذرائع کے مطابق خبر رساں ایجنسی اے ایف پی حملے یا ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق کرنے کے لیے مقام تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر رہا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں کہا تھا کہ ایران خود اس کا ذمہ دار ہو سکتا ہے حالانکہ ایران کے پاس ٹوماہاک میزائل نہیں ہیں۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے