Advertisement

 دریا ئے گنگا میں افطار : وارانسی کی عدالت نے 14 مسلم نوجوانوں کی ضمانت پھر مسترد کردی

نئی دہلی ،(ایف ای بی /ایجنسی)وارانسی میں دریائے گنگا میں ایک کشتی میں روزہ افطار کر نے کی پاداش میں جیل میں بند 14مسلم نوجوانوں کی عدالت نے ضمانت منظور کرنے سے انکار کردیا۔ بدھ یکم اپریل کو وارانسی کی سیشن کورٹ میں ضمانت کے لیئے سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہاکہ پہلی نظر سے ایسا لگتا ہے کہ ان کا مقصد سماجی ہم آہنگی کو درہم برہم کرنا تھا۔واضح رہے کہ سبھی نوجوانوں پر اکثریتی طبقہ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا تھا ۔بھارتیہ جنتا یووا مورچہ (بی جے وائی ایم) کے ایک مقامی کارکن رجت جیسوال کی جانب سے پولیس شکایت میں بتایا گیا تھا کہ ان مسلم نوجوانوں نے گوشت کھایا اور بچا ہوا حصہ دریا میں پھینکا۔جس کے بعد پولس نے انہیں گرفتار کیا اوران پر تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی کئی دفعات کے ساتھ فرد جرم عائد کی گئی، جس میں عبادت گاہ کی بے حرمتی، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے، اور بعد ازاں جبری وصولی کے الزامات شامل ہیں۔بدھ (1 اپریل) کو وارانسی سیشن کورٹ میں ضمانت کی سماعت کے دوران،لایئو لا کی رپورٹ کے مطابق ملزمین کے وکیل نے گزشتہ ماہ ٹرائل کورٹ میں دیے گئے اپنے دلائل کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ کشتی کی سواری کے ویڈیو میں کہیں بھی گوشت کھایا جاتا ہوا نہیں دکھایا گیا ہے اور پولیس نے ایسی کوئی چیز برآمد نہیں کی ہے۔وکیل نے یہ بھی استدلال کیا کہ نوجوانوں کو "سیاسی بددیانتی” اور "انتقام” کے تحت اور حکمران بی جے پی لیڈروں کے کہنے پر جھوٹا پھنسایا گیا ۔دریں اثنا، ریاستی وکیل نے دلیل دی کہ یہ ایک سوچی سمجھی کارروائی ہے جس کا مقصد "عوامی امن” اور "فرقہ وارانہ ہم آہنگی” کو خراب کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملزم کے ’’حامی‘‘ معاملے میں مخبر کو مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔لائیو لا کے مطابق، سیشن جج آلوک کمار نے بالآخر کہا کہ نوجوانوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس واقعہ کا مقصد سماجی ہم آہنگی کو درہم برہم کرنا تھا۔جسٹس کمار نے یہ بھی کہا کہ کشتی کی سواری اور کھانے کی ویڈیو کلپس کا آن لائن گردش کرنامعاملہ کی سنگینی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
بتادیں اس سے قبل وارانسی کی ایک عدالت نے 23 مارچ کو ان نوجوانوں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔سماعت کے دوران ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ امیت یادو نے اپنے حکم میں کہا کہ ملزمان کی جانب سے کیے گئے جرائم سنگین اور ناقابل ضمانت ہیں، اس لیے انہیں ضمانت دینے کے لیے ناکافی بنیادیں ہیں۔ادھرسیاسی سطح پر یہ معاملہ طول پکڑ رہا ہے ۔مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم ) کی جانب سے سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ۔اسد الدین اویسی نے انتظامیہ سے سوال کیا کہ وارانسی میں دریائے گنگا میں ایک کشتی پر روزہ افطار کرنے سے کسی کے مذہبی جذبات کو کیسے ٹھیس پہنچ سکتی ہے ؟انہوں نے14مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کو غیر منصفانہ بتایا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائی اس لیے کی گئی کیونکہ وہ مسلمان تھے۔اویسی نے کہا، "ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ کسی کوگندگی اور اس میں بہتے گٹر کی پرواہ نہیں ہے، کسی کو بڑی کشتیوں کی پرواہ نہیں ہے، جو لوگ اپنی روزمرہ کی رسومات ادا کرتے ہیں، اور انہیں جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ کیا یہ تمہارا انصاف ہے، بی جے پی والے؟ تمام بچے مسلمان ہیں،اور پسماندہ طبقہ سے آتے ہیں۔” وہ اتر پردیش سے ہیں، جن کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا گیا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ پورے رمضان میں شراب کی دکانیں کیوں کھلی رہتی ہیں،میں روزہ نہیں توڑ سکتاکیا اس سے میرے مذہبی جذبات مجروح نہیں ہوں گے؟ ان کے علاوہ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش سنگھ یادو نے سوال اٹھاتےہوئے کہا کہ گنگا پر افطار کیوں نہیں کر سکتے ،انہوں نے ڈی ایم اور ایس پی کی ہتھیلی گرم نہیں کی ہوگی اس لئے کارروائی ہوئی۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے