Advertisement

جھارکھنڈ میں طلبا کے احتجاج پر پولیس کا لاٹھی چارج، واٹر کینن کا استعما ل

نئی دہلی (ایجنسی/ایف ای نیوز ): جھارکھنڈ میں سرکاری بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبا کا احتجاج جاری ہے۔ پیر کو احتجاج کے 17ویں دن طلبا نے اپنی مانگوں کے حق میں جھارکھنڈ اسمبلی کی طرف مارچ کیا۔ پولیس نے انہیں روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا اور ہلکا لاٹھی چارج بھی کیا۔طلبا رانچی میں حکومت کے ساتھ چھٹے دور کی بات چیت ناکام ہونے کے بعد اسمبلی کی طرف مارچ کر رہے تھے۔ وہ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (JPSC) اور جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (JSSC) کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔مارچ سے پہلے رانچی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔ اسمبلی کی طرف جانے والی سڑک پر بیریکیڈز اور ریزر فینسنگ لگائی گئی تھی۔ اسمبلی کے 750 میٹر کے علاقے میں دفعہ 163 بھی نافذ کی گئی تھی۔جب مظاہرین جگن ناتھ پور مندر کے قریب آخری بیریکیڈ تک پہنچے تو پولیس نے انہیں روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ مظاہرین اس کے باوجود نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ بعد میں کچھ مظاہرین نے بیریکیڈ توڑنے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے ہلکا لاٹھی چارج کیا۔رانچی کے ایس پی (دیہی) گورو گوسوامی نے کہا کہ لاٹھی چارج بہت محدود تھا۔ ان کے مطابق پولیس طلبا سے مسلسل بات کر رہی ہے اور اس وقت مظاہرین پرامن ہیں۔جھارکھنڈ لوک تانترک کرانتیکاری مورچہ (JLKM) کے ایم ایل اے جے رام کمار مہتو نے طلبا کے احتجاج کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج پرامن ہے، اس لیے طلبا پر لاٹھی چارج نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور طلبا کے مسائل ایوان میں اٹھائے جانے چاہئیں۔JLKM لیڈر دیویندر ناتھ مہتو بھی طلبا کے مارچ میں شامل ہوئے۔ وہ گزشتہ نو دنوں سے طلبا کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران ان کا وزن تقریباً 10.5 کلوگرام کم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبا پرامن طریقے سے اپنے مطالبات رکھ رہے ہیں اور سب کو احتجاج کا امن برقرار رکھنا چاہیے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے تمام مطالبات نہیں مان رہی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ طلبا کے 98 فیصد مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، جبکہ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ان 13 امتحانات میں سے صرف تین امتحانات منسوخ کرنے پر راضی ہوئی ہے جنہیں وہ منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔سابق JPSC چیئرمین گرفتاراسی دوران جھارکھنڈ CID نے JPSC کے سابق چیئرمین ایل کھیانگٹے کو بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں گرفتار کر لیا ہے۔کھیانگٹے کو گزشتہ سال فروری میں JPSC کا چیئرمین بنایا گیا تھا۔ انہوں نے 22 جولائی کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس سے پہلے وہ جھارکھنڈ کے چیف سیکریٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔طلبا کا احتجاج اور حکومت کے ساتھ مذاکرات ابھی بھی جاری ہیں، لیکن ان کے اہم مطالبات پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے