Advertisement

کا س گنج میں 5افراد کی اجتماعی خودکشی ،لاشیں پھندے سے لٹکی ملیں

کا س گنج،(ایجنسیاں) اترپردیش کے کاس گنج ضلع سے خوفناک خبر سامنے آئی ہے۔ کاس گنج کے اما پور تھانہ علاقے کے ناگلا بھوجرا گاؤں میں رہنے والے ایک کنبہ کے تمام افراد نے ایک ساتھ اپنی جان لے لی۔ کنبہ میں 50 سالہ ستیہ ویر فوجی، ان کی 48 سالہ بیوی رام شری، 12 سالہ بیٹی پراچی، 10 سالہ بیٹی امروتی اور 9 سالہ گریش شامل تھے۔بتایا جا رہا ہے کہ پانچوں کی لاشیں پھندے سے لٹکی ہوئی ملی ہیں۔ ستیہ ویر فوجی ویلڈنگ کی دکان چلاتےتھے اور دو دکانوں میںرہائش رکھتے تھے۔ لوگوں کو اس وقت شک ہوا جب کافی دیر تک دکانیں نہیں کھلیں۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق لوگوں نے شگاف سے جھانک کر اندر دیکھا تو حقیقت سامنے آئی۔لوگوں نے چار لوگوں کی لاشیں چارپائی پر پڑی دیکھیں، جب کہ ستیہ ویر کو لٹکا ہوا دیکھا گیا۔ ان کی بیوی رام شری کی گردن پر تیز دھار ہتھیار کے نشانات تھے۔ اس بات کا شک ظاہر کیا جارہا ہے کہ ستیہ ویر فوجی نے پہلے اپنے خاندان کے سبھی افراد کو قتل کیا اور پھر اپنی جان لے لی۔ تاہم کیس کی اصل نوعیت پولیس کی تفتیش کے بعد ہی سامنے آئے گی۔اس معاملے میں پولس نے تفتیش شروع کردی ہے۔اطلاع ملنے پر اما پور پولیس اسٹیشن کی ایک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور دکان کا دروازہ توڑ کر پانچوں لاشیں نکالی گئیں۔ کاس گنج کی پولیس سپرنٹنڈنٹ انکیتا شرما نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ انہوں نے معاملے کی جلد تحقیقات اور حل کی یقین دہانی کرائی ہے۔امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ خودکشی کا یہ واقعہ دو روز قبل کا ہے۔اے بی پی کو موصولہ خبر کے مطابق کاس گنج ایس پی انکیتا شرما کا کہنا ہے کہ شام 6:30 بجے اماپور قصبے میں اطلاع ملی کہ ایک دکان میں کئی لاشیں ملی ہیں۔ ابتدائی طور پر ایسا لگتا ہے کہ ستیہ ویر نے اپنی بیوی اور تین بچوں کو قتل کرنے کے بعد پھانسی لگا کر خودکشی کر لی ہے۔پولیس کا خیال ہے کہ بدبو کی وجہ سے لاشیں ایک یا دو دن پرانی ہو سکتی ہیں۔ پورے واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ فا رنسک ٹیم نے ڈاگ سکواڈ کے ذریعہ شواہد اکٹھے کیے ہیں۔پولس افسران کے مطابق گھر کے گیٹ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔ دروازہ کھولا تو ستیہ ویر کی لاش لٹکی ہوئی ملی۔ باقی چار لاشیں ایک چارپائی پر پڑی تھیں۔ اس کی بیوی رام شری کی گردن پر کٹے ہوئے نشان تھے۔ دروازہ اندر سے بند تھا۔ کسی باہر کے داخلے کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔بتایا جاتا ہے کہ ستیہ ویر کا خاندان پانچ سال سے کرائے پر تھا۔ستیہ ویر کمپلیکس کے پچھلے حصے میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا اور سامنے والے حصے میں ویلڈنگ کی دکان چلاتا تھا۔ یہ خاندان پچھلے پانچ سالوں سے اسے کرائے پر رہ رہا تھا۔اس خوفناک قدم کی وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی ۔پولیس ابھی تک اس بات کا تعین نہیں کر پائی ہے کہ ستیہ ویر کے ساتھ ایسا کیا ہوا جس کی وجہ سے اس نے اپنے پورے خاندان کی جان لے لی اور اس کے 9 اور 10 سال کے بچے بھی خودکشی پر مجبور ہوئے۔ پولیس فی الحال محلے والوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے اور متوفی خاندان کے رشتہ داروں کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ اس بات کی بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر کنبہ کے ساتھ کس نے بات چیت کی اور کون ان کے اور ان کے مسائل کے بارے میں آگاہ رہاہوگا ۔گھریلو جھگڑے، مالی مشکلات، یا قرض کو اکثر ایسے معاملات کے پیچھے اصل محرکات کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ تاہم، پولیس ستیہ ویر فوجی کے اہل خانہ کی جانب سے یہ سخت قدم اٹھانے کی وجوہات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے