لکھنو/نئی دہلی،(ایف ای بی/ایجنسی)لکھنئو سے ایک دلدوز قتل کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔لکھنئو کےآشیانہ علاقے میں ایک نوجوان بیٹے نے اپنے باپ کو بے رحمی سے قتل کردیا۔پکڑے جانے کے ڈر سے اس نے باپ کی لاش کے کئی ٹکڑے کئے اور ان کو دور دراز کے جنگل میں پھینک آیا ۔باقی جسم کے حصہ کو ایک پلاسٹک کے نیلے رنگ کے ڈرم میں کاٹ کر چھپا دیا ۔لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے ملزم نے باپ کے سبھی موبائل فون بند کر دئے اور باپ کے گمشدہ ہونے اور خودکشی کرنےکی جھوٹی خبر پھیلادی ۔پولس نے سختی سے پوچھ گچھ کی اور کرائم سین کریئٹ کیا۔جس میںپولس کو اکشت کے جوابات میں شک ہوا ۔اپنے جوابات میں ملزم پھنس گیا ۔ پولس نے باپ کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیاہے ۔ملزم نے پولسسامنے اپنے جرم کو قبول کر لیا ہے۔فرنٹ ایڈیشن کو موصولہ اطلاعات کے مطابق لکھنئو میں 20 فروری کو سیکٹر ایل کے رہنے والے 49 سالہ مانویندر سنگھ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ان کے بیٹے اکشت کو اس جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اکشت پر الزام ہے کہ اس کے اعضاء کاٹ کر لاش کو ٹھکانے لگایا اور پارا جنگل میں پھینک دیا اور دھڑ کو اپنے گھر کے گراؤنڈ فلور پر ایک نیلے ڈرم میں چھپا دیا۔بتایا جاتا ہے کہ اس نے اپنے والد کے تینوں موبائل فون بند کر دیے اور محلے میں یہ افواہ پھیلائی کہ وہ غائب ہو گئے اورخودکشی کر لی ہے۔ 23 فروری کی صبح اس نے خود آشیانہ پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔جب تحقیقات شروع ہوئی تو سارا معاملہ سامنے آگیا۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ اکشت نے پوچھ گچھ کے دوران جرم کا اعتراف کرلیا۔ اس نے بتایا کہ اس کے والد نے اس پر مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے دباؤ ڈالاجبکہ ملزم پڑھائی میں عدم دلچسپی رکھتا تھا۔ اس سے ناراض ہو کر اس نے یہ قتل کردیا۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ مانویندر کے گھر میں چار مہینے پہلے چوری ہوئی تھی۔اس نے نوکرانی پر شک کرتے ہوئے پولیس سے شکایت کی تھی۔ بعد میں جب پتہ چلا کہ اکشت اس میں ملوث ہے تو انہوں نے اپنی شکایت واپس لے لی۔اسسٹنٹ پولیس کمشنر کینٹ ابھے پرتاپ مال نے کے مطابق پورے واقعہ کے بارے میں ملزمین سے کافی معلومات اکٹھی کی گئی ہیں۔ اس نے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ کئی نکات پر تحقیقات جاری ہیں۔ اس کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ملزم نے پولس کو بتایا کہ اس نے پہلے قتل کیا اور پھر لاش کو ٹھکانے لگانے کی نیت سے تیسری منزل سے نیچے گھسیٹ لایا۔ جسم بھاری تھا اس لیے وہ اسے باہر اٹھانے سے قاصر تھا۔وہ اپنی گاڑی گھر کے اندر لے گیا، لیکن لاش کو گاڑی میں نہ رکھ سکا۔ اس کے بعد وہ ایک ڈرم لایا اور کمرے کے اندر اپنے مردہ باپ کے ہاتھ پاؤں آری سے کاٹ ڈالے۔ اس نے باقی بچے ہوئے حصہ کوپولی تھین کے تھیلوں میں بھرااور ڈرم میں رکھ دیا۔پولس کے مطابق منگل کی دوپہر آشیانہ پولیس اکشت کے گھر پہنچی۔ اکشت کے رشتہ داروں سے تفتیش کیا اور جائے وقوعہ کا جائزہ لیا ۔اکشت کے دادا دادی اور دیگر رشتہ دار موجود تھے۔ پولیس اکشت کو تیسری منزل پر لے گئی۔اکشت نے بتایا کہ اس کے والد نے پہلے بحث کی اور گدے کے نیچے رکھی رائفل نکال لی۔ جب انہوں (باپ) نے رائفل نیچے رکھی تو اکشت نے اسے اٹھا کر گولی مار دی۔دوران تفتیش اس نے انکشاف کیا کہ وہ لاش کو جلانے کی نیت سے 40 لیٹر تارپین آئل اپنے ساتھ لایا تھا لیکن وہ ایسا کرنے سے پہلے ہی پکڑا گیا۔ اکشت کے دادا سریندر پال سنگھ راجاوت ایک ریٹائرڈ پولیس افسر ہیں۔اکشت کے چچا ایس ایس راجاوت بھی پولیس فورس میں ہیں۔ اکشت کے دادا دادی جالون کے صدر تھانے میں واقع ادے پورہ کے رہنے والے ہیں۔پڑوسیوں نے بتایا کہ مانویندر سب کی مدد کرتے رہتے تھے۔ان کے قتل کی خبر کے بعدلوگوں کا مانویندر کے گھر میںتانتا لگا رہا ۔ پڑوسی سریندر سریواستو اور الپنا سنگھ نے بتایا کہ مانویندر نے پڑوس میں ہر کسی کی مدد کی۔ انہوں نے ضرورت مند لوگوں کو مالی امداد اور طبی علاج فراہم کیا۔ انہوںنے رام لیلا کا بھی اہتمام کیا۔ اکشت نے رام لیلا میں راون کا کردار ادا کیا تھا۔مانویندر کے قتل کے بعد بہت سے ان سلجھے سوالات ہیں جن کے جواب ملنے باقی ہیں ۔اول یہ کہ گھر کی چھت پر وائی فائی ٹاور نصب ہے، اس کے باوجود گھر میں سی سی ٹی وی کیمرہ نہ ہونا سوالات کو جنم دیتا ہے۔وہیںاس پورے واقعے میں بیٹی کا کردار اور موجودگی واضح نہیں ہے۔ پولیس اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریزاں ہے۔پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ مانویندر کی بیوی نے 2017 میں زہر کھا کر خودکشی کی تھی، لیکن خاندان کا دعویٰ ہے کہ یہ قدرتی موت تھی۔صبح سویرے گولی چلائی گئی لیکن کسی پڑوسی نے گولی چلنے کی آواز نہیں سنی۔مانویندر کی لاش بہت بھاری تھی، تو اکیلے اکشت نے قتل کے بعد لاش کو کیسے نیچے گھسیٹ لیا؟بہرحال، پولس معاملے کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے جس کے بعد اورکئی انکشافات سامنے آسکتے ہیں۔
بیٹے نےباپ کاگولی مارکرقتل کیا ،لاش کے ٹکڑے کر کے ٹھکانے لگائے















Leave a Reply