Advertisement

جب شعور وجدان کی شکل اختیار کرجائے تو الہامی شاعری وجود میں آتی ہے: ڈاکٹر سراج الدین ندوی

بجنور : (پریس ریلیز) زبان وہ ہوتی ہے جس کو لکھا اور پڑھا جائے۔جسے طلبہ اپنے نصاب کا حصہ بنائیں۔ جب کسی زبان کو لکھنے اور پڑھنے والے کم ہوجاتے ہیں تو وہ زبان، زبان نہیں رہتی بلکہ بولی بن جاتی ہے۔آج یہی حال اردو کا ہے۔ اب اردو کے لکھنے اور پڑھنے والے کم ہورہے ہیں جب کہ اس کے بولنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کو زبان بنایا جائے۔ان خیالات کا اظہا ر عالمی شہرت یافتہ شاعر معین شاداب روانوی نے ادارہ ادب اسلامی ہند اترپردیش مغرب کی جانب سے منعقدہ ادبی نشست کے موقع پر اپنے خطبہ صدارت میں کیا۔ اس نشست کا انعقاد شبلی پبلک اسکول تاج پور ضلع بجنور میں 22جنوری کی شام کیا گیا تھا نشست کی سرپرستی ادارہ کے کل ہند نائب صدر اور معروف صحافی مولانا سراج الدین ندوی نے کی۔ موصوف نے شعراء و سامعین کا استقبال کیا اور شعر،شاعر اورشعور کی کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ جب کسی شاعر کا شعور وجدان کی شکل اختیار کرجاتا ہے تو اس پر شعر الہام ہونے لگتے ہیں،جیسا کہ علامہ اقبال ؒ نے شاعری کو جزو پیغمبری کہا ہے۔مہمان خصوصی ادارہ ادب اسلامی ہند کے آل انڈیا جنرل سکریٹری اور شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے پروفیسر ڈاکٹر خالد مبشر نے ادب اسلامی کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کوئی نظریہ،کوئی ازم شعروادب کے بغیر سماج میں انقلاب پیدا نہیں کرسکتا۔ اس ضمن میں مسلم شعراء و ادباء کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی تخلیقات کے ذریعہ اسلام کے افکار و نظریات کو فروغ دین اور باطل افکار پر صحت مند تنقید کریں۔صدر مجلس معین شاداب نے شمع روشن کی۔نشست کی نظامت ارشاد دھام پوری نے کی۔یہ نشست رات تین بجے تک جاری رہی۔دہلی اور یوپی کے مختلف مقامات سے تشریف لائے دودرجن شعراء نے اپنے کلا م سے سامعین کو نوازا۔ضلع بجنور کے مختلف مقامات سے اہل ذوق، سامعین ،شعراء کے کلام سے محظوظ ہوئے۔ سبھی شعراء کو دادوتحسین سے نوازاگیا۔نشست کے کنوینر نے کلمات تشکر پیش کیے۔اس موقع پر منتظمین کی جانب سے شعراء و سامعین کے لیے پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔مجلس کو کامیاب بنانے میں محمد طلحہ سراج،مولانا محمد ذوالفقار ندوی،قاری محمد گوہر،افنان سراج، ظفیر الدین ندوی اور اسکول کے اسٹاف نے قابل ذکر کاوشیں کیں۔نشست میں پیش کئے گئے کلام سے منتخب اشعار ہدیہ قائین ہیں۔
یونہی بھلائی کے حق میں بیان دیتے رہو
نمازی آئیں نہ آئیں اذان دیتے رہو
معین شاداب
ہم حسینی ہیں ملوکانہ اصولوں کے خلاف
اے یزیدی تری بیعت نہیں ہوگی ہم سے
ڈاکٹر خالد مبشر
اک تسلسل سے مرے سانسوں کا آناجانا
مجھ کو معبود کے ہونے کا پتا  دیتا ہے
انجم ہاپوڑی
سلیقے سے فضاؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
ماہر سیوہاروی
اپنی بستی میں جہاں جاؤوہاں بولتا ہے
لوگ کہتے ہیں کہ سناٹا کہاں بولتا ہے
ارشد ندیم
ہر قدم ہم پہ نازل ہوئیں
عشق میں وحشتیں خود بخود
امیر نہٹوری
نرم لہجہ بھی محبت بھی رواداری بھی
کتنی بھرپور ہے ظالم کی اداکاری بھی
تشنہ نگینوی
کس قدر منظر حسین و خوب تر ہوجائے گا
آئینے کے روبرو آئینہ گر ہوجائے گا
دانش نورپوری
دشمنوں کے وار سے آساں ہے بچ جانا مگر
دوستوں کے وار سے کوئی بچاسکتا نہیں
ضمیر اعظمی
منتظر تھے قلب و جگر بھی کب سے سونے تھے دیوارودر بھی
آپ کیا میرے گھر آگئے ہیں،ہر طرف روشنی ہوگئی ہے
نوشاد دھام پوری
ملک میں سیاست کا ایسا خوف طاری ہے
بولنے سے ڈرتے ہیں اب زبان والے بھی
ارشاد دھام پوری
اتری ہے سرکشی پہ ہوا جاگتے رہو
بجھنے نہ دو چراغ وفا جاگتے رہو
اشرف شیرکوٹی
میرے چہرے پہ دھول ہے لیکن
مجھ کو شیشے پہ دھول لگتی ہے
ویریندر بیتاب
بنا میک اپ کی ایک تصویر بھیجو
میں بچوں کو ڈرانا چاہتا ہوں
انور دھڑادھڑ
جو ہے بیکار دنیا میں بشر اچھا نہیں لگتا
نہ دے سایہ ثمرجو وہ شجر اچھا نہیں لگتا
محمد اسماعیل گوہر
دنیا ہے چار دن کی تو ہنس کر گزاردے
اے میرے ہم سفر تو ہمیشہ خوشی کی سوچ
راشد حمیدی
سب نے نوچے شاخ سے پھول
اپنے ہوں یا پرائے لوگ
کاظم سہنسپوری
مجھ کو منظور مجھ کو منظور ہے
بے گناہی کی جو بھی سزادو مجھے
شاہ نواز بجنوری
ان کے علاوہ سفیر صدیقی،قمر روانوی،نزاکت روانوی،دانش روانوی،ذکی تائب،خالد گوہر نے بھی اپنے اپنے کلا م سے نوازا۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے